گولی، زہر ہی حل ہے؟

آج گلگت سے دو خبریں نظر سے گزریں۔

پہلی خبر: آوارہ کتوں کے کاٹنے سے ایک ہی دن میں 4 افراد ہسپتال پہنچ گئے۔
دوسری خبر: گلگت شہر میں "کتا مار مہم” چلائی گئی۔ 150 سے زائد آوارہ کتوں کو مار دیا گیا۔

واہ جی! مسئلہ آیا، اور یک دم حل نکالا کہ کتوں کو مار دو، یہ تو بالکل ویسے جیسے بخار ہو تو سر کاٹ دیا جائے۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ پچھلے سال بھی سینکڑوں کتوں کو زہر دے کر اور گولیاں مار کر ختم کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز بھی گردش کرتی رہیں۔ بے زبان جانور تڑپ تڑپ کر مر رہے تھے، اور ہم "مہم کامیاب” کے پوسٹر لگا کر سو گئے۔ کیا اس مہم کے بعد کتے ختم ہوگئے؟ کیا کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں کمی ہوئی؟

سوال یہ ہے کہ کیا یہی ہماری واحد پالیسی ہے؟ مار دو۔ ختم کرو۔

یہاں دو مثالیں شیئر کرتا ہوں کہ دنیا نے یہ کام کتوں کو مارے بغیر بھی کیا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے یہاں ہر مسئلے کا حل زبردستی اور بندوق کے ذریعے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے چاہے سیاسی مسئلہ ہو یا ریبیز۔۔۔ 21ویں صدی میں بھی ہمارا حل پتھر کے زمانے والا ہے، جبکہ دنیا بہت آگے جا چکی ہے۔

1. ترکی – استنبول کا ماڈل
استنبول میں لاکھوں آوارہ کتے تھے۔ حکومت نے انہیں مارنے کے بجائے "CNVR” پالیسی اپنائی۔
Catch – پکڑو
Neuter – نیوٹرل کرو یعنی افزائش روکو
Vaccinate – ریبیز کا ٹیکہ لگاؤ
Release – واپس اسی علاقے میں چھوڑ دو

نتیجہ یہ نکلا کہ کاٹنے کے واقعات 60% کم ہو گئے۔ کتے بھی رہے، لوگ بھی محفوظ رہے۔

2. بھوٹان کی پالیسی
بھوٹان نے 2009 میں فیصلہ کیا کہ ایک بھی کتا نہیں مارا جائے گا۔ انہوں نے موبائل ویٹرنری کلینک بنائے۔ مفت نیوٹرنگ اور ویکسینیشن کی۔ ساتھ ہی کچرا مینجمنٹ بہتر کی۔ آج بھوٹان کو WHO نے "ریبیز فری” ملک قرار دیا ہے اور یہ سب بغیر ایک گولی چلائے ہوا۔

اصل مسئلہ کتا نہیں ہے۔ وجوہات کچھ اور ہیں

ہم کتوں کو مارتے رہتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ یہ بڑھ کیوں رہے ہیں؟

1. فری کا کھانا: گلگت میں ہمیں کتوں کی فوج یونیورسٹی روڑ، چھلمس داس، گورو کے مقام پر نظر آتی ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں کچرا، کوڑا کرکٹ اور ہوٹلوں کا بچا کھانا پڑا ہو، وہیں کتوں کی فوج ہوتی ہے۔ ہم نے خود دیکھا ہے۔ جب تک ڈمپنگ سائٹس اور کھلے کچرے ختم نہیں ہوں گے، کتے آتے رہیں گے۔

2. افزائش پر کوئی کنٹرول نہیں: ایک مادہ کتا سال میں 2 بار 4-6 بچے دیتی ہے۔ ہم نے آج تک کسی کتے کو نیوٹر نہیں کیا۔ تو تعداد بڑھے گی اور گلگت میں یہی ہو رہا ہے۔

3. پالتو کتوں کو چھوڑ دینا: لوگ شوق سے کتے کا بچہ لاتے ہیں۔ بڑا ہو جائے یا بیمار پڑ جائے تو شہر سے باہر پھینک دیتے ہیں۔ وہ جا کر آوارہ گروپ جوائن کر لیتا ہے۔

4. صفائی کا ناقص نظام: کچرا روزانہ ڈھک کر نہ اٹھے تو وہ کتوں کی "کینٹین” بن جاتا ہے۔

5. ویکسین نہ ہونا: بیمار اور ریبیز زدہ کتے زیادہ کاٹتے ہیں۔ ہم علاج اور ویکسین پر پیسہ نہیں لگاتے، صرف گولی پر لگاتے ہیں۔

تو حل کیا ہے؟

مارنا سب سے آسان ہے۔ سب سے سستا بھی لگتا ہے۔ لیکن یہ ظلم ہے۔ اور سب سے بڑی بات، یہ کام بھی نہیں کرتا۔ دو تین مہینے بعد پھر نئے کتے آ جاتے ہیں کیونکہ خوراک اور جگہ تو وہیں ہے۔

ہم "اشرف المخلوقات” ہیں۔ ہمارے پاس دماغ ہے، بجٹ ہے، ڈاکٹر ہیں، ویکسین ہے۔ پھر بھی حل کے نام پر صرف زہر اور گولی؟

آپ کی رائے

comments

Back to top button