سر جی، ہمیں پچھلے دس مہینوں سے تنخواہ بھی نہیں ملی

تحریر : ایڈووکیٹ حیدر سلطان

کل جب میں نے سیپ اساتذہ کیساتھ ہونے والی زیادتیوں کے بابت ایک آرٹیکل لکھ کر فیس بک پہ پوسٹ کی تو ضلع غزر سے ایک ٹیچر جسے میں پہلے سے نہیں جانتا تھا انبوکس میں آکر کہنے لگا کہ سر آپ کا آرٹیکل پڑھا آپ کی باتوں سے مکمل اتفاق ہے پتہ نہیں ہمیں کب ریلیف ملے گا مگر سر جی ۔۔۔۔ ” ہمیں تو پچھلے دس مہینوں سے تنخواہ بھی نہیں ملی ہے “ جسکا زکر آپ نے اپنے آرٹیکل میں نہیں کیا ہے۔

گفتگو اس کے بعد بھی جاری رہی مگر ان کے اس ایک جملے کے پیچھے جو مایوسی اور بے بسی میں نے محسوس کی اسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے ۔ انہوں نے دبے الفاظ میں مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ حالات ایسے آگیے ہیں کہ ہم تنخواہوں کیلیے احتجاج بھی نہیں کرسکتے ۔ ہمیں خدشہ ہے کہ ہمارا ایسا کوٸی بھی اقدام مقتدر حلقوں کو ناگوار لگ سکتا ہے اور اس کی سزا ہمیں ناقابل تلافی نقصان کی صورت میں مل سکتی ہے یعنی ریگولراٸزین لیسٹ سے نام الگ کیے جاسکتے ہیں ۔ کہنے کو تو ہم ایک آزاد جمہوری ملک میں اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزار رہے ہیں مگر افسوس کیساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ نہ تو ہم آزاد ہیں نہ ہمیں جمہوریت کی چھتری میسر ہوٸی نہ ہی اسلام ہمارے قریب سے گزرتا ہے ۔ اگر ہمارے پاس کچھ ہے تو محض نفسا نفسی ہے ۔ ہر کسی کو اپنے پیٹ کی پڑی ہے اور پڑی بھی ایسے ہے کہ جاٸز ناجاٸز کے بارے سوچنے کا بھی وقت نہیں ملتا ۔ ہماری زندگی کا واحد مقصد زاتی مقاصد کا حصول رہ گیا ہے جس کی تشبیح کتابوں میں آخری زمانے سے دی گٸی ہے ۔ ہر طاقت ور اپنے سے کمزور کیلے فرعون ہے ۔ ریڑھی ولا چنگچی والے سے ڈرتا ہے اور ٹیکسی ڈراٸیور پراٸویٹ کار والے صاحب کے آگے سر جھکاٸے نظر آتا ہے ۔ خودی تو جیسے پیٹ میں لگنے والی آگ میں جل کر راکھ ہوگٸی ہے اور غریب کو دو وقت کی روٹی کی فکر سر اٹھانے نہیں دیتی۔

زرا سوچیں ۔۔ ایک ٹیچر کی تنخواہ مہنگاٸی کے اس دور میں محض دس ہزار ہو ۔ دس مہینوں سے اسے تنخواہ ہی نہ ملی ہو۔ اور وہ گھر کا واحد کفیل ہو ۔ کیا گزرتی ہوگی؟؟؟ کیسے اس کے روز مرہ کی ضروریات پوری ہوتی ہونگی ۔ دوسروں کے بچوں کو تعلیم دینے والا خود کے بچے کو جب کچھ نہ دے پارہا ہوگا تو کیسے اپنے بچوں سے آنکھیں ملاتا ہوگا ۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس سب میں اصل زمہ دار کون ہے میں زاتی طور پہ اپنے آپ کو اور ہر اس شخص کو زمہ دار سمجھتا ہوں کہ جو اپنے ارد گرد ایسے واقعات روز دیکھتا ہے اور یہ سوچ کر خاموشی اختیار کرتا ہے کہ یہ تو میرے بس کی بات ہی نہیں ۔ کوٸی سمجھتا ہے کہ ایسے ایشوز حکومت کو دیکھنے چاہے اور کوٸی اپوزیشن تو کوٸی ہیومن راٸٹس کمیشن کے اوپر زمہ داری ڈال کر بری الزمہ ہوجاتا مگر کون نہیں جانتا ایسے معاملات میں اکثر حکومت کی آنکھیں ، اپوزیشن کا منہ اور ہیومن راٸٹس کمیشن کی دفتر کے تالے بند ملتے ہیں ۔ جمہوری حکومتوں کا اولین فرض یہی ہوتا ہے کہ وہ جمہور کی کم از کم بنیادی حقوق لازما مہیا کرے مگر ہمارے ہاں تو سب الٹ ہورہا ہے جسکی واضع مثال سیپ اساتزہ کا پچھلے دس مہینوں سے تنخواہوں سے محروم رہنا اور اپنے جاٸز حقوق کیلے آواز اٹھانے سے گھبرانا ہے ۔ ایسے معاشروں پہ اللہ عزاب ڈالتا ہے جہاں مظلوم کی آواز کو اس قدر دباٸی جاٸے کہ وہ خود ساختہ سفید پوشی اختیار کرنے پہ مجبور ہوجاٸے ۔بھلے وہ اپنی آنکھیں ظالم کی آنکھوں میں نہ ڈال سکے مگر وہ اپنا رخ آسمانوں کی طرف کر کے اپنے اللہ سے شکوہ تو کر سکتا ہے ۔ بھلے اسکے ہاتھ ظالم کے ظلم کو روکنے کیلیے نہ اٹھ سکیں مگر وہ بارگاہ الہی میں ہاتھ اٹھا کر ظالم کو بدعا تو دے سکتا ہے ۔مظلوم اگر چہ فرش پر کھڑے ہوکر دعا کرتا ہے مگر اس کی آواز عرش والے تک ضرورپہنچتی ہے اور تاریخ عالم اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ عرش سے ہمیشہ ہی انسان کی حاجت روائی کی بندوبست کی جاتی ہے اور کسی نہ کسی مسیحا کے ذریعے حقداروں کو ان کا حق مل جاتا ہے۔

کہتے ہیں اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے مگر جب یہ کسی پہ پڑھ جاٸے تو اس کی چیخیں یقینا رہتی دنیا تک یاد رکھی جاتی ہیں ۔ سیپ اساتزہ کے ساتھ جو ظلم ہوتا آرہا ہے یہ تو بس ہمارے معاشرے کی ایک چھوٹی سی مثال ہے اس جیسے انگنت مظالم مخلوق خدا پہ ڈاٸے جارہے ہیں جسکی واحد وجہ بھی مخلوق خدا کی خاموشی ہی ہے ۔ شاعر فرماتے ہیں ۔ خاموش مزاجی تمہیں جینے نہیں دے گی اس دورمیں رہنا ہے تو کہرام مچا دو۔ ایسے ایشوز میں اٹھ کھڑے ہونا ہمارا قومی و دینی فریضہ ہے میں اس تحریر کے زریعے تمام مقتدر حلقے بشمول سی ایم جی بی ، عدالت عالیہ و چیف سکریٹری گلگت بلتستان سے گزارش کرونگا کہ کم ازکم سیپ اساتزہ کے موجوہ ایشو کے اوپر فوری نوٹس لیں ۔ میں گلگت بلتستان کی سول سوساٸٹی سے بھی ملتمس ہوں کہ ان مظلوموں کی آواز بنیں ۔ سرکار جون ایلیا فرماتے ہیں ۔ بولتے کیوں نہیں میرے حق میں آبلے پڑھ گٸے زبان میں کیا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments