نفرت کا کوئی فائدہ نہیں

خاطرات

بہرحال، نفرت کا کوئی فائدہ نہیں۔

کام سے تھکا چور صوفے پر لیٹا تھا۔ بیگم نے حسب معمول گرما گرم دودھ پتی چائے کپ میں انڈیل کر میرے سامنے رکھ دی۔ پہلا گھونٹ حلق سے اترا تو خیالات کے جنگلوں میں کھو گیا۔ اللہ اکبر، خیالات پر پابندی تو اقوامِ متحدہ بھی نہیں لگا سکتی

ابھی اپنے گھر شفٹ ہونے میں ایک ہفتہ باقی ہے، لیکن اگلے ماہ سے کالج بھی کھل جائے گا۔ سوچا، کھلتے ہی چلاس چلا جاؤں گا، کیونکہ ڈیوٹی تو بہرحال کرنی ہے۔ پھر اچانک خیال آیا کہ شاید اگلے ماہ گلگت پوسٹنگ ہو جائے تو زندگی کی بہت سی مشکلات کم ہو جائیں۔ اسی خیال کے ساتھ ماضی کے کئی دریچے بھی یکے بعد دیگرے کھلنے لگے۔

ذہن میں آیا کہ گزشتہ تین برسوں میں جن لوگوں نے مختلف مواقع پر مجھے ناپسندیدگی، مخالفت یا تعصب کا نشانہ بنایا، وہ اب اس ماحول کا حصہ نہیں رہے۔ پھر دل نے کہا کہ ان کے اثرات اور باقیات تو ابھی موجود ہیں۔ شاید کچھ عرصہ اور رہیں، پھر وقت انہیں بھی اپنے ساتھ لے جائے گا، اور شاید تب زندگی کچھ زیادہ آسان محسوس ہو۔ تب تک برداشت کرنا پڑے گا۔

یہ سوچ کر دل نے ایک اور سوال کیا کہ آخر اس سب کا حاصل کیا تھا؟

کیا فائدہ اُن اعمال کا جن میں کسی کے کیریئر کو نقصان پہنچانے کی تدبیریں کی جائیں؟

کیا فائدہ اس رویے کا جس میں کسی کے چاہنے والوں کے دل میں اس کے بارے میں بدگمانیاں پیدا کی جائیں؟

کیا فائدہ اس تعصب کا جو نجی محفلوں سے لے کر پیشہ ورانہ مجالس تک انسان کا تعاقب کرتا رہے اور اسے ٹھیس پہنچائے؟

اور اس سب کچھ کا حاصل آخر کیا ہے؟

واللہ! کچھ بھی نہیں۔ لاحاصل ، لاحاصل ،لاحاصل!

وقت بڑے بڑے منصوبوں، رنجشوں اور مخالفتوں کو خاموشی سے دفن کر دیتا ہے۔ چند سال بعد نہ وہ محفلیں باقی رہتی ہیں، نہ وہ عہدے، نہ وہ اختیار، نہ وہ اثرورسوخ۔ انسان صرف اپنے کردار، اپنے اعمال اور اپنے ضمیر کے ساتھ رہ جاتا ہے۔ اور اپنے کیے پر پچھتانا بھی ہے اور خوش بھی ہوتا ، تو پچھتاوے کا کیا فائدہ ؟

ممکن ہے انسان بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ جائے، لیکن اگر دل میں بغض، عناد اور حسد باقی رہ جائے تو عمر کی سفیدی بھی دل کی تاریکی کو روشن نہیں کر سکتی۔ نفرت کا بوجھ اٹھائے رکھنے والا سب سے پہلے خود اپنی اندرونی دنیا کو ویران کرتا ہے۔

اسی لیے میں نے زندگی سے یہی سبق سیکھا ہے کہ انسان کو دوسروں کی مخالفت سے زیادہ اپنے دل کی حفاظت کرنی چاہیے۔ نفرت کا جواب نفرت سے نہیں، بلکہ کردار، محنت، صبر اور خاموش استقامت سے دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ بہترین منصف ہے، اور وقت اس کی عدالت کا خاموش گواہ۔
بعض اوقات لوگوں کی باتیں، رویے اور فیصلے انسان کو تکلیف ضرور دیتے ہیں، لیکن ان تکلیفوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے دل میں بسا لینا دانشمندی نہیں۔ معاف کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں، مگر اپنے دل کو نفرت سے آزاد کر لینا ضرور انسان کے اختیار میں ہے۔ یہی بشر اور انسان میں فرق ہے، انسان فطرت سے ماوراء چیز ہے جو اپنی فطرت خود بناتا ہے۔ تو انسان کو چاہیے نفرت اور کینہ سے دو قدم آگے بڑھ کر معاف کرنے کی کوشش کریں، یہی انسانیت کا تقاضہ ہے۔ لیکن ایک بات ہے کہ جب انسان ناروا سلوک کا شکار ہو تو آسانی سے معاف نہیں کرسکتا، یہ اولوالعزم اور اللہ کے برگزیدہ لوگ ہوتے ہیں جو نفرتوں کا نشانہ بن کر بھی فی الفور معاف کردیتے ہیں۔ ہم جیسے عام انسانوں کے لیے ایسی منزل تک پہنچنے کے لیے بڑی ریاضتیں کرنی ہوتی ہے۔ اللہ توفیق دے تو کوئی مشکل نہیں۔

بہرحال زندگی کا یہی سبق ہے کہ انسان کو کسی قسم کی نفرت، بغض اور تعصب پال کر نہیں رکھنا چاہیے۔ اختلاف ختم ہو جاتے ہیں، حالات بدل جاتے ہیں، لوگ بچھڑ جاتے ہیں، مگر دلوں میں بوئی ہوئی نفرت دیر تک باقی رہتی ہے اور سب سے پہلے اپنے ہی دل کا سکون چھین لیتی ہے۔

اس لیے شاید یہی کہنا زیادہ درست ہے کہ نفرت کا کوئی فائدہ نہیں، فائدہ اگر کسی چیز میں ہے تو وہ محبت، حسن ظن، صبر، معافی اور اچھے کردار میں ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو انسان کے جانے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ یہی باتیں انسان کو بشر سے اعلی کر دیتی ہیں اور دیگر مخلوقات سے ممیز..

آپ کی رائے

comments

امیر جان حقانی

امیر جان حقانی، اسسٹنٹ پروفیسر (سیاسیات)، ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن، گلگت بلتستان۔ ایم فل اسلامی علوم، ایم اے علم سیاسیات اور ایم اے ابلاغ عامہ کے حامل، آپ نے گلگت بلتستان میں قیام امن اور سماجی ہم آہنگی پر تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔ 2010 سے قومی و علاقائی ذرائع ابلاغ پر سماجی، سیاسی، تعلیمی اور دینی موضوعات پر کالم نگاری کر رہے ہیں۔ پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے ساتھ بطور اسکرپٹ رائٹر وابستہ، عوامی شعور، مثبت مکالمہ اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button