‘کشمیری قیادت گلگت بلتستان کوآئین کے دائرے میں لانے کی راہ میں رکاوٹ ہے’

کھرمنگ (سرور حسین سکندر) تبدیلی کا نعرہ لگانے والی وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کی عوام کو ایک مرتبہ پر مایوس کر دیا ہے۔ کشمیری قیادت کو خوش کرنے کے لئے سر زمین بے آئین کو پچھلے ستر سالوں سے سکینڈ کلاس شہری کی حیثیت حاصل ہے۔ چیف جسٹس سے آخری امید باندھ رکھی ہے کہ کوئی اچھا فیصلہ آئے۔

کھرمنگ بھرکے ائمہ جمعہ نے جمعہ کے خطبوں میں مزید کہا کہ ہماری بزرگوں نے بہادری کا اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت گلگت بلتستان کو ڈوگرہ راج سے آزادی دلائی اور مملکت پاکستان کے ساتھ بلا کسی شرائط کا الحاق کیا۔ لیکن ریاست پاکستان نے ستر سالوں سے اس علاقے کو اپنا حصہ نہیں مانا ہے۔ اور آئین کے دائرے میں لانے کی راہ میں ہمیشہ کشمیری قیادت حائل ہوئے ہیں۔ کشمیری قیادت کو بتاتا چلے کہ گلگت بلتستان کشمیر کاحصہ قطعا نہیں ہے اور نہ ہی ہونگے اور کشمیر کی آڑ میں گلگت بلتستان کو ان کے حقوق نہ دینا ناانصافی ہے ۔

شیخ محمد علی ذاکری امام جمعہ مہدی آباد، شیخ اکبر رجائی امام جمعہ کھرمنگ اور دیگر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کو ایک مرتبہ پھرامید دلائی لیکن نا جانے کس کے کہنے پر اپنے اعلان سے منحرف ہوئے اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے اعلان سے دستبردار ہوتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پیکیج پر بات ٹالنے کی کوشش کی ہے۔ جو کہ گلگت بلتستان میں بسنے والے لاکھوں محب وطن باسیوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔ لیکن اب پیکیج سے کام نہیں چلے گا حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم پاکستان کا حصہ ہے یا نہیں۔ یہاں کے عوام نے پاکستان کی سالمیت کے لئے مالی اور جانی قربانیاں دی ہیں لیکن یہاں کے عوام کو سکینڈ کلاس شہری کہہ کر پکارے گئے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ چیف جسٹس سے آخری امید ہے کہ وہ یہاں کے عوام کو آئینی حقوق دینے کے لئے کردار ادا کرینگے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments