گلگت : خوراک کی کمی کو پورا کرنے کے لئے سویا بین اور ہائی زنگ گندم اگانے کی ضرورت پر زور دیا گیا

گلگت (نامہ نگار خصوصی) گلگت بلتستان میں خوراک کی کمی کو دور کرنے کے لئے یونیسف اور محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ گلگت بلتستان نے سکیلنگ اپ نیوٹریشن کے زیر اہتمام گلگت بلتستان میں سویابین کی کاشت اور سویابین کے انسانی صحت پر مثبت اثرات کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

گلگت بلتستان میں ماں اور بچے کے گرتے ہوئے غذائی صورت حال میں بہتری لانے لے لئے سویا بین کی کاشت کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیاگیا۔ گلگت بلتستان میں ماں اور بچے میں خوراک کی کمی کو پورا کرنے کے لئے سویا بین اور ہائی زنگ گندم اگانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

سیمنار میں بتایا گیا کہ سویابین میں 40فیصد پروٹین ہونے کی وجہ سے گوشت کا متبادل ہے اور سویابین تیل میں اومیگا 3ہونے کی وجہ سے مچھلی کے تیل کے برابر غذائیت کا حامل ہے۔ سویابین کینسر، بلڈپریشر، دل کے امراض سمیت دیگر بیماریوں سے بچاتا ہے۔ سویابین مٹر اور رگم کی نسل سے ہے۔ سویابین کی فی کنال پیداوار 400 کلو گرام تک ہوسکتی ہے اور گلگت بلتستان کی آب و ہوا موضوع قرار دیا گیا ہے۔

سیمنار میں مزید بتایا گیا کہ سویابین کی ایک کلو گرام سے 8کلو تک دودھ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ گلگت بلتستان میں 64کنال پر سویا بین کی کامیاب کاشت کی جارہی ہے اور اس کی کاشت کو تجارتی بنیادوں پر کاشت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

سیمنار کے مہمان خصوصی سیکریٹری سوشل ویلفیر مومن جان نے گلگت بلتستان میں خوراک کی کمی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گلگت بلتستان میں خواتین میں خون کی کمی اور بچوں کی اموات کی شرح زیادہ ہونے کی اہم وجہ خوراک کی کمی ہے اس لئے سویا بین سے خوراک کی کمی کو پور ا کیا جاسکتا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ایم اے آر سی جگلوٹ شیر احمد نے سیمنار کو بتایا کہ جگلوٹ، گلگت، سنگل، نومل اور اوشکھنداس سویا بین کی کاشت کیلئے انتہائی موضوع ہیں اور ان مقامات پر کاشت کاری کی جارہی ہے۔ کسانوں کو تکنیکی معاونت فراہم کی جارہی ہے ۔

سیمنار سے ڈپٹی ڈائریکٹر محمکہ زراعت جاوید اختر، محکمہ خوراک کے ڈائریکٹر اکرام محمد، ایم اے آر سی کے ریسرچ آفیسر اکرم محمد ، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے فوڈ ٹیکنالوجیسٹ ڈاکٹر شاہ نواز کے علاوہ اے کے آر ایس پی کے نمائندے ، ایل ایف او اور کسانوں کے بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

سیمنار میں شریک کسانوں نے سویابین کی کاشت اور آگاہی پروگرام کو سراہتے ہوئے ایسے سیمنارکو دیگر علاقوں تک وسعت دینے کی استدعا کی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments