سرکاری سکولز بہتری کی جانب گامزن

اشرف حسین اشرفؔ

تعلیم کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ تعلیم ہی قوموں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ دنیا چاند پہ اپنے قدم ثبت کرنے کے بعد کائنات کے دورودراز گوشوں میں زندگی کے امکانات کی تلاش اور ضروری تحقیق کے لیے سرگرداں ہے، یہ کون ہیں؟ کون نہیں جانتا یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے تعلیم اور نظامِ تعلیم کی قدر کی اور زمانے کے تقاضوں سے اپنے نظامِ تعلیم کو ہم آہنگ کیا۔اس کے برعکس جو اقوام پستی کی جانب جارہی ہیں، ان کے ہاں تعلیم اور تعلیمی نظام کو اہمیت ہی نہیں دی جاتی۔

قانونِ قدرت ہے کہ جو قوم اپنی بہتری کی کوشش نہیں کرتی ان کی حالت معجزوں سے نہیں بدل سکتی۔ہماری پستی کو ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ سمجھنا چاہیے۔

ہمارے ہاں تین طرح کے تعلیمی ادارے پائے جاتے ہیں۔ سرکاری ،نجی اور مذہبی تعلیمی اداروں میں ملک کے کروڑوں بچے زیرِ تعلیم ہیں۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ تینوں ادارے اپنی اپنی بساط کے مطابق فروغِ علم میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ طبقاتی نظامِ تعلیم کی بجائے یکساں نظام اور نصابِ تعلیم کی کوششیں ثمر آور ہوتیں۔ یہ ملک تب ہی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکتا ہے جب قوم کے تمام بچوں اور جوانوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔

اس کالم میں سرکاری سکولوں میں بتدریج آتی بہتری کا تذکرہ مقصود ہے۔ یہاں اس حقیقت کے اقرار میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ایک مدت تک سرکاری تعلیمی اداروں کو وہ توجہ نہیں دی گئی جو انہیں زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ضروری تھی، تاہم موجود حکومت کو یہ اعزاز دیا جانا چاہیے کہ حکومت سنبھالتے ہی محکمۂ تعلیم کی ساکھ کی بحالی کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے گئے۔

کرپشن کے خاتمے کے لیے عملی کام کیا گیا،سیاسی مداخلت بہت کم ہوگئی،این ٹی ایس اور ایف پی ایس سی کے ذریعے لائق اور اہل اساتذہ بھرتی کئے گئے۔ سکولوں میں مانیٹرنگ کا نظام موثر بنایا گیا۔ اکیڈیمک کیلنڈر کے مطابق سکولوں میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے مقرر کردہ اہداف کے مطابق انعقاد کو یقینی بنانے کی سنجیدہ کوششیں کی گئیں۔ماہانہ ٹیسٹ،پراگریس رپورٹس، پی ٹی ایمز کے انعقاد باقاعدگی کے ساتھ ہوتا رہا۔ مفت کتابوں کی فراہمی کے ذریعے والدین کا بوجھ ہلکا کیا گیا۔ یہی وہ اقدامات ہیں جن کی وجہ سے سرکاری سکولوں میں بتدریج بہتری آتی گئی۔ آج یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ سرکاری سکول مفت میں بہتر تعلیم فراہم کررہے اور معاشرے میں علم و شعور کی فراہمی میں اپنا کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔

گلگت بلتستان کے طول و عرض میں سرکاری سکول موجود ہیں۔حکومت سکول بنا کر دے سکتی ہے لیکن سکولوں کی کامیابی کے لیے سکول انتظامیہ اور معاشرے نے مل کر کام کرنا ہوتا ہے۔ سکول انتظامیہ اور معاشرے کے باہمی روابط کو مضبوط کرنے کے لئے ہر سکول میں پی ٹی اے(Parents Teachers Association) موجود ہے ۔ اس تنظیم کا مقصد یہ ہے کہ تمام ذمہ داران مل کر اپنے اپنے علاقے میں بہترین تعلیمی ماحول فراہم کریں۔

سکولوں میں بہترین تعلیم کی فراہمی کی پوری کوشش کے باوجود اگر نتائج سامنے نہ آئیں تو افسوس کا اظہا ر کیا جانا چاہیے۔ دیکھا جائے تو تعلیم کی بہتری کے لیے سکولوں کے علاوہ گھروں اور معاشرے کا ماحول بھی بہتر ہونا ضروری ہے۔ طالب علم سکول میں صرف پانچ یا چھ گھنٹے گزارتا ہے جبکہ اس کا باقی وقت گھر اور معاشرے میں گزرتا ہے۔کیا ہی اچھا ہو کہ سکول،گھر اور معاشرہ اپنی اپنی ذمہ داریاں بہ احسن ادا کرے۔

اس دور میں جہاں مہنگائی نے لوگوں کو جکڑ رکھا ہے، ایسے میں مفت اور بہتر تعلیم کسی نعمت سے کم نہیں۔سرکاری سکول قوم کے مستقبل کے معماروں کی تعلیم و تربیت کے لیے اپنی بانہیں پھیلائے کھڑے ہیں۔’’ تعلیم سب کے لیے ‘‘کے نعرے کے مطابق یہاں بلا تخصیص سب کو داخلہ مل جاتا ہے۔اہل،شفیق ، محنتی اور قوم کی خدمت سے سرشار اساتذۂ کرام قوم کے معماروں کی تدریس کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ویسے بھی سرکاری تعلیمی اداروں کی طرف انگلیاں اٹھانے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ آج معاشرے میں جتنے بھی نامور لوگ ہیں سب انہی اداروں کا حصہ رہے ہیں۔نجی و سرکاری سکولوں کی تفریق سے پہلے یہی سکول ہی تمام تر تشنہ گانِ علم کی پیاس بجھاتے تھے، آج بھی یہ تعلیمی ادارے بہتر تعلیم فراہم کررہے ہیں۔

جیسا کہ سطورِ بالا میں تذکرہ ہوچکا ہے کہ سرکاری سکول لوگوں کے اپنے سکول ہیں۔ان تعلیمی اداروں کی بہتری حکومتی اقدامات، سکول انتظامیہ کی کاوشوں اور عوام کی شمولیت سے جڑی ہوئی ہے۔ہم سب کو چاہیے کہ اپنے ان اداروں پر اعتماد کریں اور معاشرے کی ترقی کے لیے مل جل کر کام کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments