چترال کا "احسان اللہ احسان” اور پیاس پر پہرے
ویسے تو احسان اللہ احسان کے نام سے کون واقف نہیں، جو کبھی پاکستان میں ظلم، بربریت اور دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ معصوم بچوں، پاک فوج کے غازیوں اور بے گناہ شہریوں کا خون اسی کے سر جاتا ہے۔ وہ سفاکی سے قتل بھی کرتا تھا اور دیدہ دلیری کے ساتھ اس کا اعتراف بھی کرتا تھا۔
آج چترال بازار میں محرم الحرام کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے "سبیل” کو سڑک پر پھینکنے کا اندوہناک واقعہ دیکھا، تو ذہن ماضی کے اسی سفاک کردار کی طرف چلا گیا۔ چترال بازار میں لمبے بالوں والا ایک شخص اپنے چند شرپسند ساتھیوں کے ساتھ سبیلیں الٹاتا ہوا نظر آیا۔
سمجھ نہیں آتا کہ ان کے نزدیک محرم الحرام میں پیاسوں کو پانی یا شربت پلانا کب سے حرام ہو گیا؟ یا پھر یہ لوگ حلال و حرام کی تمیز سے ہی عاری ہو چکے ہیں؟ اگر تاریخ کی عینک سے دیکھا جائے تو یہ غنڈہ گردی اور سوچ، ملوکیت اور دہشت کا نقطۂ آغاز ہے، جس کا نقطۂ عروج احسان اللہ احسان جیسے کرداروں کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
https://www.facebook.com/reel/883013658184063
یہ افسوسناک واقعہ چترال بازار میں پیش آیا، جہاں ایک پرامن دکاندار، بلکہ مثبت اور روادار سوچ رکھنے والے چترال کے شہریوں کو خوفزدہ کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی، جو سراسر کھلی غنڈہ گردی ہے۔ ہم مقامی انتظامیہ سے پُرعزم امید رکھتے ہیں کہ ان شرپسند عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کی جائے گی تاکہ آئندہ کسی کو چترال کے امن کو سبوتاژ کرنے کی جرات نہ ہو سکے۔
اگر عقل و شعور کی بنیاد پر سوچا جائے تو یہ ایک عام فہم سی بات ہے کہ اگر آپ کو کوئی عمل پسند نہیں، تو آپ اس کا حصہ نہ بنیں۔ آپ کسی کو پانی، شربت یا کھانا مت کھلائیں، لیکن کسی دوسرے کی عقیدت کو پامال کرنے اور اسے ذہنی و جسمانی اذیت دینے کا حق آپ کو کس نے دیا ہے؟
اصل میں یہاں بات صرف سبیل کا پانی سڑک پر پھینکنے کی نہیں ہے، بلکہ معاشرے میں خوف، دہشت اور نفرت پھیلانے کی ہے۔ یہ وہی یزیدی سوچ ہے جو پیاس کو ہتھیار بناتی ہے اور محبت کے راستے میں دیوار کھڑی کرتی ہے۔
یہ رویہ اختیار کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ کربلا کے شہداء اور ان کی قربانی کسی ایک مسلک یا گروہ کی نہیں، بلکہ پوری انسانیت کی سانجھی میراث ہے۔ کربلا تو نام ہی ظالم کے سامنے ڈٹ جانے اور پیاسوں کو پانی پلانے کا ہے۔ سبیلیں الٹانے والے یاد رکھیں کہ حسینیت دلوں کو جوڑتی ہے اور پیاسوں کو سیراب کرتی ہے، جبکہ نفرت پھیلانے والے تاریخ کے اندھیروں میں ہمیشہ کے لیے گم ہو جاتے ہیں۔




