اہم ترین

چوری کا الزام لگنے سے دلبرداشتہ 13 سالہ بچے نے پُل سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا

چترال (خصوصی رپورٹ) خیبر پختونخواہ کے ضلع چترال میں ایک 13 سالہ لڑکے نے مبینہ طور پر پل سے چھلانگ لگا کر اپنی جان لے لی۔کم عمر بچے نے مبینہ طور پر یہ انتہائی قدم تب اُٹھایا جب اس پر کچھ دکانداروں نے چوری کا الزام لگا کر اسے پولیس کے حوالے کردیا۔ 

لڑکے کی شناخت تنویر کے نام سے ہوئی ہے جو گرین لشٹ، چترال کا رہائشی ہے۔

بچے کے والد نے ڈی پی او اپر چترال (بونی) کے نام ایک درخواست میں دکانداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیٹے پر چوری کا بے بنیاد الزام لگانے کے بعد دکانداروں نے اسے مارا  پیٹا اور پھر پولیس کے حوالے کردیا، جنہوں نے بچے کو مبینہ طور پر "حبس بیجا” میں رکھ کر ذہنی اذیت دی۔

یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچے کو مبینہ طور پر کسی نے "شاپ لفٹنگ” کرتے ہوئے دیکھا۔
ایک مقامی لکھاری اقرار الدین خسرو نے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوے لکھا ہے کہ بچے کے ’پکڑے‘ جانے کے بعد، کئی دکاندار
سامنے آئے اور اس پر کوئی ثبوت پیش کیے بغیر بہت سی دوسری چیزیں چوری کرنے کا الزام لگایا۔
دیگر چیزوں کے علاوہ، نوجوان پر مبینہ طور پر 80 کلو گرام ہیوی سکیل/بیلنس (ترازو) چوری کرنے کا الزام تھا۔
جس کے بعد دکانداروں نے بچے کو پولیس کے حوالے کر دیا ۔

مبینہ طور پر بچہ اپنے والد اور ماموں کے ساتھ گھر چلا گیا جب اس کے والد نے دکانداروں کو معاوضہ دینے کا وعدہ کیا۔

والد کی جانب سے لکھی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کا بیٹا صبح 10 بجے گھر سے نکلا اور پل سے دریامیں چھلانگ لگا کر اپنی جان لے لی۔ مبینہ طور پر بچے نے اپنے تکیے کے نیچے ایک نوٹ بھی چھوڑا تھا۔ اس نے مبینہ طور پر اپنی جان لینے سے پہلے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر "معذرت بہن۔ میں تم سے پیار کرتا ہوں” لکھا تھا۔
بچے کی لاش دو روز قبل مقامی لوگوں نے قریبی ندی سے برآمد کی تھی۔
والد نے درخواست میں دکانداروں اور مقامی پولیس پر اپنے بیٹے پر بے بنیاد الزامات لگانے اور اسے تشدد کا نشانہ بنا کر اپنی جان لینے پر مجبور کرنے کا الزام لگایا ہے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ 

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: