غذر، نگر، ہنزہ اور دیامر پر مشتمل علیحدہ صوبے کا قیام عمل میں‌لایا جائے، گلگت آئینی حقوق تحریک کا مطالبہ

گلگت ( بیورو رپورٹ)گلگت آئینی حقوق تحریک نے گلگت غذر، نگر ہنزہ اور دیامر پر مشتمل علحیدہ صوبے بنانے کا مطالبہ کر دیا۔ استور اور بلتستان کو مسئلہ کشمیر کا فریق سمجھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے تصفیہ تک متنازعہ رکھا جائے۔ مسئلہ کشمیر کے تصفیہ کے بعد یہ دونوں علاقے چاہیں تو ہمارے ساتھ دوبارہ شامل ہو سکتے ہیں۔

یہ مطالبہ نوزائیدہ تحریک آئینی حقوق گلگت کے چئیرمن شرافت خان اور برہان ولی ایڈوکیٹ نے گلگت پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

انہوں نے کہا کہ خنجراب سے گلگت اور دیامر تک کا علاقہ مبینہ طور پر کشمیر میں شامل ہونے کی وجہ سے متنازعہ قرار دیا جاتا ہے جو کہ حقیقت کے برخلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغلوں اور ان سے پہلے کے حکمرانوں کے دور حکومت میں یہ علاقے کبھی بھی کشمیر کا حصہ نہیں رہے۔ ہنزہ، نگر، گلگت، غذر یاسین اور اشکومن سے چترال تک دریائے سندھ کے دائیں طرف یہ علاقے باہم یکجا رہے جبکہ چلاس داریل تانگیر کا شمار قبائلی علاقے میں ہوتا تھا ان دونوں علاقوں میں سے کوئی بھی علاقہ کبھی بھی مہاراجہ کشمیر کے ماتحت نہیں رہا اور نہ ہی کشمیر اسمبلی میں ان علاقوں کو نمایندگی دی گئی۔

انہوں نےمزید کہا کہ انگریزوں اور مہاراجہ کے درمیان ہونے والا معاہدہ امرتسر دریائے سندھ کے مشرقی علاقے تک محدود تھا اس میں گلگت سے چترال تک دریائے سندھ کے مغربی کنارے شامل نہیں تھے دریا ئے سندھ کے مشرقی اور بائیں جانب کے علاقے استور سے بلتستان سکردو کارگل لداخ تک کشمیر اسمبلی میں نمائندگی رکھتے تھے جبکہ گلگت چلاس کوہستان عذر گوپس اشکومن یاسین چترال اور ہنزہ نگر کو کھبی بھی کشمیر اسمبلی میں نمائندگی حاصل نہیں رہی اس لیے جب یہ علاقے کشمیر اسمبلی میں شامل ہی نہیں رہے تو پھر انہیں کشمیر کی نسبت سے متنازعہ علاقہ کہنا کیسے درست ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے سی پیک معاہدے سے ہنزہ گلگت اور دیامر سے شاہراہِ ریشم اور گوادر تک کے راستے میں واقع علاقوں میں پاکستان کی صنعتی اور اقتصادی ترقی یقینی ہے اس لیے جب سے سی پیک پر عمل درآمد شروع ہؤا ہے تب سے بھارت اور دیگر ہمسائیہ ممالک امریکہ کی سر پرستی میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اس کی مخالفت میں پوری طرح سرگرم ہوگئے ہیں انہوں نے کہا کہ سی پیک کے خلاف ہونے والی سازشوں سے نمٹنے کے لیے دریائے سندھ کے مغربی کناروں پر آباد گلگت غذر ہنزہ نگر اور دیامر پر مشتمل پاکستان کا ایک علحیدہ آئنی صوبہ بنایا جائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر اسلام آباد طرز پر قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی دی جائے اور ان علاقوں کے بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیکر سی پیک سے منسلک کر دیا جائے اس سے جہاں سی پیک میں مخالفین کے بےجا اعتراضات اور تعصب پر مبنی تحفظات ختم ہونگے وہاں بھا شا دیامر ڈیم بھی پاکستانی حدود میں غیر متنازعہ ڈیم سمجھا جائے گا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments