گوریکوٹ استور میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی آگ سے مکان جل گیا، مکینوں کو بچا لیا گیا

استور(بیورو رپورٹ) استورکے ضلعی ہیڈ کواٹر گوریکوٹ دریال میں رات کے واقت بجلی کے شارٹ سرکٹ کے باعث عبدالرحمن نامی شخص کا مکان جل کر خاکستر ہوگیا تفصیلات کے مطابق رات کے گیارہ بجے عبدرلرحمن کے گھر میں بجلی کے شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اُٹھی اور آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے مکان کو اپنی لیپٹ میں لیا محلہ کے لوگوں نے اپنی جان پر کھیل کر گھر میں موجود تمام افراد کو بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ۔ بجلی کے شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی آگ کی شدت میں اضافے کی ایک وجہ گھر میں موجود سلنڈر گیس تک جب آگ پہنچی تو پورا محلہ دھماکے کی آواز سے گھونج اُٹھا آگ اس قدر شدت سے بھڑک اُٹھی تھی کی آگ نے پورے مکان کو تین گھنٹے کے اندر جلے ہوئے کچرے کا ڈھیر بنا دیا ۔آس پاس کیامحلے کے لوگوں نے رات بھر بجھانے کی بھر پور کوشش کرتے رہے اور آس پاس کے مکانوں میں آگ کو پھلنے سے بچانے میں کامیاب ہوئے تاہم جس مکان میں آگ لگی تھی وہ مکمل جل کر خاکستر ہوگیا متاثرہ شخص عبدالرحمن نے صحافیوں کو بتایا کہ رات کے تاریخی میں مکان پر بجلی کے شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی آگ نے میری پوری زندگی کی جمع پونجی کو ایک لمحے کے اندر ختم کردی اور میں قصائی کی دوکان میں ملازم ہوں قصائی کی دوکان میں دو دن سے ہونے والی سیل کے پیسے بھی میرے گھر میں ہی تھے کیونکہ دو دن سے بنک میں چھٹی تھی اس لیے پیسے گھر کے الماری میں تھے دو سے تین لاکھ روپے بھی جل کر راگ ہوچکے ہیں ۔ لیکن اللہ پاک کی میربانی سے گھر کے تمام افرد معجانہ طور پر بچ گئے ہیں ۔ آگ لگنے کی اطلاع کے بعد ڈپٹی کمشنر ولی خان نے متاثرہ مکان کا تفصیلی دورہ کیا اس موقعے پر ڈپٹی کمشنر نے استور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ شخص کو ٹینٹ، کمبل، سمیت ایشاء خوردونوش کا ریلف پیکج بھی دیا متاثرہ شخص کو بتایا کہ ہم اس حادثے کی مکمل رپورٹ بنا کر آگے کریں گے انشااللہ آپ کی جوبھی مد ہوگی ہم کریں گے اللہ کے کرام سے گھر میں لگنے والی آگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم مکان مکمل جلا کر خاکستر ہوچکاہے۔ ڈپٹی کمشنر ولی خان کی دریال میں آگ لگنے والے مکان کے دورے کے موقعے پر عمائدین گوریکوٹ اور دریال نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ استور میں فائر برگیڈ کا دفتر اور عملہ برائے نام ہے عملے کے ہونے یادفتر کے ہونے سے عوام کو کوئی مفاد نہیں ہے فائر برگیڈ کی گاڑی نا ہونے کے باعث عملہ بھی کسی کام کا نہیں ہے استور میں پہلے جو فایر برگییڈ کی گاڑی تھی وہ حکومت گلگت بلتستان نے استور سے واپس لیا ہے ایسے واقعات کو بھر واقت روکنے کے لیے فائر برگیڈ گاڑی کا ہونا لازمی ہے ہمارا مطابعہ ہے اگر فوری طور پر استور میں فائر برگیڈ کیا گاڑی کو نہیں لایا گیا تو اس مسلے کے حل کے لیے عوامی سطح پر شدید احتجاج کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر ولی خان نے احتجاج کرنے والے لوگوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ استور میں جو پہلے فائر برگیڈ کی گاڑی دی گئی تھی اس کو رپرینگ کا بہانہ بنا کر استور سے واپس لی گئی ہے جس لے لیے ہم نے باقاعدہ ہائیر اتھارٹی کو خط لکھ دیا ہے بہت جلد فائیر برگیڈ کی گاڑی کو استور میں واپس لایا جائے گا آپ کے مطالبعات جائز ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments