سب ڈویژن یاسین میں‌ترقیاتی عمل جمود کا شکار

یاسین (رپورٹ معراج علی عباسی ) صوبائی حکومت کی کمزورانتظامی حکمت علی کے باعث سب ڈویژن یاسین میں تعمیروترقی کا عمل گزشتہ دو سالوں سے جمود کا شکار ہے ۔ وفاقی حکومت کے جانب سے علاقائی تعمیروترقی کے لے ممبران اسمبلی کوبروقت فنڈفراہم کرنے کے باوجو کمزورانتظامی حکمت عملی کی وجہ سے عوامی مفاد کے حامل منصوبوں پرکام شروغ نہیں ہوسکیں ۔ ن لیگ کے تین سالہ اقتدار حکومت میں شب ڈویژن یاسین کوایک بھی میگاپراجیکٹ نہیں ملا۔ن لیگ کے صوبائی حکومت نے ایک سے زیادہ مرتبہ اعلان کرنے کے باوجود گوپس تایاسین مین روڑ کے میگامنصوبے کو گلگت بلتستان کونسل کے سر پے ڈال کر منصوبے کے تعمیرسے ہاتھ اٹھالیا ہے ۔مسلم لیگ ن کے تین سالہ حکومت کے دوران یاسین میں صرف سال 2016کے اے ڈی پی میں منظورشدہ ترقیاتی منصوبوں پر کام ہوا ہے ۔ جبکہ سال 2017.18کے لیے مختص بجٹ کی منظور ی اور ممبران اسمبلی کے جانب سے درجنوں ترقیاتی منصوبوں کے نشاندہی اور کاغذری کاروئی مکمل ہونے کے باوجود اپ تک کسی ایک منصوبے کا بھی ٹینڈر نہیں کیا جاسکا ۔سال 2017-18کے بجٹ میں سب ڈویژن یاسین کے اندار عوامی اہمت کے حامل درجنوں اہم منصوبے جن میں پینے کے صاف پانی ،سڑکیں ،ڈسپنسریاں وغیرہ کے پی سی ون منظورہونے کے بعد ایڈمن اپرول نہ ملنے کے وجہ سے تمام منصوبے تاخیر کے شکار ہوگئے ہیں۔ممبران اسمبلی کے جانب سے اپنے اپنے حلقوں سے منصوبوں کی نشاندی اور متعلقہ محکموں کے جانب سے منصوبوں کے پی سی ون تیار کرنے اور وفاقی حکومت کے جانب سے منصوبوں کے لیے بجٹ فراہم کرنے کے باوجود عوامی مفاد کے منصوبے بروقت شروغ نہ ہونا صوبائی حکومت کے کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ،چیف سیکرٹری گلگت بلتستان عوامی اہمت کے منصوبوں میں تاخیرکا نوٹس لیتے ہوئے منظورشدہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنا کردارادا کرئے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments