زندگی تیرے تعاقب میں ہم

زندگی بھی کیا چیز ہے کہ اس کے تعاقب میں انسان اتنا چلتا ہے کہ مر جاتا ہے وہ کسی من چلے نے خوب ہی کہا ہے؎

زندگی تیرے تعاقب میں ہم

اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

ڈاکٹر راحت اندوری نے ایک دفعہ گلے شکوے کے انداز میں کہا تھا؎

افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے

لوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کر دیا

لیکن معذرت کے ساتھ ہمارا تعلق ڈاکٹر صاحب کے قبیل سے نہیں۔ ہم لوگوں کے پوچھنے سے بیمار نہیں شاد رہتے ہیں۔ ہمیں بھیڑ نہیں تنہائی کاٹتی ہے۔ گزشتہ دنوں ہماری صحت کی ناسازی پر جن مہربان دوستوں، رشتے داروں اور عزیز و اقارب نے اپنی محبت کا اظہار اپنی پُرخلوص دُعاؤں سے کیا ہم ان کی محبتوں کے مقروض ہیں۔ انسانیت شاید اسی کا نام ہے کہ ہم ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شامل ہوسکے۔ اللہ پاک انہیں جزائے خیر دے۔ میں موت سے روبرو ہوا تھا۔ جس کی تفصیل میں بتا چکا ہوں۔ لیکن ایک گہری کوفت ہوئی کہ اس موقع پر بھی کچھ قریبی دوست اور عزیز پس منظر میں رہے، دل کے اتنے غریب اور دُعا کے لیے لب تک نہ ہلانے کی کنجوسی شاید انہیں کا خاصا ہے۔ خیر ایسے مواقع آپ کو ہیرے اور کوئلے کی پہنچان کراتے ہیں۔ اس واقع کے بعد میں روزانہ اپنے فرینڈ لسٹ کو ایسے کوئلوں سے پاک کر رہا ہوں۔ کل ہی کی بات ہے سو کے قریب کوئلے رخصت کر دئیے گئے۔ اور کوئلہ صفائی مہم کا یہ سلسلہ اگلے کچھ ہفتوں تک جاری رہے گا۔ ممکن ہے ان کوئلوں کو یہ خبر بھی عام سی خبر لگ رہی ہو۔ بقولِ شاعر؎

رُک رُک کے لوگ دیکھ رہے ہیں میری طرف

تم نے ذرا سی بات کو اخبار کر دیا

مولا علیؑ کا فرمان مبارک ہے:

’’ہزاروں دوست بنانا اہم نہیں بلکہ ایک دوست بناؤ جو ہزاروں کی جگہ لے۔‘‘

ربِ کریم کا کرم ہے کہ ہم ایسے چاہنے والوں کی دُعاؤں پر زندہ ہیں۔ ہماری ایک فین نتاشا سوست کی ایک تقریب میں خصوصی طور پر ہم سے ملنے اور عیادت کرنے آئی تھی۔ نتاشا ایک عرصے سے ہماری فیس بک فین ہیں، میری رائٹنگز، میری عادات، میرا غصہ، میری تاریخ پیدائش، میری پسند ناپسند مجھ سے زیادہ ان کو پتہ ہے۔ کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی بس قلم کا رشتہ تھا جو نتاشا کو ہمارے بارے میں جاننے پر مجبور کر رہا تھا۔ اسی رشتے نے ہی ان کو کھینچ کے آج کی اس تقریب میں ہماری روبرو کیا تھا۔ ہماری تقریر کے بعد چائے کے وقفے میں انہوں نے بلآخر پوچھ ہی لیا ’’سر! آپ بیمار تھے، آنکھوں پر یقین نہیں آیا کہ تقریر آپ ہی کر رہے ہیں۔‘‘ میں نے از راہِ تفنن کہا ’’بیمار تھا، ہوں نہیں۔‘‘ ان کا قہقہ بلند ہوا اور حاضرین اس قہقہے کے سحر میں بھیگتے گئے۔ نتاشا جلدی میں تھی انہیں کسی نکاح کی تقریب میں شرکت کرنی تھی ان کی ڈرسینگ اور میک اپ سے اندازہ ہو رہا تھا شرکت نہیں ہوگی دُلہن رانی سے مقابلہ ہوگا۔ پھر فوٹو گرافر نے بھی غضب کیا کہ تقریب میری تھی اور تصویریں نتاشا کی اُتر رہی تھیں خیر ہم نے رضا علی عابدی کی طرح اس نا انصافی پر چائے کم اور صبر کے گھونٹ زیادہ پیے۔

میں ایسے واقعات کو سوچتا ہوں تو جینے کی ایک امنگ پیدا ہوتی ہے۔ میں گلگت کے اس نوجوان کو کیسے بھول سکتا ہوں جو خودکشی کے آخری اسٹیج پر تھے، میرے لیکچر کے بعد میرے گلے لگ کے رویا تھا کہ سر! آپ نے مجھے نئی زندگی دی۔۔۔۔۔۔ میں شیرقلعہ کی اس ماں کو کیسے بھول سکتا ہوں جس نے میری تقریر کے بعد اپنی انگوٹھی نکال کر مجھے پیش کیا تھا، میں نے اس ماں کو وہ انگوٹھی واپس کرکے کہا تھا اماں جی مجھے انگوٹھی کی نہیں آپ جیسی ماؤں کی دُعاؤں کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔ میں ناصر آباد کے اس بوڑھے کو کیسے یاد نہ کروں جو میرے وعظ کے بعد باہر میرے جوتے اپنے چوغے کے دامن سے صاف کرکے مجھے پیش کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ میں طاؤس پنڈال میں عید نماز میں موجود اس بوڑھے کو کیسے فراموش کر سکتا ہوں جس نے میرے خطبے کے بعد اپنے لرزتے ہاتھوں سے مجھے سو روپے کا انعام دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اس وقت میرے پاس لاکھ روپے بھی ہوتے تو میں آپ کے قدموں میں بچھا دیتا۔۔۔۔۔۔ میں بوبر پونیال کے ان معززین کو کیسے بھول سکتا ہوں عید نماز کے بعد وہ میرے چپل لے کے باہر انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔ ہاں! میں کیسے بھول سکتا ہوں اس دن اسٹیج سے ہسپتال پہنچنے کے بعد جب میری آنکھ کھلی تھی تو ایک بوڈھے کو اپنے سرہانے پر روتے ہوئے پایا تھا۔۔۔۔۔۔ جب میں ہوش میں آیا تو مجھے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے والا وہ بوڑھا میرا کوئی جاننے والا نہیں تھا بس میرے ساتھ ان کا محبت کا رشتہ تھا۔ اور۔۔۔۔۔ میں ان محبتوں کی آنچ پر زندہ ہوں۔

ہاں لگے ہاتھوں جلے کارپٹ کا واقعہ بھی سنئے۔ گوپس کی شکیلہ کو شکایت ہے کہ میری وجہ سے ان کا کارپٹ جل گیا۔ کہتی ہے کہ وہ کپڑے استری کر رہی تھی کسی نے ان کے ہاتھ میں میری پہلی کتاب دی۔ شاعری سے شغف تھا اس لیے استری چھوڑ کے کتاب میں کھو گئی۔ زمانے بعد ان کی ماں کمرے میں داخل ہوتی ہے کیا دیکھتی ہے کہ استری نے کپڑے اور کارپٹ تک جلا کے رکھ دیا ہے لیکن ان کی لاڈلی بیٹی کتاب میں غرق ہیں۔ وہ کہتی ہے ماں کی چیخ کے ساتھ میں کتاب کی دُنیا سے باہر آئی تھی۔ اس لیے وہ جب ملتی کارپٹ کا تقاضا ضرور کرتی۔ ان کے خیال میں کارپٹ کے جلنے کے پیچھے میرا اور میری کتاب کا قصور ہے۔ خیر یہ تو ان دنوں کی بات ہے جب وہ کالج کی ایک دان پان سی لڑکی تھی۔ اب تو ماشااللہ سے دو بچوں کی ماں ہیں لیکن کارپٹ کا تقاضا بدستور جاری ہے۔

یہ بات از راہِ تفنن بیچ میں آئی۔ اللہ پاک کا احسان ہے کہ میں بیمار بہت کم ہوتا ہے۔ امی کا کہنا ہے بچپن میں زیادہ لاڈ پیار کی وجہ سے میں اکثر بیمار رہتا تھا لیکن اب تو مجھے کم یاد پڑتا ہے کہ میں ایسی شدید بیماری سے کبھی دوچار ہوا ہوں۔ گزشتہ دن بھی بے احتیاطی کی وجہ سے بی پی حد سے زیادہ لو ہوئی تھی۔ لیکن کبھی کبھی کچھ چیزوں میں مصلحت ہوتی ہے۔

مجھے اس حادثے نے مذہب اور روحانیت کا رشتہ سمجھا دیا۔ میں لوگوں کو بتا بتا کے تھک جاتا تھا کہ روحانیت یا مذہب سائنس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں لیکن کوئی مانے تو سہی۔ ہاشم ندیم کے بقول ہم چھوٹی سی ٹی وی اسکرین پر لہروں کے ذریعے پہنچی زندہ تصویروں یا لائیو ٹیلی کاسٹ پر تو یقین کرتے ہیں لیکن بند آنکھوں اور من کے اندر لگی اسکرین جو دل سے دل کے تار جڑنے پر روشن ہوتی ہے اسے کبھی قابلِ بھروسہ نہیں سمجھتے۔ ٹیلی پیتھی کے ذریعے دوسرے دل کا حال جاننے کو معتبر جانتے ہیں لیکن جب کوئی مذہب کے ذریعے حالِ دل بیان کرنے لگے تو اسے دھتکار دیتے ہیں۔ ہاتھ سے نکلتی لہروں اور ریکی کے علاج کے لیے تو گھنٹوں قطار میں بیٹھ کر انتطار کر لیتے ہیں لیکن دوسری جانب اگر کوئی ہاتھ تھام کر اس پر دم کرکے پھونک دے تو ہم شک میں پڑ جاتے ہیں۔ مریخ پر زندگی ہے ہم اس کے لیے تو دن رات ایک کیے رکھتے ہیں، لیکن ہمارے آس پاس جو بے پناہ زندگی بکھری پڑی ہے اس سے ہمیشہ غافل رہتے ہیں۔ یاد رکھئے، نیل آرم سڑانگ کے چاند پر جانے سے پہلے بھی چاند موجود تھا لیکن تب تک سائنس ہمارے شق القمر کے عقیدہ کو شک کی نگاہ ہی سے دیکھتی رہی۔ یہ سب باتیں کیا ظاہر کرتی ہیں؟ صرف یہی کہ ہماری متوازی ایک روحانی دُنیا بھی ازل سے موجود ہے اور اس دُنیا کو بھی جاننے کے لیے ایک سائنس موجود ہے جس کو روحانیت کہتے ہیں۔

ہاشم ندیم کا کہنا ہے کہ فون یا ایس ایم ایس کا ایک پل میں دُنیا کے دوسرے کونے پیغام پہنچانے کے کمال کے تو ہم معترف ہیں لیکن، ایک ماں کے دل سے نکلی ایک پُکار پر ہزاروں میل دُور بیٹھے اس بچے کے دل کی اچانک تیز دھڑکن کے جواز ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

آپ حیران ہوں گے، اس دن یہی ہوا تھا۔ میری امی اس وقت ہزاروں میل دُور میری بہن کے پاس سیالکوٹ میں ہے۔ میں نے ابھی تک امی سے اپنی بیماری کا ذکر نہیں کیا کہ ویسے پریشانی ہوگی لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے۔ آج تین چار دنوں کے بعد امی سے بات ہوئی تھی۔ امی نے یہ کہہ کر مجھے حیران کر دیا۔ جس دن میں تقریر کرتے ہوئے بے ہوش ہوا تھا عین اسی وقت امی کی طبیعت بھی اچانک بگڑ گئی تھی۔ امی کہتی ہے کہ ان کو اچانک میری یاد آئی، پھر وہ پاگلوں کی طرح صحن میں چکر کاٹتی رہی ہے، بہن نے بڑی مشکل سے امی کو حوصلہ دیا۔ اس دوران مجھے کال بھی کی گئی ہے لیکن سگنلز کی خرابی کی وجہ سے کال نہیں لگی۔ یہاں بھی اللہ کی مصلحت دیکھئے کہ اگر کال لگتی اور کال ریسو نہ ہوتی یا کوئی اور کال ریسو کرتا تو امی پر کیا گزرتا۔ پھر امی کہتی ہے کہ وہ دو دن سخت پریشان رہیں ادھر میری بھی دو دنوں سے طبیعت ناساز تھی۔ میں جان بوجھ کے کال نہیں کر رہا تھا امی کی کال لگتی نہیں تھی۔ یہ سب روحانیت کے وہ رموز و اوقاف ہیں کہ جن پر ایمان رکھے بغیر چارہ نہیں۔

سوست جماعتی لائبریری میں بیٹھے کتابوں کی دُنیا میں گم تھا اور کھڑکی سے آتی دُھوپ کی روشنی میں جہاں پوری لائبریری نہائی ہوئی تھی وہاں کہیں زیادہ میرے من میں روحانیت کی روشنی نے بسیرا کیا تھا۔

یکے از تحاریر کریم کریمی

سوست گوجال

ایکیس ستمبر دو ہزار اُنیس

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments