“دیامر کو تعلیم دو” کے عنوان سے چلاس میں تقریب، ممبر قومی اسمبلی نجیب ہارون کا خطاب، فروغ تعلیم کے لئے اقدامات کا عزم

چلاس ( شہاب الدین غوری سے ) قائمہ کمیٹی کے چیئرمین برائے ہاوٴسنگ اینڈ ورکس ، ممبر قومی اسمبلی نجیب ہارون نے کہا ہے کہ تعلیم قوموں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے ۔ جب بھی کسی قوم نے اپنی حالت بدلنے کا عزم کیا اس کی زندگیوں میں تبدیلی ضرور آئی ۔ دیامر میں تعلیم کی ترقی کیلئے اقدامات کئیے جائیں گے ۔ دیامر ایورینس فورم و تھور یوتھ آرگنائزیشن کے زیراہتمام ،، دیامر کو تعلیم دو ،، کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم ، صحت اور روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ حکومت تمام شہریوں کو انصاف پر مبنی مواقع دینے کیلئے کوشاں ہے ۔ دیامر کے عوام کی پاکستان کے لئے بڑی قربانیاں ہیں ، حکومت ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ دیامر کے عوام کے ساتھ جو رشتہ قائم ہوا ہے ایسے جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے طلبا کو ملک کی معروف جامعات میں سکالر شپ کیلئے اقدامات کئے جائیں گے ۔ یہاں کے عوام کا مقدمہ ہر فورم پر لڑوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے سوچنا یہ ہے کہ ہم نے اس ملک کو کیا دیا ۔ گزشتہ پچیس سالوں سے سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے افراد میں بتیسواں نمبر میرا ہے ، آج تک بحیثیت ممبر قومی اسمبلی ، چئیرمین قائمہ کمیٹی کے نہ کوئی تنخواہ لی نہ کوئی اور مراعات لی ہیں ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ڈپٹی کمشنر دیامر نے کہا کہ زندہ قومیں مشکل حالات میں بھی اپنا راستہ تلاش کر لیتی ہیں ۔ تھور کے لوگوں کو اللّہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے ، یہاں کے نوجوان تہیہ کر لیں کے حالات جیسے بھی ہوں تعلیم کے حصول کے لئے ہر قربانی دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم سے متعلق ایشوز نوے فیصد حل ہو چکے ہیں ۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر واپڈا رحیم شاہ ، ڈپٹی ڈائریکٹر تعلیم فقیر اللہ ، دیامر اویرنس پروگرام کے چیئرمین ذبیح اللہ ، فدا اللہ راج ، حبیب الرحمن اور عبدالباسط و دیگر نے کہا کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ ریاست اہلیان دیامر کی پسماندگی کے خاتمے کیلئے اور نوجوانوں کو تعلیم دینے کیلئے اعلیٰ ایوانوں میں آواز اٹھائیں گے ۔تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ابو ساجد ذکریا نے آغاز کیا تقریب کے آخر میں مہمانوں کو روایتی چادر اور شال بھی پہنائے گئے ۔۔۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments