امجد حسین کا پہلا ماہ: حقیقی تبدیلی کے سفر کا آغاز
تحریر : بدرالدین بدر
سینئر صوبائی رہنما پاکستان پیپلز پارٹی
گلگت بلتستان کی سیاست میں بعض اوقات ایسے مواقع آتے ہیں جب عوام محسوس کرتے ہیں کہ
شاید اب روایتی طرزِ حکمرانی سے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے۔ امجد حسین ایڈووکیٹ کا وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان منتخب ہونا بھی ایسا ہی ایک موقع ہے۔ ایک منجھے ہوئے سیاست دان، ماہر قانون دان، نڈر اور بے باک شخصیت کو جب عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار ملا تو ہمیں یقین تھا کہ اب حکمرانی کے انداز میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔
آج امجد حسین حکومت کے پہلے ماہ کا جائزہ لیں تو یہ یقین مزید مضبوط ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسے سفر کا آغاز دیکھ رہے ہیں جو آنے والے برسوں میں گلگت بلتستان کے سیاسی، انتظامی اور معاشرتی منظرنامے کو تبدیل کرے گا۔
یہ صرف حکومت کی تبدیلی نہیں، طرزِ حکمرانی کی تبدیلی کا آغاز ہے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے سب سے پہلے حکومت اور عوام کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے کھولنے کا فیصلہ ایک علامتی اقدام نہیں بلکہ عوامی حکومت کے تصور کو عملی شکل دینے کی کوشش ہے۔ ایک ایسا وزیراعلیٰ جو عوام کو اپنے دفتر تک آنے کی دعوت دے، ان کے مسائل براہ راست سنے اور متعلقہ اداروں کو فوری کارروائی کی ہدایت کرے، اس سے زیادہ عوامی طرزِ حکمرانی کی کیا مثال ہوسکتی ہے؟
اسی سوچ کے تحت ہفتہ وار کھلی کچہری کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ عام شہری اپنے مسائل براہ راست وزیراعلیٰ کے سامنے پیش کر رہے ہیں، جبکہ متعلقہ افسران کو موقع پر ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔ یہ عمل اس روایتی نظام کے برعکس ہے جہاں ایک عام شہری اپنی شکایت لے کر دفتر در دفتر پھرتا رہتا ہے۔
وزیراعلیٰ کا سٹیزن کمپلینٹ سیل اور آن لائن شکایتی پورٹل کا قیام بھی اسی انقلابی سوچ کا حصہ ہے۔ اب شہری اپنے مسائل جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے حکومت تک پہنچا سکتے ہیں۔ یہ قدم اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امجد حسین کی حکومت عوامی شکایات کو محض سننے نہیں بلکہ انہیں باقاعدہ حکومتی نظام کا حصہ بنانے پر یقین رکھتی ہے۔
گڈ گورننس کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف پیش قدمی بھی موجودہ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ ای پروکیورمنٹ، ڈیجیٹل گورننس اور حکومتی ڈیٹا کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات شفافیت، میرٹ اور جواب دہی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
بجلی کے بحران کے خاتمے کے لیے وزیراعلیٰ کی خصوصی توجہ بھی قابلِ تحسین ہے۔ شغرتھنگ، ہنزل، نلتر، سولر منصوبوں اور ریجنل گرڈ سمیت توانائی کے منصوبوں پر کام تیز کرنے، ٹائم لائن مقرر کرنے اور متعلقہ حکام کو واضح اہداف دینے سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو آنے والے دنوں میں بجلی کے بحران سے حقیقی ریلیف ملے گا۔
خاص طور پر بجلی کے منصوبوں میں تاخیر پر وزیراعلیٰ کی سخت نگرانی اس بات کا اظہار ہے کہ اب ترقیاتی منصوبے صرف فائلوں میں نہیں رہیں گے بلکہ انہیں مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ امجد حسین کی ترجیحات قابلِ ذکر ہیں۔ گلوف، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئرز کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ابتدائی وارننگ سسٹم، آبی گزرگاہوں کی صفائی اور گلیشیئرز کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ حکومت گلگت بلتستان کے مستقبل کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔
امن و امان کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ نے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ سیف سٹی منصوبوں، سی سی ٹی وی نگرانی، کنٹرول رومز اور جدید سکیورٹی نظام پر توجہ سے ایک محفوظ گلگت بلتستان کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانا وزیراعلیٰ امجد حسین کے وژن کا اہم حصہ ہے۔ ان کی توجہ اس بات پر ہے کہ ترقی صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہے بلکہ دیہی اور دور دراز علاقوں کے لوگوں کو بھی اس کا فائدہ پہنچے۔
معدنی وسائل کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ نے ایک واضح سوچ پیش کی ہے کہ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل سے سب سے پہلے یہاں کے عوام کو فائدہ پہنچنا چاہیے۔ سونا، چاندی، قیمتی پتھر اور دیگر معدنی وسائل اگر شفاف پالیسی کے تحت استعمال ہوں تو یہ خطے کی معیشت، روزگار اور ترقی میں انقلابی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
قراقرم کوآپریٹو بینک کی جدید خطوط پر ڈیجیٹلائزیشن اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کی کوشش بھی معاشی ترقی کے وسیع تر وژن کا حصہ ہے۔
یہ تمام اقدامات مل کر ایک بڑی تصویر سامنے لاتے ہیں۔
یہ صرف چند سرکاری فیصلے نہیں، بلکہ ایک نئے طرزِ حکمرانی کی بنیاد ہے۔
ہماری نظر میں حقیقی انقلاب وہ نہیں ہوتا جو صرف نعروں میں سنائی دے؛ حقیقی انقلاب وہ ہوتا ہے جو عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا کرے۔ جب شہری کو اپنی شکایت کے لیے دفتر دفتر نہ پھرنا پڑے، جب وزیراعلیٰ تک رسائی مشکل نہ ہو، جب بجلی کا بحران کم ہو، جب ترقیاتی منصوبے وقت پر مکمل ہوں، جب حکومت کا نظام ڈیجیٹل اور شفاف ہو، جب قدرتی آفات سے پہلے تیاری کی جائے اور جب وسائل کا فائدہ مقامی لوگوں تک پہنچے تو یہی حقیقی تبدیلی اور حقیقی انقلاب ہوتا ہے۔
امجد حسین کے اقتدار کا پہلا ماہ ہمیں اسی حقیقی انقلاب کی ابتدائی جھلک دکھا رہا ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ یہ سفر آنے والے دنوں میں مزید تیز ہوگا۔ ایک ماہ کی کارکردگی بتا رہی ہے کہ اگلے پانچ سال شاندار ہوں گے اور گلگت بلتستان ترقی، خوشحالی، شفافیت اور گڈ گورننس کے ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔
یہ صرف ہماری سیاسی امید نہیں بلکہ ان اقدامات سے پیدا ہونے والا اعتماد ہے جو حکومت نے اپنے پہلے ہی ماہ میں اٹھائے ہیں۔
ہم، بحیثیت سیاسی کارکن، اس سفر کا حصہ ہیں اور عوام کے ساتھ اس حکومت کی کارکردگی کے ایک ایک قدم سے آگاہ کرتے رہیں گے۔ ہم اپنے لوگوں کو بتاتے رہیں گے کہ حکومت کیا کر رہی ہے، کون سے منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں اور گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے کون سے نئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
پہلا ماہ امید کا آغاز ہے، اگلے پانچ سال تبدیلی کے سفر کی تکمیل کا وقت ہوں گے۔
گلگت بلتستان کے عوام نے ایک نئی سمت کا انتخاب کیا ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ وزیراعلیٰ امجد حسین کی قیادت میں یہ سمت ایک روشن، مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ گلگت بلتستان کی منزل تک پہنچے گی۔
یہ سفر ابھی شروع ہوا ہے اور ان شاء اللہ آنے والے دن شاندار ہوں گے۔






