کالمز

سوشل میڈیا کا دانشمندانہ استعمال وقت کی اہم ضرورت

تحریر: صفدر علی صفدر

ہمارا ایک رپورٹر دوست جو آج کل ماشاءاللہ سے سنیئر صحافی بن گیا ہے ……

بقول شاعر

"جو علم، علم اور مولانہ کو ملوانہ پڑھتی تھی”

…… خبر تحریر کرتے ہوئے  ہمیشہ پوچھ گچھ کو "پوش گش” اور چھان بین کو "شان بین” لکھ دیتا تھا۔

ان دنوں ہم مقامی اخبارات میں ڈیسک ایڈیٹر کے فرائض سر انجام دیا کرتے تھے اور ہمارا دوست رپورٹر زیادہ تر واقعاتی خبریں کور کرتا تھا۔ ان کے خبر کے ذرائع موثر اور مستند ہوتے تھے مگر املا ایسی تھی کہ پڑھنے والے کی ہنسی نکل آتی تھی۔

ہم چونکہ ڈیسک ایڈیٹرز تھے تو اپنی دانست کے مطابق پوش گش اور شان بین سمیت املا کی دیگر غلطیوں کی درستگی کرکے خبر کو صحافتی ڈھانچے میں ڈال کر اگلے دن کے اخبار میں قابل اشاعت بنا دیتے تھے۔ لیکن شام کو  وہ پھر پوش گش اور شان بین کے الفاظ کے ساتھ ایک نئی اسٹوری فائل کیا کرتا تھا۔ یوں ہم حسب معمول اس خبر کے نوک پلک درست کرکے صبح کے اخبار میں شائع کرتے تھے۔

 صحافتی اصولوں کے مطابق کسی واقعے کی تہہ تک پہنچ کر مکمل معلومات حاصل کرکے کم سے دو مستند ذرائع کا حوالہ نہ دیا جائے وہ واقعہ مکمل خبر کے زمرے میں نہیں آتا۔ ہمارے صحافی دوست کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ وہ کسی واقعے سے متعلق معلومات کا حصول تو جانتا تھا مگر ان معلومات کو صحافتی ڈھانچے میں ڈالنے کے اصولوں سے نابلد تھا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ ان میں مطالعے کا فقدان تھا۔

اگر وہ شام کو اپنے ہاتھ سے تحریر شدہ خبر اور صبح کے اخبار میں چھپنے والی خبر کو ٹیلی کرتا تو یقیناً اسے اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا۔ مگر مطالعے کی عادت سے عاری دوست مکمل اخبار پڑھنے کی بجائےصرف شہہ سرخیوں کی اسکرین شاٹس لیکر سوشل میڈیا پر چڑھا کر دوستوں سے داد وصولی کا شوقین تھا۔ چنانچہ ہمارے پیشہ ورانہ راستے جدا ہونے تک وہ اپنی یہ غلطیاں درست نہ کر پا سکا۔

 وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کی اخباری صنعت ترقی کی بجائے تنازلی کا شکار ہوگئی۔ اخباری مالکان کی جانب سے کارکنوں کو اجرت کی ادائیگی میں بخل سے کام لیا جاتا رہا تو حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ہم نے اخبارات میں ملازمت کو ترک کرکے فری لانسنگ کو اپنایا اور گاہے بگاہے سوشل میڈیا پر اپنی تحاریر کے ذریعے دل کی بھڑاس نکالتے رہے۔ جو تا ہنوز جاری و ساری ہے۔

 پھر جب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال میں تیزی آگئی تو نت نئے پیجز اور آئی ڈیز سے خبروں کی اشاعت کے نام پر صحافت کا جنازہ نکلنا شروع ہوا۔ سوشل میڈیا کے ان مجاہدوں نے سٹیزن جرنلزم کے اس حمام میں سب کو ننگا کرکے رکھ دیا۔

 یہاں پر عوام کے اجتماعی مسائل کی بجائے لوگوں کی ذاتی زندگی، مذہبی عقائد، علاقائی رسم و رواج، اخلاقی اقدار، چادر اور چار دیواری کا تقدس، اخوت و بھائی چارگی کو تار تار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی گئی۔ جس کے نتیجے میں معاشرے میں انتہا پسندی، عدم برداشت اور جذباتی کیفیت پروان چڑھ گئی جو وقت کے ساتھ ساتھ بحث و تکرار سے نکل کر گالم گلوج، لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت کی دھمکیوں تک جا پہنچی۔ مسئلہ پھر یہی کہ سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے تعصبات کے مورچوں میں چھپے ان مجاہدین میں مطالعے کا فقدان ہے۔ اسی لئے یہ لوگ دلیل، شواہد اور منطق کی بنیاد پر گفتگو کی بجائے جذبات اور غصے کی کیفیت میں ایک دوسرے پر نفرتوں کی گولیاں برساتے ہیں۔ یہی ایک دو گولیوں سے پھوٹنے والا بارود پورے معاشرے کو زہر آلود کردیتا ہے۔

گلگت بلتستان کے معروضی حالات کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئےگلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کی جانب سے گزشتہ دنوں ایک اعلامیے کے ذریعے سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی ٹھانی گئی۔ مگر مسئلہ پھر یہی ہے کہ سوشل میڈیا کے اس طوفانی گند جو کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک صورت اختیار کررہی ہے پر قابو کیسے پا لیا جائے؟ کیا علاقے کو تباہی کی طرف لے جانے والے سوشل میڈیا کے اس طوفان کو محض ایک کاغذی ہدایت نامے کے ذریعے کنٹرول کرنا ممکن ہوگا؟

کیا پاکستان کے سائبر کرائم ایکٹ میں ایسے قوانین کا احاطہ کیا گیا ہے کہ جن کے تحت سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے کے مرتکب افراد کو قانون کے شکنجے میں جکڑا جائے؟ کیا سائبر کرائم ایکٹ کو گلگت بلتستان تک توسیع دی گئی ہے؟ کیا اس قانون کے تحت خطاکار اور بے گناہ میں فرق واضح کی جائیگی؟

اگر سوشل میڈیا کے ان بے لگام صارفین کے خلاف کارروائی میں کوئی قانونی رکاوٹیں حائل نہیں تو بلا تاخیر ایسے پیجیز اور آئی ڈیز کی چھان بین اور ان کے پیچھے پس پردہ محرکات سے پوچھ گچھ کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ ساتھ ہی ساتھ حکومتی سرپرستی میں نوجوانوں کے اندر سوشل میڈیا کے دانشمندی سے استعمال سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے حوالے سے بھی ایک جامع منصوبے کے تحت کام کیا جائے۔ تاکہ علاقے کو نفرتوں اور بدامنی کی آگ میں جھلس جانے سے بچایا جا سکے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: