شندور پولو فیسٹیول اور ماحولیات: تفریح، ثقافت اور ماحولیاتی توازن کا چیلنج

ڈاکٹر ارشد علی شیدائی
اسسٹنٹ پروفیسر (ماحولیات)، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت

شندور دنیا کے بلند ترین پولو میدانوں میں شمار ہوتا ہے اور اپنی بے مثال قدرتی خوبصورتی، ثقافتی اہمیت اور تاریخی پس منظر کے باعث پاکستان کی نمایاں شناخت بن چکا ہے۔ ہر سال جولائی میں منعقد ہونے والا شندور پولو فیسٹیول گلگت بلتستان اور چترال کے عوام کے لیے ایک اہم ثقافتی اور تفریحی تقریب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میلے میں ہزاروں مقامی اور بین الاقوامی سیاح شرکت کرتے ہیں اور گلگت بلتستان اور چترال کی پولو ٹیموں کے درمیان روایتی فری اسٹائل پولو کے دلچسپ مقابلوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ فیسٹیول کے اختتام پر ملکی سطح کی اہم شخصیات انعامات تقسیم کرتی ہیں، جس سے اس تقریب کی قومی اہمیت مزید اجاگر ہوتی ہے۔

متعلقہ

شندور پولو فیسٹیول کی تاریخ برطانوی دورِ حکومت تک جاتی ہے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی باقاعدہ بنیاد 1936ء کے آس پاس رکھی گئی، تاہم شندور اور اس کے اطراف کے علاقوں میں پولو کھیلنے کی روایت اس سے بھی کہیں زیادہ قدیم ہے۔ یہ کھیل نہ صرف تفریح کا ذریعہ رہا ہے بلکہ مختلف علاقوں کے درمیان سماجی، ثقافتی اور تاریخی روابط کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

شندور سطحِ سمندر سے تقریباً 3,700 میٹر (12,200 فٹ) کی بلندی پر واقع ایک وسیع و عریض سطحِ مرتفع، چراگاہ اور درہ ہے، جو ضلع غذر (گلگت بلتستان) اور ضلع اپر چترال (خیبر پختونخوا) کے درمیان واقع ہے۔ سردیوں کے دوران شدید برف باری کے باعث یہ درہ کئی ماہ تک بند رہتا ہے۔ تاریخی طور پر شندور دونوں علاقوں کے عوام کے درمیان آمدورفت، تجارت، سماجی تعلقات اور ثقافتی تبادلوں کا اہم راستہ رہا ہے۔ غذر اور چترال کے لوگوں کے درمیان صدیوں پر محیط خاندانی، سماجی اور تجارتی تعلقات آج بھی موجود ہیں۔

ماحولیاتی اعتبار سے شندور ایک انتہائی اہم اور نازک (Fragile) الپائن ماحولیاتی نظام (Alpine Ecosystem) کا حصہ ہے۔ یہاں مختلف اقسام کی گھاس، جڑی بوٹیاں، جنگلی پھول اور نایاب نباتات پائی جاتی ہیں، جو موسمِ گرما میں پورے علاقے کو رنگا رنگ پھولوں سے سجا دیتی ہیں۔ شندور اور اس کے اطراف کا علاقہ متعدد جنگلی جانوروں اور پرندوں کی آماجگاہ بھی ہے۔ ان میں برفانی چیتا، مارخور، سائبیریئن آئی بیکس، سرخ لومڑی، سنہری مرموٹ، لنکس، بھیڑیا اور مختلف اقسام کے شکاری و آبی پرندے شامل ہیں۔

اس علاقے کی غیر معمولی حیاتیاتی اہمیت کے پیشِ نظر حکومت نے 2022ء میں شندور کو قومی پارک (National Park) کا درجہ دیا تاکہ اس کے نازک ماحولیاتی نظام، جنگلی حیات اور قدرتی وسائل کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ شندور کے میدان، جھیلیں، ویٹ لینڈز اور بلند پہاڑی چراگاہیں نہ صرف حیاتیاتی تنوع کا مرکز ہیں بلکہ خطے کے آبی وسائل کے تحفظ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

شندور کے ماحولیاتی فوائد (Ecosystem Services) بے حد اہم ہیں۔ یہ علاقہ صاف پانی کے ذخائر اور چشموں کا منبع ہے، جنگلی حیات کے لیے موزوں مسکن فراہم کرتا ہے، اور الپائن ویٹ لینڈز کی بدولت کاربن ذخیرہ کرنے (Carbon Sequestration) میں معاون ثابت ہوتا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مقامی آبادی کے مویشیوں کے لیے چراگاہ، سیاحوں کے لیے تفریحی مقام اور مقامی معیشت کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔

تاہم گزشتہ چند برسوں میں شندور کا قدرتی ماحول بڑھتے ہوئے انسانی دباؤ کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہو رہا ہے۔ فیسٹیول کے دوران ہزاروں افراد کی آمد، عارضی رہائش، گاڑیوں اور انسانوں کی نقل و حرکت، اور غیر منظم سیاحت کی وجہ سے علاقے کے قدرتی وسائل پر نمایاں دباؤ پڑتا ہے۔ پلاسٹک، خوراک کے فضلے اور دیگر ٹھوس کچرے کی بڑی مقدار ویٹ لینڈز اور چراگاہوں کو آلودہ کرتی ہے۔ عارضی خیموں اور گاڑیوں کی آمدورفت سے گھاس اور نازک نباتات کو نقصان پہنچتا ہے، جبکہ بعض اوقات ایندھن کے لیے جھاڑیوں اور پودوں کا استعمال بھی مقامی نباتاتی تنوع کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

مزید برآں، شور، ہجوم اور انسانی سرگرمیوں میں اضافے سے جنگلی حیات کا قدرتی طرزِ زندگی متاثر ہوتا ہے۔ جانوروں کی نقل و حرکت، خوراک کے حصول اور افزائشِ نسل کے معمولات میں خلل پیدا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض انواع اپنے مسکن چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ پانی کے ذرائع میں آلودگی بڑھنے سے نہ صرف جنگلی حیات بلکہ مقامی آبادی اور مویشیوں کی صحت کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

البتہ شندور پولو فیسٹیول سے مقامی معیشت، سیاحت اور ثقافتی ورثے کو فروغ ملتا ہے۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ فیسٹیول کو ماحول دوست (Eco-friendly) اصولوں کے تحت منظم کیا جائے تاکہ ثقافتی روایات اور قدرتی ماحول کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔

اس مقصد کے لیے چند عملی اقدامات ناگزیر ہیں:

  1. فیسٹیول میں شرکت کرنے والے افراد کی تعداد کو ایک معقول حد تک محدود کیا جائے۔
  2. کچرے کے مؤثر انتظام، ری سائیکلنگ اور صفائی کے سخت نظام نافذ کیے جائیں۔
  3. پلاسٹک کے استعمال پر سخت پابندی عائد کی جائے۔
  4. حساس ویٹ لینڈز اور چراگاہوں کو حفاظتی زون قرار دیا جائے۔
  5. جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مخصوص علاقوں میں انسانی رسائی محدود کی جائے۔
  6. فیسٹیول کے بعد ماحولیاتی بحالی (Ecological Restoration) کے اقدامات کیے جائیں۔
  7. سیاحوں اور مقامی افراد میں ماحولیاتی آگاہی پیدا کی جائے۔
  8. فیسٹیول کے ماحولیاتی اثرات کا باقاعدہ سائنسی اور تحقیقی جائزہ لیا جائے۔

شندور صرف ایک پولو میدان نہیں بلکہ ایک قیمتی قدرتی ورثہ، ایک منفرد الپائن ماحولیاتی نظام اور آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ اگر ہم نے اس کے قدرتی وسائل کے تحفظ کو نظر انداز کیا تو مستقبل میں اس کی حیاتیاتی تنوع، چراگاہیں، ویٹ لینڈز اور آبی ذخائر ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ شندور پولو فیسٹیول کو پائیدار اور ماحول دوست انداز میں منعقد کیا جائے تاکہ ثقافت، سیاحت اور ماحولیات تینوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

قدرتی ماحول کا تحفظ دراصل انسان کے اپنے مستقبل کا تحفظ ہے۔ شندور کو بچانا صرف ایک مقام کو بچانا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حقِ حیات، قدرتی وسائل اور ماحولیاتی توازن کو محفوظ بنانا ہے۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button