احتجاج، انصاف کا نظام اور مظلوم خاندان
کالم: قطرہ قطرہ
احتجاج ایک بنیادی انسانی حق ہے، جس کی ضمانت آئینِ پاکستان دیتا ہے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا، ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا اور مظلوم کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ایک زندہ معاشرے کی علامت ہے۔ لیکن ہمیں خود سے ایک سوال ضرور پوچھنا ہوگا: کیا ہر احتجاج انصاف تک پہنچنے کا راستہ بن رہا ہے، یا احتجاج بھی آہستہ آہستہ محض ایک رسم اور فیشن بنتا جا رہا ہے؟
احتجاج کرنے والے سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ لوگ اپنی فرسٹریشن نکالنے کے لیے احتجاج کا حصہ بنتے ہیں، کچھ ہر مسئلے میں سیاسی پہلو تلاش کرکے اپنی سیاست چمکانے آتے ہیں، کچھ بے روزگاری اور مصروفیت نہ ہونے کے باعث ہجوم کا حصہ بن جاتے ہیں، کچھ کو صرف کیمرے کے سامنے اپنا چہرہ دکھانے کا شوق ہوتا ہے، کچھ جذباتی طور پر شریک ہوتے ہیں مگر انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ احتجاج کا نتیجہ کیا نکلے گا، جبکہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا واقعے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا اور وہ محض اتفاقاً وہاں پہنچ جاتے ہیں۔
لیکن ان سب کے درمیان ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جس کی تعداد عموماً بہت کم ہوتی ہے۔ یہ حقیقی آواز والے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ مسئلے کو سمجھتے ہیں، اس کے قانونی، سماجی اور ادارہ جاتی پہلوؤں پر گرفت رکھتے ہیں اور محض نعرہ نہیں بلکہ حل کی بات کرتے ہیں۔ اکثر یہ لوگ ہجوم کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں، کیونکہ انہیں شوبازی کا شوق نہیں ہوتا۔ ان کی صرف ایک خواہش ہوتی ہے کہ کوئی اس مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھے اور اس کا حل نکالے۔
حالیہ دنوں میں بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات کے خلاف کئی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ماضی میں بھی ایسے مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ ہر مظاہرے میں مختلف نوعیت کے لوگ جمع ہوتے ہیں، نعرے لگتے ہیں، تقاریر ہوتی ہیں، جذبات کا اظہار ہوتا ہے، ایک دوسرے کی تقریروں پر داد دی جاتی ہے، تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر ہوتی ہیں، گروپس میں داد سمیٹی جاتی ہے اور پھر شام ہوتے ہی سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔
مگر مظلوم خاندان کہاں جاتا ہے؟
وہ تو اسی گھر میں واپس جاتا ہے جہاں ایک معصوم بچے کی خاموشی دیواروں سے ٹکرا رہی ہوتی ہے۔
احتجاج میں شریک لوگوں کی اکثریت مختلف سماجی اور سیاسی پس منظر سے آتی ہے۔ ان میں مخلص لوگ بھی ہوتے ہیں، درد رکھنے والے لوگ بھی اور انصاف کے خواہش مند لوگ بھی۔ مگر اکثر لوگ اس پیچیدہ مسئلے کے قانونی، نفسیاتی، سماجی اور ادارہ جاتی پہلوؤں کے ماہر نہیں ہوتے۔ نتیجتاً ایک سنجیدہ مسئلہ کبھی کبھی بامعنی مکالمے کے بجائے سیاسی تقریری مقابلہ بن جاتا ہے۔ تنقید برائے اصلاح کے بجائے تنقید برائے تنقید زیادہ دکھائی دیتی ہے، جبکہ اصل سوال پسِ پشت چلا جاتا ہے کہ مسئلہ حل کیسے ہوگا؟
احتجاج کے بنیادی طور پر دو بڑے مقاصد ہوتے ہیں: انصاف کا حصول اور آگاہی۔
انصاف کا حصول، خصوصاً ہمارے موجودہ عدالتی نظام میں، ایک طویل، پیچیدہ اور تھکا دینے والا عمل ہے۔ پولیس، تفتیش، پراسیکیوشن، عدالت اور جیل، یہ سب انصاف کے ایک ہی نظام کے مختلف حصے ہیں۔ اگر کسی ایک حصے میں کمزوری ہو تو متاثرہ شخص کی پوری جدوجہد متاثر ہوتی ہے۔
اسی طرح آگاہی بھی محض جذباتی تقریروں سے پیدا نہیں ہوتی۔ آگاہی کے لیے درست معلومات، موضوع کے ماہرین، واضح پیغام اور مستقل حکمتِ عملی درکار ہوتی ہے۔
مگر ہمارے ہاں احتجاج کے بعد فالو اَپ کا کلچر تقریباً ناپید ہے۔
احتجاج ختم ہوتا ہے تو اکثر لوگ گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، کچھ اپنی تقریروں کی تعریف سنتے ہیں اور کچھ یہ اطمینان لے کر واپس جاتے ہیں کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کردیا۔
لیکن اگر احتجاج کرنے والوں پر کریک ڈاؤن ہو، ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوجائے، گرفتاریاں ہوں یا کسی قسم کا دباؤ آئے تو ان میں سے بہت سے لوگ ایسے غائب ہوجاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
پھر چند لوگ رہ جاتے ہیں جو ایف آئی آر بھی بھگتتے ہیں، عدالتوں کے چکر بھی لگاتے ہیں اور جیل بھی کاٹتے ہیں۔
اور اگر ایسا کچھ نہ ہو تو کئی سال تک یہ احسان جتایا جاتا رہتا ہے کہ "ہم نے تو بھرپور احتجاج کیا تھا۔”
مسئلہ یہی ہے کہ ایک احتجاج کے بعد دوسرا احتجاج کسی نئے واقعے پر شروع ہوجاتا ہے اور پچھلا واقعہ رفتہ رفتہ اجتماعی یادداشت سے مٹ جاتا ہے۔
مگر متاثرہ خاندان کے لیے وہ واقعہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
احتجاج کے دن متاثرہ خاندان کو ایک لمحے کے لیے اطمینان ضرور ملتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ پورا معاشرہ اس کے ساتھ کھڑا ہے، اس کا دکھ سب کا دکھ ہے اور اس کی لڑائی سب کی لڑائی ہے۔
لیکن شام کو جب وہ خاندان اپنے گھر واپس پہنچتا ہے تو حقیقت پھر اس کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
وہی خوف، وہی خاموشی، وہی سوال، وہی عدالتیں، وہی وکیل، وہی اخراجات، وہی انتظار اور وہی زخمی بچہ۔
اگر معاملہ کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا ہو تو تصور کیجیے اس گھر کا منظر کیا ہوگا۔ ایک معصوم بچہ، جس کے چہرے سے زندگی کی رونق چھین لی گئی ہو، کسی کونے میں خاموش بیٹھا یا لیٹا ہے۔ ماں بار بار اسے دیکھتی ہے، باپ اسے دیکھ کر نظریں چرا لیتا ہے۔ گھر میں کھانا موجود ہو تو بھی بھوک نہیں رہتی۔ روٹی حلق سے اترتی ہے تو آنسوؤں کے ساتھ۔
یہ اذیت ایک دن، ایک ہفتے یا ایک مہینے کی نہیں ہوتی۔ یہ بعض خاندانوں کے لیے سالہا سال چلنے والی سزا بن جاتی ہے۔
باپ یا بھائی عدالتوں کے چکر لگاتا ہے۔ وکیل کی فیس دیتا ہے، کام سے چھٹیاں کرتا ہے، پولیس کے پاس جاتا ہے، کاغذات اٹھاتا ہے، تاریخیں سنتا ہے اور پھر اگلی تاریخ کا انتظار کرتا ہے۔
ایک وقت آتا ہے کہ اس کا جسم تھک جاتا ہے، دل ٹوٹ جاتا ہے اور آنکھوں سے امید ختم ہونے لگتی ہے۔ وہ بظاہر زندہ ہوتا ہے، مگر اندر سے ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔
اور وہ بچہ؟
وہ اپنے اندر روز مرتا ہے۔
کبھی وہ غصے اور انتقام کے جذبات میں مبتلا ہوتا ہے، کبھی زندگی سے بے زاری محسوس کرتا ہے، کبھی خوف اور خاموشی میں سمٹ جاتا ہے۔ معاشرہ کچھ عرصے بعد اس واقعے کو بھول جاتا ہے، مگر متاثرہ بچہ اسے اپنے وجود میں اٹھائے پھرتا ہے۔ اگر اسے بروقت نفسیاتی، سماجی اور خاندانی معاونت نہ ملے تو اس صدمے کے اثرات اس کی پوری زندگی پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ بعض بچے شدید خوف، عدم اعتماد، غصے، تنہائی اور سماجی رویوں میں بگاڑ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ معاشرہ اکثر ان رویوں کی وجوہات سمجھنے کے بجائے انہیں صرف "مسئلہ پیدا کرنے والا” یا "جرائم پیشہ” فرد سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایک بچے کے ساتھ ہونے والا ظلم بعض اوقات بعد میں اسی خاندان کے خلاف بھی استعمال ہوتا ہے۔ کسی زمین کے تنازعے میں، کسی خاندانی اختلاف میں، کسی کاروباری جھگڑے میں یا کسی ذاتی دشمنی میں پرانا زخم طعنے کی صورت میں دوبارہ کھول دیا جاتا ہے۔
یوں ایک واقعہ صرف ایک جرم نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات دہائیوں تک خاندان کا سماجی بوجھ بن جاتا ہے۔
یہ ہر کیس کی پوری کہانی نہیں، لیکن بہت سے متاثرہ خاندانوں کی تلخ حقیقت ضرور ہے۔
کچھ مقدمات میں سزا ہوتی ہے۔ کچھ خاندانوں کو انصاف بھی ملتا ہے۔ لیکن بہت سے مقدمات میں نہ مؤثر سزا ہوتی ہے، نہ مناسب معاونت اور نہ ہی متاثرہ بچے کی زندگی کی بحالی پر وہ توجہ دی جاتی ہے جس کی اسے ضرورت ہوتی ہے۔
ہم پوچھتے ہیں کہ انصاف کیوں نہیں ملتا، مگر ہم اس پورے نظام کو سمجھنے اور درست کرنے پر کم بات کرتے ہیں۔
پولیس کی تفتیش کیسے بہتر ہوگی؟
پراسیکیوشن کو کیسے مضبوط کیا جائے؟
بچے کا بیان کس ماحول میں ریکارڈ ہونا چاہیے؟
عدالتی عمل کو بچے کے لیے کم سے کم تکلیف دہ کیسے بنایا جائے؟
متاثرہ خاندان کو قانونی، نفسیاتی اور سماجی مدد کون دے گا؟
مجرم کی سزا کے بعد معاشرے میں واپسی اور نگرانی کا نظام کیا ہوگا؟
اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایسا ادارہ جاتی نظام کب بنے گا جو کسی احتجاج کا انتظار کیے بغیر بچے کے تحفظ کے لیے خود حرکت میں آجائے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن پر احتجاجی پلیٹ فارموں سے سنجیدہ گفتگو ہونی چاہیے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ صرف مجرم کو سزا دینا کافی نہیں۔ ہمیں ایسا نظام بنانا ہوگا جو جرم کو روکے، متاثرہ بچے کو تحفظ دے، خاندان کو سہارا دے، تفتیش کو مؤثر بنائے، پراسیکیوشن کو مضبوط کرے اور عدالت سے بروقت انصاف تک پہنچنے کا راستہ آسان بنائے۔
دنیا آگے بڑھتی رہتی ہے۔ ہزاروں واقعات میں سے کچھ منظرِ عام پر آتے ہیں تو چند دن کے لیے پورا معاشرہ جاگ اٹھتا ہے۔ کچھ واقعات کبھی منظرِ عام پر نہیں آتے اور کسی خاندان کے دل میں ایک خاموش روگ بن کر دفن ہوجاتے ہیں۔
لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ صورت وہ ہے جب پورا معاشرہ کسی واقعے پر انصاف کا شور مچا کر اچانک غائب ہوجائے، اپنے معمولاتِ زندگی میں مشغول ہوجائے اور متاثرہ خاندان کو اس کی طویل لڑائی میں تنہا چھوڑ دے۔
اس لیے احتجاج ضرور ہونا چاہیے، مگر احتجاج کا ایک مقصد، اصول اور فالو اَپ میکانزم بھی ہونا چاہیے۔
احتجاج کو سیاسی تقریری مقابلہ نہیں بلکہ حل کی تلاش کا پلیٹ فارم بنانا ہوگا۔ موضوع کے ماہرین کو بولنے کا موقع دیا جائے۔ قانون دان، ماہرینِ اطفال، نفسیاتی ماہرین، پولیس، پراسیکیوشن، سماجی کارکن اور متاثرہ خاندانوں کی آواز سنی جائے۔
کھوکھلے اور جذباتی نعروں کے بجائے چند واضح اور قابلِ عمل مطالبات سامنے رکھے جائیں۔
اول، متاثرہ بچے کی شناخت، نام، پتہ، تصویر اور دیگر ذاتی معلومات کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے۔
دوم، ہر ایسے کیس کے سامنے آتے ہی قانونی، نفسیاتی اور سماجی معاونت پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم فعال کی جائے۔
سوم، احتجاج کے دوران ہی ایک قانونی ٹیم تشکیل دی جائے جو کیس کے فالو اَپ، تفتیش اور عدالتی کارروائی کی نگرانی کرے۔
چہارم، حکومت کو مؤثر پولیس تفتیش، مضبوط پراسیکیوشن اور بچے دوست عدالتی نظام کے لیے واضح اقدامات کا پابند کیا جائے۔
پنجم، آگاہی کے لیے مستقل اور ماہرین پر مشتمل لائحۂ عمل بنایا جائے، تاکہ آگاہی صرف کسی واقعے کے بعد ہونے والے احتجاج تک محدود نہ رہے۔
ششم، ایک ایسا مضبوط ادارہ جاتی اور خودکار نظام قائم کیا جائے جو کسی احتجاج، میڈیا مہم یا سیاسی دباؤ کا انتظار کیے بغیر ہر بچے کے تحفظ، بحالی اور انصاف کے لیے فوری طور پر حرکت میں آجائے۔
ہمیں احتجاج کو ختم نہیں کرنا۔
ہمیں احتجاج کو بامقصد بنانا ہے۔
اس کے روایتی اور فرسودہ طریقے کو تبدیل کرنا ہوگا۔ احتجاج جذباتی ہجوم نہیں بلکہ باشعور لوگوں کی پرمغز اور دلیل پر مبنی گفتگو کا فورم ہونا چاہیے۔
ہمیں نعرے ختم نہیں کرنے، انہیں واضح مطالبات میں تبدیل کرنا ہے۔
ہمیں تقریریں بند نہیں کرنی، انہیں حل کی گفتگو بنانا ہے۔
ہمیں مظلوم کے ساتھ صرف احتجاج کے دن نہیں کھڑا ہونا، بلکہ اس دن سے کھڑا ہونا ہے جب کیمرے بند ہوجائیں، مجمع منتشر ہوجائے اور متاثرہ خاندان اپنے خالی، خاموش اور خوف زدہ گھر میں واپس چلا جائے۔
کیونکہ انصاف صرف اس وقت نہیں ملتا جب ہم سڑک پر کھڑے ہوتے ہیں۔ انصاف اس وقت ملتا ہے جب مظلوم کے گھر سے عدالت تک پورا نظام اس کے ساتھ کھڑا ہو۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ اس مشکل راہ میں احتجاجی مظاہرین میں سے اکثر کوئی کھڑا نہیں ہوتا۔ اس راستے میں متاثرہ فرد کا استقبال پھول نہیں، کانٹے اور پتھر کرتے ہیں۔ احتجاج میں اس کے ساتھ کھڑے ہونے والے بہت سے لوگ عدالت کے دروازے تک پہنچتے پہنچتے غائب ہوجاتے ہیں۔
آخرکار سوال احتجاج کا نہیں، ہماری اجتماعی ذمہ داری کا ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف احتجاج کرنے والا معاشرہ بننا چاہتے ہیں یا انصاف فراہم کرنے والا معاشرہ۔
کیونکہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا اصل امتحان سڑک پر نہیں، اس وقت شروع ہوتا ہے جب سڑک خالی ہوجاتی ہے۔




