وزارت خارجہ نے ایک بار پھر گلگت بلتستان کو متنازعہ علاقہ قرار دیا

اسلام آباد(فدا حسین )وزارتِ خارجہ نے ایک مرتبہ پھر گلگت بلتستان کو متنازعہ علاقہ قرار دیا ہے۔جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان اس پورئے خطے کو متنازعہ سمجھتا ہے اگر بھارت کو یقین ہے کہ کشمیر کے لوگ بھارت کے حق میں ووٹ دیںگے تو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی میں رائے شماری کرائیں جس سے بھارت بھاگ رہا ہے پاکستان نہیں ۔ترجمان نے بھارت کو معاملے کو حل کرنے کے لئے آگے آنے کی دعوت دی ۔ترجمان نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کا پاکستان میں شامل ہونے کا معاملے تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ اقوام متحدہ کے سیکورٹی کونسل کے قراردادوں کے تحت استصواب رائے نہ ہونا ہے۔اور پاکستان اقوام متحدہ کے قراردادوں کا تسلیم کرتا ہے جبکہ بھارت ان قراردادوں سے سے بھاگ رہا ہے۔ہمیںیقین ہے کہ استصواب رائے ہونے کی صورت میں گلگت بلتستان ،آزاد کشمیر کے لوگوں کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے لوگ بھی پاکستان میں شامل ہوں گے ۔ ترجمان نے گلگت بلتستان آرڈر 2018پر بھارت کے اعتراض کو بے سر و پا قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حقوق کے تعین کے لئے سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی رپورٹ کو منظر لانے کے لئے کوئی خوف نہیں ہے تاہم اس حوالے مزید تفصیلات کے لئے سرتاج عزیز سے ہی رابطہ کیا جائے ۔

واضح رہے کہ ترجمان گزشتہ مہینے میں انہوں نے اپنے آپ مذکورہ کمیٹی سے سیکریڑی تسلیم کیا تھا ۔یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ دفتر خارجہ کے زیر اہتمام اسلام آباد میں کشمیر کے حوالے سے منعقدہ سیمنار کے موقع پر مقبوضہ کشمیر سے آئے ہوئے ایک مہمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ابھی کشمیریوں سے اس حوالے سے ان رائے پوچھی نہیں گئی ہے جب پوچھا جائے گا تو جواب دیا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں آیا وہ پاکستان میں، بھارت میں یا الگ ریاست چاہتے ہیں ۔دوسری طرف گلگت بلتستان کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ڈوگرہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہوا اس لئے انہیں آئینی طور پر پاکستان کا حصہ بنانا چاہے ۔ اس سے پہلے ترجمان نے اپنے اوپنگ ریمارکس دیتے ہوئے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین 9جون سے 11جون تک دو روزہ دورہ چین کا دورہ کر رہے ہیں جہاں پر شنگہائی تعاؤن تنظیم میں شرکت کریں گے انہوں نے اس موقع کسی بھارت عہدار سے ملاقات کا خارج از امکان قرار دیا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments