بلے سے تیر تک کا سفر اور جوتوں کا ہار
علی احمد جان
جتنی جلدی گلگت بلتستان میں سردیاں آ جاتی ہیں۔ اس بار PTI کی سوشل میڈیا ٹیم نے "سرد مہر” بھی بے حد جلدی شروع کر دی۔
یہاں بات حالیہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نیک نام کریم کی ہو رہی ہے۔ کل تک "بلے” کے حمایتی، آج "تیر” کے ساتھی بن گئے ہیں۔ انہوں نے الیکشن میں کامیابی کے بعد کے بعد پی پی شمولیت اختیار کرلی ہے۔ سیاست میں یہ ہوتا رہتا ہے۔ بندہ پرانا، جھنڈا نیا، نعرے وہی لیکن قائد الگ۔۔۔ ان کے اس فیصلے کے بعد PTI کے آفیشل پیج نے "سیاسی اختلاف” کا حل "فوٹوشاپ ” کے ذریعے نکالا۔ نیک نام صاحب کی فوٹو ایڈیٹ کر کے گلے میں جوتوں کا ہار ڈال دیا۔ کل تک موصوف ان ٹائیگرز کے لیے فرشتہ تھے، آج پارٹی چھوڑی تو شیطان بن گئے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ حرکت کوئی نئی نہیں ہے۔
چند سال پہلے یعنی 2014 میں "کنٹینر والی تقاریر” کون بھلا سکتا ہے، تب خان صاحب خاص اداروں کے "بہت خاص”تھے اور وہ خاص لوگ کارپوریٹ میڈیا کے چہیتے ہوتے ہیں اس لیے تمام تقاریر کی لائیو ٹرانسمیشن ہوتی تھی۔ وقت بھی کیا کیا ظلم کرتا ہے، اب وہی ٹی وی چینلز عمران خان کا نام بھی نہیں لے سکتے ۔ خیر اس وقت اسٹیج سے مخالفین کو جو القاب ملے، وہ لغت کی کتابوں میں نہیں ملتے۔ قائد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کارکنان نے بھی وہی لہجہ اپنایا۔ آج اسلام آباد سے ہنزہ تک وہی "کنٹینر والی جھلک” ہمیں نظر آتی ہے۔ جلسے میں مخالف لیڈر کا نام آتے ہی "مخصوص نعرے” لگوانا روٹین بن گیا تھا۔ اب گلگت کی شائستہ سیاست میں یہ چیز نئی شامل ہوگئی ہے۔ یہاں تو مخالف کو بھی "استاد” کہہ کر بات شروع کرتے تھے۔ اب "اسٹیج والی تربیت” سوشل میڈیا پر نطر ارہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم پاکستان میں "ٹوئٹر ٹرینڈ” کی بادشاہ تھی۔ مخالف صحافی، مخالف سیاستدان، مخالف کارکن… کوئی نہ بچا۔ ٹرینڈ چلاؤ، میمز بناؤ، فوٹو ایڈیٹ کرو۔ یہ ماڈل اب گلگت بلتستان کی وادیوں میں بھی کاپی پیسٹ ہو رہا ہے۔ نیک نام صاحب والی فوٹو اسی "سکول آف ٹرولنگ” کا ہوم ورک ہے۔جلسوں میں مخالف کو "غدار” کہنا عام ہو گیا ہے۔ کل تک جو بندہ ساتھ کھڑا تھا وہ "صادق و امین”۔ آج پارٹی چھوڑی تو "میر جعفر”۔ گلگت میں تو دشمن کو بھی "مہمان” کا درجہ دیتے ہیں۔ پر یہاں تو وفاداری کا سرٹیفکیٹ بھی "پارٹی ممبرشپ” کے ساتھ Expiry Date رکھتا ہے۔
اگر آپ کو سیاسی اختلاف ہے؟ مناظرہ کرو، دلیل دو۔ گھڑی باغ یا علی آباد میں کھڑے ہو کر عوام کو سمجھاؤ۔ پر فوٹو پر جوتے کا ہار؟ یہ ہماری تہذیب نہیں۔ جسے لوگ ڈی چوک سے لے کر آئے ہیں۔ ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ "پہاڑوں میں آواز پلٹ کر آتی ہے”۔ آج تم نے جوتے کا ہار نیک نام کے فوٹو کو پہنا دیا ہے، کل کو تمہارے بندے پر کوئی "چپل کی مالا” ڈال دے گا اس کو برداشت کروگے؟؟ نیک نام کے بچوں اور والدین نے یہ فوٹو دیکھی ہوگی اور ان کو کیسا لگا ہوگا؟؟ بچون نے اپنے والد سے کیا سوال پوچھے ہوں گے اور اپنے جزبات کیسے چھپائے ہوں گے؟؟
ہنزہ کی برف سفید ہے۔ اسے ٹرولنگ کے کالے رنگ سے مت رنگو۔ سیاست کرو، تمیز سے کرو۔ ورنہ کل کو یہی "جوتوں کا ہار” تمہارے گلے میں ہو گا۔






