این آئی ایس اساتذہ کے مستقلی کا معاملہ سات برس بعد بھی حل نہیں ہوسکا

شگر(عابدشگری) این آئی ایس اساتذہ کا معاملہ 7برس بعد بھی حل نہیں ہوسکا۔ ڈیڑھ سو کے لگ بھگ اساتذہ دربدر ،معاملہ حل کرکے انہیں انصاف فراہم نہ کرنے کی صورت میں احتجاج کے ساتھ دھرنوں اور خود سوزی کی بھی دھمکی دیدی۔

سابق دور حکومت میں 500کے قریب اساتذہ کو سیٹیں نہ ہونے کے بحانے تنخواہیں بند کردی گئیں تاہم اساتذہ نے تنخواہیں نہ ملنے پر ہمت ہارنے کے بجائے سکولوں میں بدستور ڈیوٹی دینے کو ترجیح دی لیکن حکومت کی جانب سے ان اساتذہ کو ڈیوٹی دینے کا صلہ دینے کے بجائے اساتذہ کو مخصوص انداز میں مستقل کرتے گئے اور جن کے پاس سفارش اور مالی تعاون کا کوئی ذریعہ نہیں تھا انہیں بے آسرہ چھوڑ دیا گیا جس کے باعث اس وقت صرف 150کے لگ بھگ اساتذہ رہ گئے ہیں۔ جس پر ان اساتذہ نے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا مگر وہاں سے بھی انہیں کوئی انصاف تاحال نہیں مل سکا جس پر مایوس ہوکر این آئی ایس اساتذہ نے احتجاجی دھرنوں کے ساتھ خودسوزی کی بھی دھمکی دیدی ہے۔ ان اساتذہ کا کہنا تھا کہ حکومت جان بوجھ کر ہمارے ساتھ زیادتی کررہی ہے حالانکہ دیگر محکموں میں بھی اسی طرح کے کیس موجود تھے لیکن ان تمام محکموں میں ملازمین کو مستقل کردیا گیا ہے لیکن علم کی شمع روشن کرنے کی پاداش میں ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ جس کے باعث ہم در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے گورنر، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان، سیکریٹری تعلیم سے اپیل کی ہے کہ ان کے مشکلات کو ملحوظ نظر رکھ کر ان کا مسئلہ حل کرائیں بصورت دیگر خود سوزی پر مجبور ہوں گے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments