گلگت بلتستان کا نیا گورنر؟
خبر بریکنگ ہے! گلگت بلتستان میں نیا گورنر لگنے والا ہے اور جیسے ہی یہ خبر پھیلی، سوشل میڈیا پر قیامت آ گئی۔ فیس بک، واٹس ایپ، ٹک ٹاک… ہر گلی، ہر محلے سے ایک "اہل ترین” بندہ نکل آیا ہے۔
قابلیت کا نیا فارمولا:
یہاں قابلیت کا مطلب سیاسی شعور، PHD یا MPhil نہیں ہے بھائی، وہ تو 14-16 سکیل کی سرکاری نوکری کے قطار میں لگے ہوئے ہیں گورنری کے لیے قابلیت آج کل سوشل میڈیا پر مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ ماما، چچا ٹائپ: "دیکھو میرے ماما کتنے معزز ہیں۔ شکل سے ہی گورنر لگتے ہیں۔ لائک کریں” یا "ہمارے چچا نے 1992 میں ایک جلسے میں نعرہ لگایا تھا۔ وہ سب سے قابل ہیں”
2۔ مولوی ٹائپ: "محلے کے مولوی صاحب۔ دین بھی، دنیا بھی۔۔۔ بس اپنا بندہ ہو”
3۔ نعرہ باز ٹائپ: "پچھلے الیکشن میں اس نے سب سے اونچی آواز میں ‘ زندہ باد’ لگایا تھا۔ یہی ٹیلنٹ ہے”
ڈگری، تجربہ، پالیسی، سیاسی شعور؟؟؟ وہ سب شجر ممنوعہ ہے۔ خاص کر اگر بندہ قوم پرست سوچ رکھتا ہو یا عوام کے مفاد کی بات کرتا ہو۔ پھر تو گورنر ہاؤس کا دروازہ خودبخود بند ہوجاتا ہے۔
کوٹے کی جنگ: اپنا اپنا والا سین
یہاں معاملہ "اہلیت” کا نہیں، "اپنائیت” کا ہے۔ اہل سنت کے بھائی فیس بک پر مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں گورنر "اپنا” چاہیے۔ فلاں جماعت والا اپنا ہے، فلاں بھی اپنا ہے اور ٹھپہ لگا دیتے ہیں۔اثناعشری احباب کیوں پیچھے رہیں؟ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا مطالبہ بھی پرزور ہے۔ بندہ اپنا لگنا چاہیے۔ اسماعیلی احباب بھی مطالبہ نما گزارش کر رہے ہیں کہ ہم شرافت اور تعلیم یافتہ ہونے کا کارڈ کھیلیں گے۔ تمیز سے مانگیں گے۔ لیکن مانگیں گے ضرور۔
سوشل میڈیا پر ہونے والے اس دھکم پیل کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے اور آخر میں آئے گا وہی جو مہدی شاہ، کرم علی شاہ، وزیر بیگ، شمع خالد یا غضنفر جیسا "قابل ترین” ہوگا۔ یعنی جس کا نام اسلام آباد کی فائل میں پہلے سے لکھا ہو۔
سوشل میڈیا: نیا کھلونا، نیا شوق
گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ابھی ابھی جوان ہوا ہے، (کچھ لوگ ختنہ کرانے کا بھی سوچ رہے ہیں)۔۔ ظاہر سی بات ہے لوگ بھی معصوم ہیں۔
کوئی بندہ اپنے ٹائم لائن پر کسی کی تصویر لگا کر کیپشن لکھتا ہے کہ "گورنری کے لیے فٹ”ہمارا ہی بندہ ہے ساتھ میں ٹوپی شانٹی کے ساتھ بھرپور فلٹر والی تصویر لگا کر دل میں سمجھتا ہے کہ بس اب صدر زرداری صاحب نوٹیفیکیشن دیکھ کر فوراً کمنٹ کریں گے کہ "بھائی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، یہی لگا دیتے ہیں”۔ یا پھر یہ معصوم لوگ یہ آس لگائے بیٹھتے ہیں کہ شاید فیلڈ مارشل بھی ریپلائی میں "Done” لکھ دیں گے۔
ارے بھائی! یہ سوشل میڈیا ہے، پارلیمنٹ نہیں (جس کی دروازے آپ لوگوں کے لیے مقفل ہیں)۔ سوشل میڈیا پر بس لائک ملتے ہیں، نوٹیفیکیشن نہیں۔
تلخ حقیقت کا آخری گھونٹ
گلگت بلتستان میں ہمارے پاس ہزاروں کی تعداد میں پی ایچ ڈی، ایم فل ڈگری ہولڈرز ہیں، سیاسیات کے ماسٹرز ہیں لیکن وہ سب 14 سکیل کی نوکری کے فارم کے پیچھے دھکے کھا رہے ہیں۔ اور گورنر وہی بنے گا جو "سسٹم” کو فٹ بیٹھتا ہو۔
تو چلیں، اپنی پسند کی تصویر لگاتے رہیں۔ کمنٹ میں "ماشاءاللہ، بہترین چوائس، جو کزن” لکھتے رہیں کیونکہ GB میں گورنر سلیکشن کا اصل پروسس یہی ہے۔
علی احمد جان



