گلگت شندور روڈ کی تعمیر سست روی کا شکار

ترقی یافتہ قوموں کی پہچان مضبوط مواصلاتی نظام سے ہوتی ہے۔ سڑکیں صرف ایک مقام کو دوسرے مقام سے نہیں ملتیں بلکہ یہ معیشت، تجارت، سیاحت، تعلیم، صحت اور سماجی ترقی کی بنیاد بھی بنتی ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات، خصوصاً گلگت بلتستان، اپنی بے مثال قدرتی خوبصورتی، معدنی وسائل، آبی ذخائر اور سیاحتی مقامات کے باعث غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے یہ خطہ آج بھی بہتر مواصلاتی سہولیات سے محروم ہے۔ انہی اہم منصوبوں میں گلگت شندور روڈ بھی شامل ہے، جس کی بروقت تکمیل نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے معاشی اور اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

گلگت شندور روڈ گزشتہ تقریباً دو برس سے زیرِ تعمیر ہے، لیکن منصوبے پر کام انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے۔ اگرچہ مختلف مقامات پر تعمیراتی سرگرمیاں نظر آتی ہیں، تاہم کام کی رفتار اس منصوبے کی اہمیت کے مطابق نہیں۔ عوام کو امید تھی کہ یہ شاہراہ مختصر مدت میں مکمل ہو جائے گی، مگر فنڈز کی کمی، زمینوں کے معاوضوں میں تاخیر اور دیگر انتظامی مسائل کے باعث منصوبہ مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔

اس وقت شاہراہِ قراقرم گلگت بلتستان کو ملک سے ملانے والی مرکزی شاہراہ ہے، مگر یہ راستہ ہر سال بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے بار بار بند ہو جاتا ہے۔ معمولی بارش بھی کئی مقامات پر ٹریفک معطل کر دیتی ہے، جس سے ہزاروں مسافر، مریض، طلبہ، سرکاری ملازمین اور سیاح شدید مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ کئی مرتبہ ادویات، اشیائے خوردونوش اور ایندھن کی ترسیل بھی متاثر ہوتی ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر پڑتے ہیں۔

اگر گلگت شندور روڈ بروقت مکمل ہو جائے تو شاہراہِ قراقرم پر انحصار کم ہو جائے گا اور عوام کو ایک محفوظ اور متبادل راستہ میسر آئے گا۔ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں یہ شاہراہ نہ صرف ٹریفک کا دباؤ کم کرے گی بلکہ قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں کو بھی تیز اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

یہ شاہراہ صرف ایک متبادل روڈ نہیں بلکہ سیاحت کے فروغ کی شاہراہ بھی ہے۔ غذر، پھنڈر، یاسین، اشکومن اور شندور دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ہر سال ہزاروں ملکی اور غیر ملکی سیاح ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں، لیکن خراب سڑکیں اور طویل سفر ان کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ بہتر شاہراہ کی بدولت سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا، جس سے ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، مقامی دستکاری، زرعی مصنوعات اور دیگر کاروبار ترقی کریں گے۔ اس سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع بھی میسر آئیں گے۔

گلگت بلتستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت، باغبانی اور سیاحت پر ہے۔ غذر کے آلو، پھل، خشک میوہ جات، ٹراؤٹ مچھلی اور دیگر مقامی مصنوعات ملک کے مختلف حصوں میں بھیجی جاتی ہیں۔ بہتر شاہراہ کی تعمیر سے یہ مصنوعات کم وقت اور کم لاگت میں منڈیوں تک پہنچ سکیں گی، جس سے کسانوں اور تاجروں کو براہِ راست فائدہ ہوگا۔

اس منصوبے کی ایک اور بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس کی تکمیل سے گلگت سے اسلام آباد تک کے سفر میں تقریباً چار سے پانچ گھنٹے کی کمی آئے گی۔ کم سفر کا مطلب کم ایندھن، کم اخراجات اور زیادہ سہولت ہے۔ اس کا فائدہ نہ صرف مسافروں بلکہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور کاروباری طبقے کو بھی ہوگا۔

بدقسمتی سے منصوبے کی رفتار کئی وجوہات کی بنا پر متاثر ہوئی ہے۔ سب سے اہم مسئلہ روڈ کی زد میں آنے والی زمینوں کے متاثرین کو معاوضوں کی عدم ادائیگی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اپنی کارروائی مکمل کر چکی ہے، مگر وفاقی سطح پر فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث متاثرین اپنے جائز حق سے محروم ہیں۔ جب تک انہیں بروقت معاوضہ نہیں ملتا، منصوبے کی رفتار میں تیزی لانا ممکن نہیں ہوگا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے) اور وفاقی حکومت اس منصوبے کو معمول کی ترقیاتی اسکیم کے بجائے قومی اہمیت کا منصوبہ تصور کریں۔ بروقت فنڈز جاری کیے جائیں، متاثرین کو ان کے واجبات ادا کیے جائیں اور تعمیراتی کمپنیوں کو مقررہ مدت میں منصوبہ مکمل کرنے کا پابند بنایا جائے۔

یہ شاہراہ مستقبل میں غذر اور چترال کے ذریعے نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں سے تجارتی روابط قائم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تناظر میں بھی اس سڑک کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ مستقبل میں یہ ایک متبادل تجارتی راہداری کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ماضی میں گلگت بلتستان کے کئی اہم ترقیاتی منصوبے فنڈز کی کمی اور غیر ضروری تاخیر کی نذر ہوتے رہے ہیں۔ اگر گلگت شندور روڈ کے ساتھ بھی یہی رویہ اختیار کیا گیا تو اس کے منفی اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ ترقی صرف اعلانات سے نہیں بلکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل سے آتی ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی، سلامتی اور استحکام میں اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔ اب وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اس خطے کے عوام کو بہتر سفری سہولیات، ترقیاتی منصوبے اور بنیادی انفراسٹرکچر فراہم کرے۔ گلگت شندور روڈ کی جلد تکمیل اس سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔

امید کی جانی چاہیے کہ وفاقی حکومت، این ایچ اے اور متعلقہ ادارے اس منصوبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری فنڈز جاری کریں گے، متاثرین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور تعمیراتی کام کی رفتار میں نمایاں تیزی لائی جائے گی۔ گلگت شندور روڈ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے روشن مستقبل، معاشی خوشحالی، سیاحتی ترقی اور قومی یکجہتی کی شاہراہ ہے۔ اس کی بروقت تکمیل پورے پاکستان کے مفاد میں ہے۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button