جب پہاڑ روتے ہیں !
گلگت بلتستان میں ایک مرتبہ پھر قدرت برہم ہے۔
گلیشرز پگھل رہے ہیں، دریا بپھر گئے ہیں، پہاڑ کھسک رہے ہیں، اور زمینیں نگل رہی ہیں۔ دیامر، غذر اور بلتستان کے کئی علاقے گزشتہ چند دنوں میں سیلاب، دریائی کٹاو اور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ چکے ہیں۔
کھڑی فصلیں بہہ گئیں۔ زرعی زمینیں کٹ گئیں۔ پھلدار درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔ اور سب سے بڑھ کر، گھر۔۔۔۔۔ وہ گھر جنہیں لوگوں نے سالوں کی محنت سے بنایا تھا، وہ چند منٹوں میں مٹی میں مل گئے۔
اعداد و شمار چیخ چیخ کر کیا کہہ رہے ہیں؟
پچھلا سال بھولے نہیں کیونکہ اعداد و شمار ہمیں بھولنے نہیں دیں گے۔
گزشتہ سال یعنی 2025 میں گلگت بلتستان میں 46 لوگ جاں بحق ہوئے اور 50 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ 120 مقامات پر سیلاب آیا جس کے نتیجے میں 20 کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوئیں،87 پل متاثر ہوئے یا مکمل طور پر بہہ گئے، 1200 کے قریب گھر گر گئے تھے۔ اس کے بعد 3140 لوگ مہینوں تک خیموں میں رہنے پر مجبور ہوئے، جہاں پینے کا صاف پانی، بجلی اور باتھ روم جیسی بنیادی سہولیات تک نہ تھیں۔ ہزاروں بچے آج بھی ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کل نقصان تقریباً 30 بلین روپے کا ہوا تھا۔ رپورٹس کے مطابق سیاحت میں 90 فیصد کمی دیکھنے میں آئی تھی۔
یہ صرف نمبرز نہیں ہیں۔ یہ 46 خاندان ہیں۔ یہ 1200 گھر ہیں۔ یہ 3140 لوگ ہیں جنہوں نے خیموں میں سرد راتیں گزارے اور بہت سارے آج بھی خیمے کی چھت تلے سو رہے ہیں۔
غذر کے تالی داس میں سیلاب کے بعد دریا کا بہاو ہی رک گیا تھا۔ پانی جمع ہو کر ایک جھیل بن گئی۔ ایک سال گزر گیا۔ متعلقہ ادارے کیا کر رہے تھے؟ رپورٹیں بنیں، دورے ہوئے، وعدے ہوئے۔ لیکن زمین پر کوئی خاص کام نہ ہوا۔
آج وہی جھیل، بڑھتے ہوئے پانی کے ساتھ، ایک بار پھر لوگوں کے سروں پر خطرہ بن کر کھڑی ہے۔ اور لوگ؟ وہ ایک بار پھر خیموں میں ہیں۔
سب سے بڑا خطرہ: ہماری خاموشی اور منافقت
ہمیں اس حقیقت کو ماننے میں اب اور کتنا وقت لگے گا کہ گلگت بلتستان، چترال اور پہاڑی پٹی کے لیے ماحولیاتی تبدیلی اب "مستقبل کا مسئلہ” نہیں رہا۔ یہ "آج کا مسئلہ” ہے۔ یہ سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اور سب سے تکلیف دہ بات کیا ہے؟ ہمارے اداروں کی منافقت۔
آپ گلگت بلتستان ڈزاسٹر منیجمنٹ کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر جائیں تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ ادارہ کلائمیٹ چینج کو کتنا "سیریس” لیتا ہے۔
ان کے دفاتر کی تصویریں خود بتاتی ہیں کہ اندر بے تحاشا اور غیرضروری طور پر لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس کے لیے درخت کاٹے گئے ہوں گے۔ کیا یہ ضروری ہے؟ یہ صرف GBDMA کا حال نہیں، گلگت بلتستان کے تقریباً تمام سرکاری دفاتر کا حال ہے۔ اسمبلی کے اندر بھی لکڑی کا بے جا استعمال نظر آتا ہے۔
سوشل میڈیا کی تصاویر دیکھیں کہ اس ادارے نے "شجرکاری مہم” کے لیے بڑے بڑے پینافلیکس لگائے ہیں۔ سوال یہ ہے: پینافلیکس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ جب عمل سے ثابت کرنا ہو تو بینر کی ضرورت نہیں پڑتی۔
گزشتہ سال کئی قیمتی جانیں گئیں۔ اس وقت ٹی وی پر بریکنگ نیوز چلی، NGOs نے راشن اور خیمے دیے، حکومت نے چند اعلانات کیے۔ اور پھر؟ پھر ہم سب بھول گئے۔
اس سال بھی یہی ہوگا کیا؟
چند سوال جو اب پوچھنے ہیں
1۔ گلگت بلتستان ڈزاسٹر مبیجمنٹ کی کارکردگی کیا ہے؟ ایک سال میں تالی داس جھیل کے لیے کیا
ٹھوس قدم اٹھایا گیا؟ ارلی وارننگ سسٹم کہاں ہے؟
2۔ ہم مانتے ہیں کہ ہم سیلاب کو روک نہیں سکتے۔ لیکن کیا ہم لوگوں کو 24 گھنٹے پہلے اطلاع نہیں دے سکتے؟ کیا ہم خطرناک علاقوں مثلا دریا کنارے اور دیگر جگہوں میں تعمیرات روک نہیں سکتے؟
3۔ بحالی کا پلان کہاں ہے؟ گزشتہ سال 3140 لوگ جو خیموں میں تھے، ان کی مستقل بحالی کہاں ہے؟ 30 بلین کے نقصان کے بعد اگلے سال کے لیے بجٹ کیا ہے؟
4۔ ماحول دوست طرزِ حکمرانی کب؟ جب ایک طرف شجرکاری کے بینر لگ رہے ہوں اور دوسری طرف دفاتر میں درختوں کا بے دریغ استعمال، تو پیغام کیا جا رہا ہے؟
یہ پہاڑ ہمارا گھر ہیں۔ یہ دریا ہماری زندگی ہیں۔ لیکن جب ہم قدرت کا احترام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، اور اپنے اداروں سے جواب نہیں مانگتے، تو قدرت بھی اپنا حساب لے لیتی ہے۔
خیمے میں رہنے والا بچہ یہ نہیں پوچھتا کہ سیلاب کیوں آیا۔ وہ یہ پوچھتا ہے کہ ریاست نے ہمارے لیے کیا کیا جب ہم پر آفت آپڑی تھی۔ وہ یہ پوچھتا ہے کہ "پچھلی بار ہمیں پہلے آگاہ نہیں کیا تھا، بحالی کا کام نہیں ہوا کیا آئیندہ بھی یہی ہوگا؟”
کیا ہمارے پاس ان سوالات کے جوابات ہیں؟
ایک عام شہری کیا کر سکتا ہے؟
اگر آپ GB سے ہیں تو اپنے علاقے کے نمائندوں سے GBDMA کی کارکردگی پر سوال کریں۔ اگر آپ GB سے باہر ہیں تو متاثرہ خاندانوں کی آواز بنیں۔ بھولنا سب سے بڑی غفلت ہے۔



