واپڈا متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم کی آبادکاری میں‌مخلص نہیں، 2010 معائدے پر عملدرآمد کیا جائے، یکجہتی کانفرنس میں‌مطالبہ

چلاس(بیورورپورٹ) تحفظ حقوق کمیٹی و متاثرین دیامر ڈیم کیمٹی نے چلاس میں اظہار یکجہتی کانفرنس کا انعقاد کیا ۔کانفرنس میں کھنر،ہوڈر، گوہرآباد ،تھور،اور چلاس تھلپن کے نمائندگان نے شرکت کی کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے متاثرین دیامر ڈیم نجیب اللہ،طیفور شاہ،دلبرخان،مانان،سلیمان،جلال،ایڈوکیٹ ولی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور واپڈا متاثرین کے آبادکاری میں مخلص نہیں،واپڈا نے متاثرین ڈیم کو تقسیم کیا ہے اور قبائل کو آپس۔۔۔ میں لڑارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ چلاس شاہین کوٹ اور جلیل گاوں کے کچھ متاثرین اپنے آپ کو 95 فیصد متاثرین کہہ کر شوع مچارہے ہیں میڈیا ڈیم کے اصل متاثرین کے مسائل کو اجاگر کرے ۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ اسلام آباد 2010 پر مکمل عملدرآمد کیاجائے ۔2010کے تحت متاثرین عوام مختص شدہ ماڈل ولیجز میں فوری طور پر بسایاجائے جلد ازجلد انکوپلاٹ الاٹ کرکے ان کو حوالہ کیاجائے۔ ہرشادی جوڑہ کو چولہا شمار کیا جائے۔ معاہدہ 2010 کے تحت نوکریوں میں حصہ دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ دیامر کے متاثرین دیامر میں آباد ہونا چاہتے ہیں نقدی اور اسلام آبد میں آبادی کاری کے مخالفت کرتے ہیں متاثرین کی آباد کاری دیامر کے اندر یقینی بنایا جائے۔واپڈاکو سختی سے آگاہ کرتے ہیکہ وہ غریب متاثرین کے ساتھ ناانصافی اور مزاق کا سلسلہ بند کرے ،ہربن اور تھور کے مابین حدود تنازعہ کا حل ریکارڈ کو سامنے رکھ کر کیا جائے ۔واپڈااور ضلعی انتظامیہ کے جانب سے 2010کے علاوہ کسی بھی فیصلہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم پاکستان، چیف آف آرمی سٹاف، چیف جسٹس اور صدر مملکت سے درخواست کرتے ہوئے متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم کے آباد کاری عمل میں لائے تاکہ متاثرین کا چولہا بھی جلے اور انکا مستقبل بھی محفوظ ہو اور پاکستان کا یہ میگاہ پراجیکٹ بھی پایہ تکمیل تک احسن طریقے سے مکمل ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments