’گلگت بلتستان کے دس ماڈل اسکولز میں مارچ سے تدریس کا آغاز ہوگا‘

گلگت (پ ر) گلگت بلتستان میں ماڈل سکولوں کے اجراء سے نہ صرف طلباء و طالبات کی تقدیر بدل جائے گی بلکہ مجموعی طور پر گلگت بلتستان کے سماج پر نہایت مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ اِن ماڈل سکولوں کے معیار اور کارکردگی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ آنے والے وقتوں میں لوگ ان سکولوں کو مثالی سکول قرار دیں گے۔ اِ ن خیالات کا اظہار سیکریٹری تعلیم گلگت بلتستان نجیب عالم نے ماڈل سکولوں کی منصوبہ بندی اور امور پر عمل درآمد کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ ہمارا وژن سکولوں کو ’’ سینٹر آف ایکسیلنس‘‘ بنانا ہے۔ اِن ماڈل سکولوں کا اجراء اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ ابتدائی طور پر محکمہء تعلیم گلگت بلتستان حکومتِ گلگت بلتستان کے تعاون سے گلگت بلتستان کے دس اضلاع میں دس ماڈل سکولوں کا آغاز کر رہا ہے۔بتدریج تحصیل کی سطح تک ماڈل سکول بنائے جائیں گے۔مذکورہ دس ماڈل سکولوں میں رواں سال مارچ کے مہینے کے وسط میں درس و تدریس کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔مثالی ماڈل سکولوں اور سینٹر آف ایکسیلنس کے خواب کی تعبیر کے لیے ای۔سی۔ڈی کو مستحکم کرنا بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سکولز گلگت بلتستان مجید خان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اِن ماڈل سکولوں کے قیام کے پیچھے ہمہ جہتی، پیشہ ورانہ اور جدید سوچ کار فرما ہے۔ ماڈل سکولوں کے بنیادی ڈھانچے، پرنسپلز،وائس پرنسپلز،اساتذہ، لیباریٹریز،لائبریریز، ہم نصابی سرگرمیوں، سپورٹس اور مثالی تعلیمی ماحول کے معیار کو اعلیٰ خطوط پر استوار کیا جارہا ہے۔ ساتھ ساتھ طلباء و طالبات کو اعلیٰ اقدار کی حامل تربیت فراہم کرنا اوران کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنا بھی ماڈل سکولوں کے قیام کا فلسفہ ہے۔

اِ س موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر ماڈل سکولز منظور علی خان نے کہا کہ گلوبل ولیج کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہم اور طلباء و طالبات گلوبل سٹیزنز بن چکے ہیں۔اِ س لیے تعلیم و تربیت کے پیمانے،طریقہ کار،ضروریات، لوازمات اور تقاضے بدل چکے ہیں۔ ہمیں اُمیدِ واثق ہے کہ یہ ماڈل سکولز یہ عصری تقاضے پورا کریں گے۔ ہم اِن ماڈل سکولوں کے ذریعے ایسے طلباء و طالبات پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی قابلیت اور لیاقت کا لوہا منواسکیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ گلگت بلتستان کے تمام سٹیک ہولڈرز کی جانب سے بھر پور تعاون اِن ماڈل سکولوں کی کامیابی کا ضامن ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments