مانگ کر سگریٹ اور چائے پینے والے کروڑ پتی بن گئے ہیں، حفیظ الرحمن ترقیاتی فنڈز گھر منتقل کر رہا ہے، امجد حسین ایڈووکیٹ

غذر (دردانہ شیر) پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ حفیظ الرحمان تمام ترقیاتی فنڈز اپنے گھر منتقل کر رہا ہے۔ کل تک جو لوگ مانگ کر سگریٹ پیتے تھے وہ آج کروڑپتی بن گئے ہیں۔ نومبر اور دسمبر کے مہینے گلگت بلتستان کے ائینی حقوق کے حوالے سے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ہم سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی گلگت بلتستان کے ائینی حقوق کی سفارشات کے حامی ہیں۔ ستر سال بعد گلگت بلتستان کے عوام کو ائینی حقوق ملنے کی امید ہے اور عوام کواپنے حقوق کے لئے جاگنے کی ضرورت ہے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے عوام کو ائینی حقوق دینے میں مخلص نہیں پی ٹی آئی نے اگر گلگت بلتستان کو عبوری ائینی صوبہ بنانے کی مخالفت کی تو گلگت بلتستان کے عوام ان کو ان کے کئے کا صلہ ضرور دینگے۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزردی کرگل کے ہیرو شہید لالک جان نشان حیدر کے مزار پر حاضری دینگے اور چونکہ پاکستان پیپلز پارٹی شہیدوں کی جماعت ہے، اور غذر وادی شہدا ہے، اس لئے چیرمین بلاول بھٹو  ایک دن غذر میں گزار دینگے اور بدصوات میں سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقے کے دورے کے علاوہ متاثرین سیلاب سے بھی ملاقات کرینگے اس کے علاوہ یاسین میں پارٹی ورکرز کنونشن سے بھی خطاب کرینگے۔

پی پی پی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈوکیٹ نےگاہکوچ میں صحافیوں کو مزید بتایا کہ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن)کے پاس لوٹ مار کے علاوہ کوئی کام نہیں جو لوگ سگریٹ اور چائے لوگوں سے مانگ کر پیتے تھے اج وہی لوگ کروڑپتی بن گئے ہیں حافظ حفیظ الرحمان نے تمام ترقیاتی فنڈز کی رقم اپنے گھر منتقل کر دیا ہے وفاق میں عمران خان کی حکومت انے کے بعد حفیظ الرحمان کی من مانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور محکمہ تعمیرات اور برقیات کے ایکسین ان کی غلامی کرتے ہیں ان کی اجازت کے بغیر کسی کو کوئی ٹھیکہ نہیں مل جاتا غذر کے کسی باسی کو ٹھیکہ نہیں ملتا وہ بھی حفیظ الرحمان کے من پسند افراد میں تقسیم ہوتے ہیں ان کے دور میں غذر میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہو ا۔

سی پیک کے نام پر گلگت غذر روڈ بنانے کے نام پر عوام کو بیوقوف بنایا جاتا ہے مسلم لیگ (ن) کے دور میں جتنی ناانصافی غذر کے عوام کے ساتھ ہوئی اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی گلگت بلتستان میں اس وقت ٹھیکداروں کی حکومت ہے کوئی کام میرٹ پر نہیں ہوتا سفارش کی بنیاد پر بھرتیاں ہوتی ہیں اگر کوئی سرکاری آفسیر سفارش نہ مانے توحفیظ ا لرحمان ان آفسیران کو دھمکیاں دیتا ہے عارضی ملازمین جو صرف اٹھ ہزار ماہانہ تنخواہ میں ملازمت کرتے ہیں اور ملک میں عارضی ملازمین کی تنخواہ کم از کم پندرہ ہزار ہے مگر گلگت بلتستان کے ان ملازمین کی تنخواہوں کی بڑھانے کے حکومت کے پاس پیسے نہیں البتہ حفیظ الرحمان کے صوبائی وزرا اور ممبران اسمبلی کی تنخواہوں کو بڑھانے کے لئے ان کے پاس پیسوں کی کوئی کمی نہیں ہے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ 19نومبر کو چیرمین پی پی پی شہید لالک جان نشان حیدر کے مزار پر حاضری دینگے یاسین میں اجتماع سے خطاب کرینگے اس کے علاوہ گلگت پولو گراونڈ میں جلسہ ہوگا جہاں حق میلکیت اور حق حاکمیت کے حوالے سے بات ہوگی گلگت بلتستان کے عوام کے لئے نومبر اور دسمبر کا مہینہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے ہم سب کو جاگنے کی ضرورت ہے جب بھی گلگت بلتستان کی ائینی حقوق کی بات ہوتی ہے تو ہمارے مخالفین کو سخت تکلیف ہوتی ہے گلگت بلتستان کا کیس اس وقت سپرئم کورٹ میں ہے اور بہت جلد ہمیں ہماری محرومیوں کا ازالہ ہونے والا ہے ہمارا کوئی نیا مطالبہ نہیں ہے ہم چاہتے ہیں کہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی سفارشات پر عملدارامد ہونا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ ہرگز برداشت نہیں کی جائیگی اور مسلم لیگ (ن) کی بنائی ہوئی سرتاج عزیز کمیٹی کی ہم حمایت کرتے ہیں اور پی ٹی آئی بھی گلگت بلتستان کے عوام کے ائینی حقوق کے لئے مخلص ہے تو سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کی حمایت کرنی ہوگی اگر ایسا نہیں کیا اور عوام کے ائینی حقوق میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو پی ٹی آئی کا گلگت بلتستان میں نام ہی مٹ جائیگا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments