یمالو …. آسمانی شکاری: گلگت بلتستان کی اساطیری مخلوقات
تحریر: عزیز علی داد
ترجمہ: اشفاق احمد ایڈوکیٹ
گلگت کی اساطیری روایتوں میں دیومالائی مخلوقات، جنہیں مقامی زبان میں "دیواکو” کہا جاتا ہے، مختلف صورتوں اور اوصاف کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔ ہر مخلوق اپنی جداگانہ خصوصیات کی بنا پر ایک منفرد شناخت رکھتی ہے۔ گلگت بلتستان کے کائناتی تصورات (Cosmology) میں یہ اختلافِ صفات کسی مخلوق کو اساطیری دنیا سے خارج نہیں کرتا، بلکہ بسا اوقات ایک دوسرے سے بالکل متضاد اوصاف رکھنے والی ہستیاں بھی ایک ہی روحانی نظام کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ "یمالو” اسی اساطیری تصور کی ایک نہایت دلچسپ مثال ہے۔
گلگت کی لوک روایات میں پریوں کو پاکیزہ اور ماورائی مخلوق تصور کیا جاتا ہے، تاہم پریوں کی دنیا صرف نسوانی ارواح تک محدود نہیں۔ اُس دنیا میں "یمالو” بھی آباد ہے، جسے ایک محافظ روح (درانیجی) کا نر ساتھی مانا جاتا ہے۔
یمالو گلگت بلتستان کے بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر رہتا ہے۔ وہ چند خاص مواقع پر ہی نشیب کی وادیوں میں اترتا ہے۔ انسانوں کی موجودگی اسے اس قدر مشتعل کر دیتی ہے کہ اس کا جسم آگ کی طرح جلنے لگتا ہے۔ یمالو کے اندر ایک ایسی آتشی جبلت اور غصہ موجود ہے جو کبھی کبھار اپنی مالک پری کی مقرر کردہ حدود کو تجاوز کر کے خود اسے بھی بھسم کر ڈالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بلند پہاڑوں کی سرد ترین آب و ہوا میں رہنے پر مجبور ہے۔
جیسا کہ میں نے اپنی پچھلی تحریروں میں ذکر کیا کہ محافظ پریاں (راچی) انسانی شکاریوں کی رہنمائی کرتی ہیں، لیکن بلند چراگاہوں اور پہاڑوں کی اس مقدس سلطنت میں صرف انسان ہی شکاری نہیں ہیں۔ یمالو اس مقدس دنیا کا "آسمانی شکاری” ہے جو انسانی دنیا سے بلند تر مقام پر رہتا ہے۔ وہ ایک خونخوار شکاری ہے جو انسانوں کا شکار تیروں سے کرتا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ عام عقیدہ تھا کہ انسانی شکاری کی روح ایک "مایارو” یعنی مارخور یا آئی بیکس میں بستی ہے۔ جب بھی یمالو کسی انسان کی روح کا شکار کرنا چاہتا ہے، تو وہ براہِ راست انسان پر حملہ نہیں کرتا، بلکہ اس مارخور کو تلاش کرتا ہے جس میں اس شکاری کی روح مقیم ہوتی ہے۔ اس مارخور کو تیر سے مارنے کے بعد یمالو اس کا گوشت کھا لیتا ہے اور پھر اس کی ہڈیاں اکٹھی کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ "روحانی مارخور” دوبارہ زندہ ہو کر بھاگ جاتا ہے، لیکن زمین پر موجود اس کا انسانی ہمزاد چند دنوں بعد مر جاتا ہے۔
مقامی لوک کہانیوں میں یمالو کے تذکرے سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بعض اوقات "درانیجی” پری کے ایما پر بھی انسانوں کا شکار کرتا ہے، خاص طور پر تب جب کوئی شکاری شکار سے متعلق طے شدہ سماجی یا مذہبی رسوماتی پابندیوں کی خلاف ورزی کرے۔ آج بھی گلگت کے لوگوں میں یہ پختہ یقین ہے کہ شکار کے قوانین کی ذرا سی بھی خلاف ورزی محافظ پری کو غضبناک کر دیتی ہے۔ سزا کے طور پر وہ یمالو کو حکم دیتی ہے کہ اس شکاری کا شکار کیا جائے۔ یمالو تیر سے شکار کرنا پسند کرتا ہے، لیکن کبھی کبھار وہ شکاری کو پہاڑی سے نیچے دھکیل دیتا ہے یا بلندی سے بڑے پتھر گرا کر اسے کچل ڈالتا ہے۔ کبھی وہ شکاری کو برفانی تودے کے نیچے دفن کر دیتا ہے۔
یمالو ہمیشہ اپنی ساتھی پری کے حکم پر ہی شکار نہیں کرتا، بلکہ اسے فطری طور پر شکار کرنے میں لذت ملتی ہے۔ جب وہ طویل عرصے تک شکار نہیں کر پاتا ہے، تو وہ انسانی خون کا پیاسا ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ سخت سردیوں میں انسانی بستیوں میں اتر آتا ہے اور ان مَردوں کا شکار کرتا ہے جو رات کے وقت باہر گھوم رہے ہوتے ہیں۔ ایک کہانی مشہور ہے کہ دوستوں کا ایک گروہ دوسرے گاؤں میں نشے کی حالت میں تھا، واپسی پر شدید برفانی طوفان کی وجہ سے وہ اپنے گاؤں کا راستہ بھٹک گئے۔ اس وقت یمالو وادی میں شکار کی تلاش میں پھر رہا تھا۔ اس نے موقع پا کر ان تمام دوستوں کا شکار کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے ان کی روحوں پر قبضہ کر لیا اور ان کے جسموں کو چٹانوں پر چھوڑ دیا۔
داریل، گلگت اور پنیال کی اساطیری کہانیاں؛ دیامیر، گلگت اور غذر کے مختلف علاقوں میں پائے جانے والے بڑے ستون نما پتھروں (Megaliths) کی تنصیب کی توجیع بھی پیش کرتی ہیں۔ ایک لوک کہانی کے مطابق ایک دیوہیکل مخلوق (دیواکو) وادی میں انسانوں کو کھایا کرتا تھا ۔ اور جس شخص کو شکار کرتا اس کا ایک یادگاری پتھر کھڑا کرتا تھا۔ اگر شکار کیا گیا شخص خود ایک بڑا شکاری ہوتا، تو یمالو اس پر فخر کرتا اور اس کی یاد میں ایک بڑا پتھر نصب کرتا۔ شکار جتنا چھوٹا ہوتا، پتھر کا سائز بھی اتنا ہی چھوٹا ہوتا۔
مشہور ماہر بشریات کارل یٹمار (Karl Jettmar) نے بھی ایک ایسی کہانی بیان کی ہےجو انسان کی طرف سے حدود کی خلاف ورزی اور اس کی سزا کو ظاہر کرتی ہے۔ دیامر کے علاقہ گور (Gor) کے دورے کے دوران یٹمار کو ایک ایسا ڈھانچہ ملا جس کے مرکز میں ایک بڑی چٹان تھی اور اس کے گرد چھوٹے پتھر تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان ڈھانچوں میں انسانی سروں کو بطور یادگاری نشانی (Trophies) استعمال کیا جاتا تھا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آدم خور بادشاہ "شری بدت” کی کہانی گلگت کی ثقافت میں کوئی انوکھی بات نہیں تھی، بلکہ یہ قدیم زمانے سے چلی آنے والی آدم خوری کی روایات کا تسلسل تھا۔
یمالو کے کردار اور افعال کا بغور جائزہ لینے سے وہ پریوں کا ایک "آسمانی جلاد” کی حیثیت رکھتا، لیکن وہ موت کے دیوتا "شردھنگئلو” کی طرح کوئی باقاعدہ دیوتا نہیں ہے۔ وہ چراگاہوں، میدانوں، برف یا جنگلوں میں ہونے والے کسی بھی فعل کا نگران ہے۔
ایک کہانی میں ایک بھائی اور بہن ریوڑ لے کر چراگاہ جاتے ہیں۔ بھائی شیطان کے بہکاوے میں آجاتا ہے اور اپنی بہن کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لڑکی بے بسی میں محافظ دیوی کو پکارتی ہے۔ دیوی فوراً اس کی پکار سن کر یمالو کو بھیجتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یمالو برفانی چیتے سے بھی زیادہ پھرتیلا ہوتا ہے اور ایک چوٹی سے دوسری چوٹی تک لمبی چھلانگ لگا سکتا ہے۔ یمالو نے اس بھائی کو قتل کر دیا اور عبرت کے لیے وہاں ایک پتھر نصب کر دیا۔ نئے مذاہب کی آمد کے بعد، اس کہانی میں محافظ دیوی کی جگہ "خدا” نے لے لی جس نے اس لڑکے اور شیطان کو منجمد کر دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ یمالو اپنے شکار اور دی گئی سزا کی علامت کے طور پر ان نصب کردہ پتھروں کے اوپر اپنی یادگاری نشانی سجا دیا کرتا تھا۔
میں اپنے قارئین کا ممنون ہوں گا اگر وہ گلگت بلتستان کے اس دلچسپ دیومالائی مخلوق یمالو کے بارے میں کوئی بھی قصہ، کہانی یا معلومات شیئر کریں تاکہ اس کی تفصیلات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔






