مارکیٹ مسمار کروانے پر ڈپٹی کمشنر ہنزہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، شاہراہ قراقرم آٹھ گھنٹوں‌تک بند

ہنزہ ( بیورو رپورٹ)  گزشتہ روز ضلع ہنزہ کے گاوں ڈورکھن میں ضلعی انتظامیہ نے مارکیٹ کو مسمار کیا، جس کے خلاف خواتین اور بچوں سمت عوام نے شاہراہ قراقرم پر احتجاجی دھرنا ، شاہراہ قراقرم ڈورکھن کے مقام پر 8گھنٹے سے زائد بند رہا، مسافروں اور روزہ داروں کو سخت مشکلات کا سامنا کر نا پڑا۔

احتجا جیوں نے شاہراہ قراقرم پر جگہ جگہ پتھر، لکڑیاں اور مختلف رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑک کو بند کردیا تھا۔ رکن قانون ساز اسمبلی رانی عتیقہ غضنفر علی اور مقامی جرگہ کی مداخلت پر احتجاج دھرنا ختم کر دیا گیا۔ دھرنے میں مختلف قسم کے سیاسی پارٹیوں کے رہنماوں کے علاوہ بزنس ایسوسی ایشن ، ٹرانسپورٹ یونین نے بھی احتجاج میں شریک ہوئے،احتجاج کے باعث شاہراہ قراقرم ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند رہی۔عوام نے احتجاجی دھرنے میں ضلعی انتظامیہ کے علاوہ صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔

اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے کھلی غنڈہ گردی کرتے ہوے تجاویزات کو آڑ بناتے ہوے قراقرم انٹر نیشنل یور نیورسٹی ہنزہ کیمپس کے لئے زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن عوام ان کے عزائم کو ناکام بنا دینگے۔

مقررین نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ گزشتہ ایک ہفتے سے کیمپس کی زمین کے لئے مذاکرات جاری تھے جس میں عوام نے کہا تھا کہ کے آئی یو کیمپس کے لئے جو زمین درکار ہوگی مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادا کرے یا زمین کے بدلے زمین فراہم کر دے تاکہ غریب عوام کہیں دوسرے جگہ زمین لے سکیں۔ مگر ضلعی انتظامیہ نے اس کے برعکس کام کرتے ہوئے تجاویزات کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے ڈورکھن عوام کے رہائشی امجد ایوب کے ہوٹل کو مسمار کیا جس کی ہم عوام ڈورکھن بھر پور انداز میں مذمت کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ایسے کاروائیوں سے عوام اور پرامن ہنزہ میں بدامنی پیدا کرنے کی سازش ہے جسکو ہم عوام انتظامیہ کی اس ناکام مقصد کوپورا نہیں ہونے د ئینگے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہمارے مطالبے نہیں مانتے شاہراہ قراقرم پر دھرنا جاری رہے گا۔

دھرنے سے رکن ممبر صوبائی اسمبلی گلگت بلتستان رانی عتیقہ غضنفر علی خان نے کہا کہ انتظامیہ عوام کے خدمت کے لئے ہوتے ہے ایس طرح کے چھوٹے چھوٹے مسائل حل کرنے کی بجائے الجھیں گے تو ہنزہ کا نام بدنام ہوگا۔ ہنزہ ایک پرامن علاقہ ہے یہاں پر سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہو گیاہے اس طرح کے غلط کاروائیاں کرتے ہوے ہوٹلوں کو مسمار کیا جائے گا تو عوام کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے مزید کہں کہ ہم اپ کے منتخب نمائندے ہے اپ کے مسائل حل کرنے کے لئے ہم اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں اپ کے آواز کو ہم اسمبلی میں اٹھائے گے اور اپ کے جائز مطالبات کو حل کرنے کے لئے عوام کے ساتھ کھڑے رہ ۔ضلعی انتظامیہ جن جس انداز میں کام کیا اس ہم اسمبلی سطح پر بھی نوٹس لینگے اور ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائینگے۔

رانی عتیقہ غضنفر اور جرگہ کی یقین دہانی پر احتجاج 8گھنٹے بعد ختم کر دیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments