’روداد انگور ڈے اور محفل مشاعرہ‘‘

جمشید خان دکھی

03 ستمبر 2018 کو پیر کے دن ڈاکٹر انصار مدنی صاحب نے اپنے دولت خانہ واقع خومر گلگت میں عروج سخن فورم اور حلقہ ارباب ذوق(حاذ) گلگت کے تعاون سے ’’چوتھا سالانہ انگور ڈے‘‘ کا اہتمام سہ پہر پانچ بجے کیا جس میں حلقہ ارباب ذوق کے صدر پروفیسر محمد امین ضیاء، نائب صدر خوشی محمد طارق، محمد نظیم دیا، غلام عباس نسیم، احمد سلیم سلیمی ، اشتیاق احمد یاد، یونس سروش ، میزبان ڈاکٹر انصار مدنی اور راقم جمشید خان دکھی شریک ہوئے۔اس تقریب کے مہمان خصوصی وائس چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی (KIU) پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ تھے۔اس موقع پر شعراء کرام نے اپنا منتخب کلام پیش کیا۔جناب غلام عباس نسیم نے نظامت کے فرائض سر انجام دئے۔جناب وائس چانسلر اور دیگر سنئیر شعراء نے اپنے ہاتھوں سے چھت کے اُوپر لٹکتے ہوئے انگور کے گچھے کاٹ کر’’ انگور ڈے‘‘ کا افتتاح کیا اور بعد ازاں انگور اور دیگر طعاموں سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔ محفل مشاعرے کے آخر میں اظہار خیال کرتے ہوئے حاذ کے صدر پروفیسر محمد امین ضیاء نے میزبان ڈاکٹر انصار مدنی کا اس تقریب کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔آپ نے وائس چانسلر کی اس تقریب میں شرکت پر بھی بے حد خوشی کا اظہار کیا۔آپ نے وائس چانسلر صاحب کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ قبل از یں قراقرم یونیورسٹی میں ادبی پروگرام ہوا کرتے تھے بالخصوص ڈاکٹر عزیزعلی نجم کے دور میں کئی پروگرام ہوئے لیکن انکے جانے کے بعد اس سلسلے میں کوئی قابل ذکرپیش رفت نہیں ہوئی۔ مہمان خصوصی وائس چانسلر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا تعلق ایک علمی گھرانے سے ہے۔بڑے بیٹے کی حیثیت سے اپنے والد کے علمی سرمایہ سے بہت کچھ حاصل کیا۔فارسی پڑھی اور لکھی بھی اور شاعری کا شغف بھی ہے۔انہوں نے مذید کہا کہ نوجوانوں میں ادب شناسی کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔آپ نے کہا کہ نوجوان نسل کو تعلیم کے ساتھ ساتھ لٹریچرسے بھی آگاہ کرنے کے لئے اقدامات کرینگے۔جب تک ہم ادب سے لگاؤ نہیں رکھیں گے انسان ایک مشین بن کر رہ جائے گالہٰذا ادب سے نئی نسل کی آگاہی ضروری ہے۔ مجھے آپ لوگوں کے ساتھ اس سادہ اور پر وقار تقریب میں شرکت کر کے جو لطف آیا اتنا لطف مجھے کسی اور محفل میں نہیں آیا۔ آپ نے یوم دفاع کے موقع پریعنی 6 ستمبر 2018 کو یونیورسٹی میں حاذ کے تعاون سے ایک محفل مشاعرہ کے انعقاد کا اعلان بھی کیا۔آخر میں میزبان ڈاکٹر انصار مدنی نے تمام شرکاء محفل کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ بھی اس طرح کی محافل کے انعقاد کی یقین دہانی کرائی۔’’ہم اور سچ ٹی وی‘‘ کے نمائندوں نے پروگرام کی ویڈیو کوریج بھی کی۔

حسب اعلان 6ستمبر 2018کو دن کے ایک بجے یونیورسٹی کے مشرف ہال میں یوم دفاع کے حوالے سے محفل مشاعرہ منعقد ہوئی جس میں نظامت کے فرائض مسز فضہ انصار مدنی نے سر انجام دیے۔وائس چانسلر صاحب ایک اور اہم میٹنگ میں مصروف ہونے کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے اس لئے جناب سادات شیر خان نے یونیورسٹی کی نمائندگی کر تے ہوئے محفل میں شرکت کی۔ انہوں نے آخر میں اپنے خطاب میں حاذ کے تمام شعراء کرام اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔طلبا و طالبات کی کثیر تعدا د نے مشاعرے میں شرکت کی۔ جو شعراء کرام اس محفل میں شریک ہوئے ان میں جناب عبدالخالق تاج، محمد نظیم دیا، اشتیاق احمد یاد، یونس سروش، غلام عباس نسیم، ناصر نصیر، طاہرہ رضوی، رضا عباس تابش، رحمان آہی اور جمشید خان دکھی کے نام شامل ہیں جبکہ یونیورسٹی کے طلباو طالبات نے یوم دفاع کے حوالے سے ملی نغمے بھی پیش کئے ۔اس موقع پر معروف افسانہ نگار احمد سلیم سلیمی نے اظہار خیال کرتے ہوئے طلبا و طالبات پر زور دیا کہ وہ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیں۔اس سے یقیناً ہمارے ماحول پرخوش گوار اثرات مرتب ہونگے۔پروگرام کے آخر میں شعراء کیلئے لائٹ ریفریشمنٹ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ لائٹ ریفریشمنٹ کے دوران وائس چانسلر صاحب نے بھی جوائن کیااور حاذ کے شعراء سے گھل مل گئے۔آپ نے اس موقع پر بھی ادبی پروگراموں کی افادیت اور ضرورت پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے آئندہ ادبی تقریبات کے انعقاد کی یقین دہانی کرائی۔اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’علاقائی کلچر کو دبانے اور مذہب اور قومیت کے نام پر ان کی نفی کرنے سے اکثر بڑے گھمبیرمسائل جنم لیتے ہیں جن میں طبقاتی بے چینی اور سیاست دانوں کے ہاتھوں استحصال شامل ہیں۔نیز ان کے علاوہ علیحدگی پسند تحریکوں کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔مختلف صوبہ جات میں موجود علیحدگی پسند تحریکیں بھی اسی کا شاخسانہ ہیں۔من حیث القوم علاقائی تہذیبوں کے بارے میں ہمارا رویہ اور اپروچ منفی سوچ کی عکاس ہے۔جب تک یہ سوچ ایک روشن خیال اور متحرک سوچ میں تبدیل نہیں ہوتی اس وقت تک پاکستان کے سماجی منظر نامہ میں کوئی ڈرامائی تبدیلی ممکن نہیں‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments