من گھڑت خبر کے ذریعے میرے خاندان کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی، قانونی کاروائی کریں گے، میر غضنفر

اسلام آباد (پ ر) گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان نے گزشتہ روز مقامی اخبار میں شائع ہونے والی خبر ” گورنر میر غضنفر کے ذریعے سی پیک کو ناکام بنانے کا گھناونا منصوبہ بے نقاب “کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں ۔ ایسے من گھڑت خبریں مجھے اور میر خاندان کو بدنام کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے ۔گورنر گلگت بلتستان نے کہا کہ میں سوچ بھی کیسے سکتا ہوں کہ اس میگا منصوبے کے خلاف کوئی سازش کروں ۔ سی پیک کی کامیابی کے لیئے ہمہ وقت کوشاں ہوں اور اس منصوبے کی تکمیل سے وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی کا ایک نیا دورشروع ہوگا ۔

گورنر گلگت بلتستان نے کہا کہ اس خبر میں ملک کے مقتدر اداروں کے متعلق جو بیان مجھ سے منسوب کیا گیا ہے ان کی میں سختی سے تردید کرتا ہوں ۔۔ اس خبر میں لکھا گیا ہے کہ سی پیک، وطن عزیز اور افواج پاکستا ن اور دیگر مقتدر اداروں کے خلاف میٹنگ کی گئی، یہ محض جھوٹ پر مبنی ہے۔ پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور اس کی سا لمیت کے لیئے ہماری جان بھی حاضر ہے ۔ہمارے آبا و اجداد نے اپنی مدد آپ کے تحت گلگت بلتستان کو آزاد کر کے بغیر کسی شرط کے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور وطن عزیز کے لیئے بے پناہ قربانیاں بھی دی ہیں اور قراقر م ہائے وے کی تعمیر اور پاکستان اور چین کے مابین تعلقات استوار کرنے میں میرے والد میر جمال خان کا اہم کردار تاریخ کا حصہ ہے اور ان کی خدمات کے صلے میں ان کو میجر جنرل کا اعزازی رینک بھی دیا گیا تھا۔ہمارے گھریلو معاملات کو ملک اور افواج پاکستان سے منسلک کرنا محض مجھے اور میرے خاندان کو بدنا م کرنے کی ناکام کوشش ہے ۔میر ے خاندان کے بہت سارے لوگ پاک فوج میں اپنے خدات سرانجام دے رہے ہیں اور افواج پاکستان ہماری عزت اور ہماری شان ہے ۔

گورنر گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ مذکورہ خبر شائع کرنے والے اخبار اور رپورٹر کے خلاف قانون کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس خبر کے ذریعے سازش کرنے والے عناصر کو قانونی کاروائی کے ذریعے جلد بے نقاب کروں گا ۔ اس خبر کے ذریعے ایک عزت دار خاندان کی پگڑی اچھالنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے ۔گورنر گلگت بلتستان نے کہا کہ مقامی اخبارات میں من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی خبروں کا شائع ہونا انتہائی تشویشناک ہے ۔کوئی بھی خبر شائع کرنے سے پہلے اخبار کے ذمہ دارو ں کو چھان بین کرنا چاہئے اور چھوٹے رپورٹر ز کی جھوٹی خبریں شائع کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments