خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

 تحریر :محمد رضا علی
گلگت بلتستان سیاحوں کیلئے جنت ہے ان دنوں گلگت بلتستان کے تمام سیاحتی مقامات سیاحوں سے بهرے ہوئے ہیں، ہوٹلوں میں ٹھہرنے کی جگہ نہیں اور سیاح کهلی جگہ ٹینٹ لگا کر رات بسرکررہے ہیں -صوبائی حکومت اس سلسلے میں بہتر سہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات کر رہی ہے اور ساتھ میں یہ بات بھی ہے کہ گلگت بلتستان کے مقامی افراد بھی سیاحوں کی بھر پور مدد اور تعاون کر رہے یہی ہماری پہچان اور خوبصورتی ہے- کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو گلگت بلتستان سے صرف خوبصورتیاں سمیٹ کر آتے ہیں۔ کیا کروں نہ جانے کیسے فطرت کے نظاروں کے ساتھ ساتھ دھرتی کے سینے میں چھپی چیخیں، دِلوں میں بسی آہیں، اور آنکھوں کی پتلیوں سے جھانکتی محرومیاں میرے دل تک رسائی حاصل کر لیتی ہیں-ایک، دو، چار، دس سال نہیں پورے ستر برس سے گلگت بلتستان شدید استحصال کا شکار ہے۔ قائداعظم کی رحلت کے بعد بندر بانٹ اور اداروں کے درمیان سوکنوں کی لڑائی میں کسی حکومت کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ ریاست کے مسائل اور معاملات کی طرف توجہ دے۔
مجموعی طور پر قانون سازی کی بجائے ساری سیاسی اور فوجی حکومتوں کی توجہ گلیاں پکی کرانے جیسے معاملات اور وقتی الجھنوں کو سلجھانے تک محدود رہی۔ گلگت بلتستان کی ایک نسل قانون سازی اور اپنے حقوق کی خواہش لئے دنیا سے رخصت ہو چکی ہے۔ اب خواب دیکھنے والوں کی آنکھوں میں اداسی ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ اداسی مایوسی اور بے بسی میں ڈھل جائے اس علاقے کے مسائل کی طرف حکومتِ پاکستان کو بھرپور توجہ کی ضرورت ہے۔ ویسے جس قدر اس صوبے میں پہاڑوں کے بیچ بہتے دریائوں اور چشموں کے حسین مناظر ہیں وہاں ہوٹل آباد کر کے انہیں سیر گاہوں کی حیثیت دے کر سیاحت کو فروغ دیا جائے تو یہ امیر ترین صوبہ بن سکتا ہے۔ سیاحت کے فروغ اور اس علاقے کے باقی ملک سے کٹا ہونا دشوار گزار سڑکوں اور ہوائی سفر میں ناقص سہولتیں سب سے بڑا سبب ہے-ہوائی سفر میں آج کل پی آئی اے جس طریقے سے غریب عوام کو لوٹ رہے ہیں وہ حیران کن ہے طیارے میں زیادہ تر سرکاری افسران اور سیاست دان ہی سفر کرتے ہیں۔ سیاحت کے لئے جانے والے اور مریضوں کو کئی کئی دن سیٹ کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ یہاں پی آئی اے کے علاوہ اور بھی کمپنیوں کو اجازت جائ ۔ سرمایہ کاروں کو یہاں مختلف فیکٹریاں لگانی چاہئیں تا کہ علاقے کے لوگوں کو روزگار میسر ہو اور خوشحالی کی طرف سفر آغاز ہو۔ جب یہ صوبہ ترقی کر جائے تو اس پر ٹیکس لاگو کر کے دیگر صوبوں کے برابر حیثیت دی جائے۔ قانونی معاملات کو نظر انداز کرنے سے نہیں حل کرنے سے بات بنتی ہے۔ جس ملک میں حکومت کو توسیع دینے کے لئے ریفرنڈم ہو سکتے ہیں وہاں ان علاقوں کے بارے میں قانون سازی کیوں نہیں ہو سکتی۔
اس علاقے کے لوگوں کے پاس مادی دولت کم ہے مگر ان کی خود داری میں جو وقار ہے وہ بادشاہوں کو نصیب نہیں۔ جذبوں کی فراوانی اور قوت ارادی کا یہ حال ہے کہ 1947ء میں بے سروسامانی یعنی جنگی اسلحے کی غیر موجودگی میں ڈوگرہ راج کو یہاں سے نکال کر پاکستان سے وابستگی کا اعلان کر دیا۔ ان کی حب الوطنی کا تقاضا یہ کہ اکثریت پاکستانی فوج میں بھرتی ہونے اور ملک کا دفاع کرنے پر فخر کرتی ہے۔ کارگل جنگ میں یہاں کے بہت سے جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ہندوستان کی چالیں زمانے سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں ڈالنے اور چین سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری خصوصاً گوادر پورٹ ہندوستان اور کئی بڑی طاقتوں سمیت ہمارے کئی دوست مسلمان ملکوں کی آنکھوں میں شہتیر کی طرح چبھتی ہیں کیوں کہ گوادر کی وجہ سے ان کے مفادات کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ وہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے کچھ زر خرید لوگوں سے بیانات دلوا کر جنیوا میں بورڈ لگواتے رہتے ہیں لیکن اب ہم دشمنوں کی چالوں سے آگاہ ہو چکے ہیں اور ہماری یکجہتی میں دراڑ ڈالنا کسی کے بس میں نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی مثالیں قائم کر رکھی ہیں مگر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں بلکہ عالمی ضمیر نے مسلمان کے استحصال کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہندوستان کے غلام ہیں کہ اپنا ہر معاملہ اس کی اجازت اور پسندیدگی کو مدنظر رکھ کر طے کریں یا اس یو این او سے امید باندھے رکھیں جسے کشمیر، برما، فلسطین، افغانستان اور دیگر اسلامی ملکوں میں لگی آگ نظر آتی ہے نہ وہاں کے مظلوموں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔
گلگت بلتستان کی عوام مایوسی کی آخری حدود کو چھو رہی ہے اور خطے میں بغاوت دستک دے رہی ہے-
ریاست کو فوری طور پر گلگت بلتستان کو جائز حقوق دینے کا اعلان کرنا چاہئے۔آئیے ہم سب مل کر اس جدوجہد کا حصہ بن جائیں۔ ہم حکومت کو قائل کریں کہ وہ جمہوری اقدار کی پاسبانی کرتے ہوئے قانون میں درج جمہور کے حقوق اور اختیارات ہمیں سونپ دے۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments