گلگت بلتستان میں سیاسی درجہ حرارت

تحریر: شمس الرحمن شمس

سرما کے اس موسم میں گلگت بلتستان میں سردی کی شدت میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے تو دوسری طرف گلگت بلتستان کے سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا دیکھائی دے رہا ہے۔۔۔۔ ویسے تو مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے برے دن شروع ہوتے دیکھائی دے رہے ہیں۔ ایک طرف مسلم لیگ ن کے د یرنہ اور کمیٹیڈ ورکر سلامت جان مسلم لیگ ن حقیقی بنانے کے حوالے سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ متحرک دیکھائی دے رہے ہیں اور سوشل میڈیا میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سمیت ان کی کابینہ کے خلاف محاز آرائی کر رہے ہیں اور کھل کرمائنس حفیظ الرحمن فارمولے پر چلنے کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرنے میں سرگرم عمل دیکھائی دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔تو دوسری جانب وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے اپنے حلقے جگلوٹ اور پڑی سے اہم شخصیات سمیت نوجوان کارکنوں نے گزشتہ دنوں مسلم لیگ ن سے بغاوت کا اعلان کر دیا ہے۔

مقامی اخبار میں چھپنے والی خبر کے مطابق انہوں نے کہا کہ حفیظ الرحمن صاحب صرف کشروٹ کی حد تک محدود ہیں اور جہاں سے بھاری ووٹ پڑا ہے وہاں کے کارکنوں سے کسی بھی معاملے میں کوئی مشاورت نہیں ہو رہی ہے اور کارکنوں کو دیوار سے لگا یا جا رہا ہے۔ حفیظ الرحمن صاحب ون مین شو چلا رہا ہے اسی لئے جگلوٹ اور پڑی کے مسلم لیگی کارکن اگلے چند روز میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے کے بعد پریس کانفرنس کے ذریعے باقاعدہ طور پر مسلم لیگ ن سے بغاوت کرنے کا اعلان کرینگے۔

یہ بات بھی سب کے سامنے عیاں ہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے سکردو دورے کے موقعے پر بلتستان کی عوام نے جلسے میں جانا اپنی توہین سمجھا اور جلسے میں 200لوگوں نے شرکت کیا جسکا اعتراف قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر جعفرا للہ نے سوشل میڈیا اور اپنی اخباری بیان کے ذریعے کیا

اسی طرح استور دیامر میں بھی مسلم لیگی کارکن سخت مایوسی کے عالم میں اپنے قبیلوں اور خاندانوں سے مشاورتی عمل جاری رکھےہوئے ہیں کہ کس طرح سے منفی مسلم لیگ اقدمات اٹھاینگے۔۔۔۔۔۔؟

یہ وہ تلخ حقائق ہیں جس سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن سمیت ان کی پوری ٹیم بخوبی آگاہ ہیں۔ ویسے تو وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور ان کی کابینہ کے اوپر سوالیہ نشان یہ ہے کہ حکومت کے ڈھائی سال میں پارٹی سے حقیقی متوالوں کی بغاوت اور افرا تفری کا عالم ہونا ۔۔۔۔۔۔؟

دوسری جانب پیپلز پارٹی گلگت بلتستان دن بہ دن گلگت بلتستان میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہوئے دیکھائی دے رہی ہے جس کا سر خاص طور پر پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر اور انتہائی دبنگ سیاست دان امجد حسین ایڈوکیٹ اور اس کی صوبائی کابینہ جمیل احمد، انجینر اسماعیل ،سعدیہ دانش سمیت دیگر رہنماوں کو جاتا ہے جنہوں نے دن دگنی رات چوگنی متحریک ہو کر محنت کیا اور ڈھائی سالوں میں تسلسل کے ساتھ کامیابی حاصل کی جس کے ذندہ مثالیں گلگت میں ہونے والی جلسہ اور بلتستان میں ہونے والا جلسہ ہے۔ ان جلسوں میں پیپلز پارٹی نے عوام جمع نہیں کیا بلکہ عوامی سمندر جمع کرنے میں بھرپور طریقے سے کامیاب ہو گئے ۔۔۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ بڑی تیزی کے ساتھ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں تنظیم سازیاں کرنے کے بعد حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے حوالے سے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی گلگت بلتستان نے گزشتہ دنوں 50واں یوم تاسیس کے موقعے پر گولڈن جوبلی کی تقریبات تمام اضلاع میں بھر پور طریقے سے منایا اور 5دسمبر کو اسی سلسلے میں اسلام آباد میں ہونے والے جلسے میں پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے رہنماوں نے بھر پور نمایندگی کی۔۔۔۔۔۔ اور پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ذبردست طریقے سے انتہائی دبنگ انداز میں حق حاکمیت اور حق ملکیت کے حوالے سےاسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ارباب اقتدار کو واضح پیغام دیا کہ گلگت بلتستان کی عوام اب بھی بیوروکریسی کے نکاح میں ہیں اور گلگت بلتستان کے غریب عوام کی ذمینوں پر قبضے کا سلسلہ جاری و ساری ہے ان تمام تر حقائق کے بعد یہ سمجھنا ہوگا کہ امجد ایڈوکیٹ ن لیگ کی حکومت کو آسانی سے اپنی من مانی پالیسیاں بنانے کے لئے چھوٹ نہیں دیں گا ۔۔۔۔۔
اس شعر کے ساتھ اجازت
مایوس نہ ہو اہل وطن اپنی ذمین سے
دھرتی میں اپنی صاحب کردار بہت ہیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments