وادی اشکومن میں موسلا دھار بارشوں کے بعد نظامِ زندگی معطل، صاف پانی کا شدید بحران

اشکومن(کریم رانجھا) ؔ وادی اشکومن میں موسلادھار بارشوں کے بعد نظام زندگی معطل،بالائی اشکومن کا رابطہ ایک ہفتے سے منقطع،گاؤں دائین،اسمبر،شولجہ کے مکین محصور ہو کر رہ گئے،سینکڑوں طلبہ وطالبات درسگاہوں تک نہ پہنچ سکے،چٹورکھنڈ میں صاف پانی کا شدید بحران، خواتین اوربچے کولر، بالٹیاں اور بوتلیں اٹھائے صاف پانی کی تلاش میں در بدر،مقامی انتظامیہ کے پاس وسائل نہیں،عوام جائیں کہاں؟

عید سے ایک روز قبل شروع ہونے والی بارشوں نے اشکومن وادی کو شدید متاثر کیا ہے۔عید کی چھٹیوں کے باعث ضلعی انتظامیہ ایک ہفتے تک علاقے سے غائب رہی،16اگست کے بعد انتظامیہ کو ہوش آیا تو علاقے میں صورتحال تبدیل ہوچکی تھی۔بالائی اشکومن ایمت سے آگے تاحال بلاک ہے۔پورے اشکومن وادی میں محکمہ تعمیرات کا ایک بلیڈ کام کررہا ہے،اسمبر شولجہ اور دائین کے عوام گزشتہ ایک ہفتے سے محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔پکورہ /شولجہ پیدل پل کٹاؤ کا شکار ہے۔چٹورکھنڈ نالہ میں طغیانی کے سبب دائین روڈ بلاک ہوچکا جس سے سینکڑوں طلبہ وطالبات کے علاوہ کاروباری حضرات کو بھی مشکلات ہیں۔چٹورکھنڈ میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہے،حکومت کی جانب سے چٹورکھنڈ واٹر سپلائی سکیم پر اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق تین کروڑ سے زائد کی رقم خرچ ہوچکی اس کے علاوہ غیر سرکاری ادارے ”واسپ“ نے بھی عوام کے تعاون سے پراجیکٹ مکمل کیا لیکن یہ تمام منصوبے ناقص حکمت عملی،اقرباء پروری اور کمیشن کی نذر ہوگئے۔چٹورکھنڈ دائین روڈ کو بحال کرنے کے لئے مقامی انتظامیہ کی کاوشوں سے ایک ایکسویٹر لایا گیا تھا لیکن شام تک روڑ بحال نہ ہوسکا۔وادی اشکومن میں مون سون کے ساتھ ہی اس قسم کے مسائل کا سامنا رہتا ہے اور یہ کوئی ایک سال کا معاملہ نہیں بلکہ پہاڑی علاقوں کا معمول ہے،سوال صرف یہ ہے کہ محکمہ تعمیرات سمیت دیگر ادارے اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے مستقل بنیادوں پر سنجیدہ اقدامات کریں گے یا کمیشن پہ ہی گزارہ کریں گے؟ناقص کام کرنے والوں کا محاسبہ کب ہوگا؟

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments