وادی چھوربٹ‌کو سب ڈویژن بنایا جائے، رکن گلگت بلتستان کونسل سلطان علی خان کا پریس کانفرنس میں‌مطالبہ

گلگت ( سٹاف رپورٹر)ممبر جی بی کونسل سلطان علی خان اورمیڈیا کوائینٹر وزیراعلیٰ راشد ارشد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وادی سکسا چھوربٹ ضلعی ہیڈکوارٹر سے ساٹھ کلو میٹر دور جغرافیائی اور دفاعی اہمیت کا حامل وسیع آبادی پر مشتمل لائن آف کنٹرول سے متصل تاریخی ،تہذیب وتمدن کے اعتبار سے پورے گلگت بلتستان میں منفرد علاقہ ہے اور خاص طور پر علاقہ چھوربٹ سکسا کی قدیم زمانے سے ایک پہچان ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ علاقے کے دفاعی و جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر 1974میں جب وزیراعظم پاکستان ذولفقار علی بھٹو مرحوم نے گلگت بلتستان میں ضلع گانچھے اور ضلع کا قیام غذر کا قیام عمل میں لایا گیا تو اُس وقت اس علاقے کے صدر مقام سکسا میں نائب تحصیل آفس کا قیام عمل میں لایا گیا جو اب تک پچھلے 44سالوں سے قائم ہے جبکہ اسی ضلع گانچھے میں مشہ بُروم سب ڈوثیرن اور ڈغونی سب ڈوثیرن بہت بعد میں بنے ہیں جن کا خپلو ڈڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر سے مسافت 20یا 25کلو میٹر کی دوری پر ہے ۔ اس دوران گلگت بلتستان میں مختلف وادیوں کو بھی اضلاع کا درجہ دیا گیا ہے ۔ مشلا ضلع ہنزہ نگر ، شگر اور کھرمنگ علاوہ ازیں کئی سب ڈوثیرن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جو کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے وثیرن اور سوچ کے تحت گلگت بلتستان کے 4اضلاع کا قیام عمل میں لا یا گیا اس طرح گلگت بلتستان کے طول وعرض میں انقلابی اقدامات کے تحت تعلیم ، صحت اور افراسٹرکچر کے شعبوں میں تاریخی اقدامات اُٹھا ئے ہیں۔ گلگت بلتستان روڈ ، بلتستان یونیورسٹی ، چھومک پل ، سکرود ایکپسریس وئے اس طرح شگر ، کھرمنگ میں اربوں روپوں کے پراجیکٹ ، گانچھے میں کریس ، ڈغونی ، سلینگ، سرمو ، ہلدی اور مچلو آر سی سی پل ، خپلو گریٹر واٹر سپلائی ، ڈویثنل پبلک سکول ، خپلو سٹی پارک ، خپلو سٹی ڈویلپمنٹ پروگرام اور اس طرح اربوں کے منصوبوں پر کام کاآغاز ہو چکا ہے۔اب ہماری نظریں وزیراعلیٰکی طرف لگی ہوئی ہے کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان چھوربٹ کو سب ڈوثیرن کا جلد اعلان کر کے وہاں کے عوام کی احسا س کمتری کا ازالہ کرینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ 44سال سے چھوربٹ کے عوام سب ڈوثیرن کے انتظار میں ہیں تاکہ چھوربٹ ایک ترقی یافتہ علاقے میں شمار ہو ۔ ہماری وزیراعلیٰ سے اپیل ہے کہ جلد از جلد چھوربٹ کے عوام کی مشکلات کا ازالہ کرے۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments