وزیر فدا علی ایثار: علم، خطابت، تربیت اور خدمت کا ایک عہد رخصت ہوا

تحریر : الواعظ شرافت علی
   پی ایچ ڈی اسکالر
بین الاقوامی اسلامی یونیور سٹی اسلام اباد


اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ

بعض خبریں ایسی ہوتی ہیں کہ کان انہیں سن تو لیتے ہیں، مگر دل انہیں تسلیم کرنے سے گریزاں رہتا ہے۔ بعض جدائیاں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے، مگر غم کی شدت الفاظ کو بے زبان کر دیتی ہے۔ آج کا دن بھی ہمارے لیے ایسا ہی ایک سوگوار دن ہے۔ آج ایک ایسی شخصیت ہم سے جدا ہوئی ہے جسے محض چند تعزیتی جملوں میں یاد کرنا ان کی زندگی، علم، خدمات اور اثرات کے ساتھ انصاف نہ ہوگا۔ آج ایک عالم رخصت ہوا، ایک صاحبِ قلم خاموش ہوا، ایک صاحبِ نظر دانشور اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہوا، ایک ممتاز قاریِ قرآن کی پرسوز آواز خاموش ہوئی، ایک شعلہ بیان خطیب کی گرجتی ہوئی آواز منبر سے اٹھ گئی، اور ایک ایسا مشفق مربی ہم سے جدا ہوا جس نے اپنی زندگی کی بیش بہا ساعتیں نسلوں کی فکری، دینی اور اخلاقی تربیت کے لیے وقف کر دی تھیں۔

ہمارے محترم استاد، مشفق مربی، بلند پایہ عالم، صاحبِ نظر دانشور، صاحبِ قلم مصنف، شاعر، تاریخ شناس، ممتاز قاریِ قرآن، بے مثال مقرر، شعلہ بیان خطیب اور مخلص خادمِ جماعت وزیر فدا علی ایثار صاحب آج اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کی رحلت محض ایک خاندان یا ایک ادارے کا نقصان نہیں، بلکہ گلگت بلتستان کی علمی، دینی، ادبی اور سماجی زندگی کا ایک بڑا سانحہ ہے۔ یہ ITREB پاکستان، اسماعیلی جماعت، ان کے رفقائے کار، شاگردوں اور ان تمام لوگوں کا مشترکہ غم ہے جنہوں نے ان کی صحبت، علم، شفقت اور رہنمائی سے فیض پایا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج صرف ایک شخصیت ہم سے جدا نہیں ہوئی؛ آج علم، حکمت، قرآنی بصیرت، خطابت، تربیت، تہذیبی وقار اور خدمت کا ایک پورا عہد رخصت ہوا ہے۔

وزیر فدا علی ایثار صاحب کی زندگی عزم، جدوجہد اور خود اعتمادی کی ایک غیر معمولی داستان تھی۔ انہوں نے زندگی کے ابتدائی دور میں محرومیوں اور مشکلات کا سامنا کیا، مگر ان حالات کو اپنی کمزوری بننے نہیں دیا۔ انہوں نے علم کو اپنا سرمایہ، مطالعے کو اپنا رفیق، محنت کو اپنا شعار اور خود اعتمادی کو اپنی قوت بنایا۔ ان کی خودنوشت ’’یتیمی سے اعتماد تک‘‘ محض ایک فرد کی داستانِ حیات نہیں، بلکہ اس عزم و استقلال کی روداد ہے جس کے ذریعے ایک انسان نے حالات کی سختیوں سے گزر کر اپنی شخصیت کو خود تراشا اور اپنے لیے ایک باوقار مقام پیدا کیا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال تھی کہ محرومی، اگر عزم اور ارادے کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے، تو انسان کو توڑنے کے بجائے اسے غیر معمولی قوت عطا کرسکتی ہے۔

ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں  علومِ شرعیہ کا باقاعدہ مطالعہ کیا، جس کی تکمیل انہوں نے 1970ء میں کی۔ لیکن ان کے لیے تعلیم کسی سند کے حصول پر ختم نہیں ہوئی؛ علم ان کے نزدیک ایک عمر بھر جاری رہنے والا سفر تھا۔ وہ پڑھتے رہے، سوچتے رہے، سوال کرتے رہے اور اپنے مطالعے کو دوسروں تک منتقل کرتے رہے۔ قرآن، حدیث، فقہ، تاریخ، اسلامی فکر، فارسی ادب اور شمالی علاقوں کی مذہبی و تہذیبی تاریخ ان کے وسیع مطالعے کے مختلف گوشے تھے۔ وہ محض کتابوں کے عالم نہ تھے، بلکہ تاریخ، معاشرے، انسان اور اپنے عہد کے مسائل کو گہری نظر سے دیکھنے والے صاحبِ فکر دانشور تھے۔

قرآنِ حکیم سے ان کا تعلق ان کی علمی شخصیت کا نہایت روشن باب تھا۔ وہ خود ایک ممتاز قاریِ قرآن تھے اور ان کی تلاوت میں خوش الحانی کے ساتھ ایک خاص قلبی کیفیت بھی محسوس ہوتی تھی۔ تاہم ان کے نزدیک قرآن محض تلاوت کی کتاب نہ تھا؛ وہ اسے فہم، تدبر اور زندگی کی رہنمائی کا سرچشمہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے قرآنِ مجید کے متعدد تراجم اور مختلف تفاسیر کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور اپنے طلبہ کو بھی قرآن کریم  کے ساتھ اسی علمی اور فکری تعلق کی ترغیب دیتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ طلبہ اور واعظین قرآن پاک کو  نہ صرف پڑھیں  بلکہ اسے سمجھیں، اس کے سیاق و سباق پر غور کریں، احادیث سے اس کے تعلق کو جانیں، فقہ و شریعت کی بنیادی تعلیم حاصل کریں اور قرآن کے معنوی، روحانی اور تاویلی پہلوؤں کو بھی علمی بصیرت کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔ ان کے نزدیک مذہبی تعلیم کا مقصد محض معلومات جمع کرنا نہیں بلکہ فکر، شعور، کردار اور روحانی بصیرت کی تعمیر تھا۔

1968ء میں، صرف چوبیس برس کی عمر میں، انہوں نے اسماعیلی ایسوسی ایشن پاکستان کے ساتھ بطور واعظ اپنے عملی سفر کا آغاز کیا۔ ایک نوجوان واعظ کے طور پر شروع ہونے والا یہ سفر رفتہ رفتہ تقریباً چھ دہائیوں پر محیط ایک عظیم علمی، دینی اور تربیتی خدمت میں تبدیل ہوگیا۔ ان کے لیے وعظ محض ایک پیشہ یا رسمی ذمہ داری نہ تھا؛ یہ ایک مشن تھا، ایک امانت تھا اور نسلوں کی فکری تشکیل کا ایک مؤثر وسیلہ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایک واعظ کی اصل قوت اس کی آواز کی بلندی میں نہیں، اس کے علم کی گہرائی، مطالعے کی وسعت، فکر کی پختگی اور کردار کی صداقت میں ہوتی ہے۔

وزیر صاحب کی خطابت ان کی شخصیت کا ایک ایسا وصف تھی جس نے انہیں اپنے عہد کے ممتاز ترین مقررین میں نمایاں مقام عطا کیا۔ وہ محض مقرر نہیں تھے، ایک شعلہ بیان خطیب تھے۔ جب وہ منبر پر آتے تو محفل کی فضا بدل جاتی۔ ان کی آواز میں جلال، لہجے میں وقار، الفاظ میں تاثیر اور بیان میں ایک خاص روانی ہوتی تھی۔ وہ صرف بولتے نہیں تھے، لفظوں میں زندگی دوڑ دیتے تھے۔ ان کی تقریر میں جوش ہوتا تھا، مگر وہ جوش علم سے عبارت ہوتا؛ ان کے بیان میں حرارت ہوتی تھی، مگر اس حرارت کے پیچھے حکمت ہوتی؛ ان کی آواز میں گھن گرج ہوتی تھی، مگر اس گھن گرج کے ساتھ دلیل، مطالعہ اور فکری بصیرت بھی موجود ہوتی تھی۔ وہ تاریخ بیان کرتے تو ماضی آنکھوں کے سامنے زندہ ہونے لگتا، قرآن کی آیات پڑھتے تو ان کے معانی کے در وا ہوتے محسوس ہوتے، اور کسی فکری مسئلے پر گفتگو کرتے تو سامعین محض متاثر نہیں بلکہ سوچنے پر مجبور ہوتے۔

ان کی خطابت کی اصل قوت ان کا وسیع مطالعہ تھا۔ وہ پہلے پڑھتے، پھر غور کرتے، پھر اپنی بات کو فکر اور دلیل کے سانچے میں ڈھالتے اور اس کے بعد سامعین کے سامنے پیش کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تقریر محض جذباتی جوش نہیں ہوتی تھی بلکہ علم، تاریخ، قرآن، حدیث اور انسانی تجربے کا حسین امتزاج ہوتی تھی۔ ان کے لیے خطابت محض فنِ اظہار نہیں بلکہ فنِ تربیت تھی۔

واعظین کی تربیت ان کی زندگی کا شاید سب سے اہم اور دیرپا مشن تھا۔ وہ واعظ کو محض ایک مقرر نہیں بلکہ ایک صاحبِ علم، صاحبِ فکر اور صاحبِ کردار انسان دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ واعظین قرآن، حدیث، فقہ، شریعت، تاریخ اور اسلامی فکر کا سنجیدہ مطالعہ کریں اور اپنے زمانے کے فکری و سماجی مسائل کو سمجھیں۔ گلگت بلتستان کےلیے  1981ء سے 1984ء تک اور چترال  کے لیے 1984ء سے 1987ء تک واعظین کے لیے جو تربیتی پروگرام ان کی اور ڈاکٹر  عزیر اللہ نجیب  کی  سرپرستی اور رہنمائی میں ہوئے، وہ ITREB کی تاریخ کے کامیاب ترین تربیتی پروگراموں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان پروگراموں سے تیار ہونے والے افراد نے بعد کی دہائیوں میں مذہبی تعلیم، وعظ اور جماعتی خدمت کے مختلف میدانوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وزیر صاحب کی حقیقی کامیابی یہی تھی کہ انہوں نے صرف واعظین تیار نہیں کیے، بلکہ واعظین کے ذریعے نسلیں تیار کیں۔

ان کی خدمات کا دائرہ واعظین تک محدود نہ تھا۔ نوجوانوں، مذہبی تعلیم کے اساتذہ، خلیفہ صاحبان اور طلبہ کی تربیت بھی ان کی ترجیحات میں شامل تھی۔ شاہ کریم ہاسٹل کے طلبہ کی کئی دہائیوں تک مذہبی، اخلاقی اور فکری تربیت ان کی ایسی خدمت ہے جس کے اثرات آج بھی ان کے شاگردوں کی زندگیوں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے ہزاروں شاگرد پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہیں۔ کسی استاد کے لیے اس سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا علم اس کی زندگی کے بعد بھی اس کے شاگردوں کے ذریعے مختلف نسلوں اور خطوں میں سفر کرتا رہے۔

وزیر فدا علی ایثار صاحب کا کردار امام شاہ کریم الحسینی کے وسیع تر وژن کے تناظر میں بھی نہایت اہم دکھائی دیتا ہے۔ شمالی علاقوں ( گللگت بلتستان اورچترال ) کی جماعت نے گزشتہ کئی دہائیوں میں غربت اور محدود مواقع سے نکل کر تعلیم، صحت، خود اعتمادی اور اجتماعی ترقی کی جو منزلیں طے کیں، اس سفر میں انسانی وسائل کی تعمیر بنیادی اہمیت رکھتی تھی۔

 وزیر صاحب نے امام علیہ السلام کے  اس وژن کو سمجھا اور اپنی علمی و تربیتی صلاحیتوں کے ذریعے اسے نئی نسل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے واعظین، نوجوانوں اور مذہبی اساتذہ کی تربیت کے ذریعے انہیں اس بات کے لیے تیار کیا کہ وہ مذہبی شعور کو تعلیم، اخلاق، ترقی، خدمت اور انسانی وقار کے وسیع تر تصور سے جوڑ سکیں۔ ان کے نزدیک ایک ترقی یافتہ جماعت صرف بہتر اداروں سے نہیں بنتی؛ اسے ایسے باشعور، تعلیم یافتہ، بااخلاق اور خود اعتماد انسان درکار ہوتے ہیں جو ان اداروں کے مقاصد کو عملی زندگی میں آگے بڑھا سکیں۔

وہ صاحبِ قلم بھی تھے اور صاحبِ ذوق بھی۔ ان کی تحریروں میں مذہبی شعور کے ساتھ تاریخی بصیرت، ادبی ذوق اور اپنے خطے کی تہذیبی روایت سے گہری وابستگی نمایاں ہوتی ہے۔ ’’یتیمی سے اعتماد تک‘‘، ’’ریاستِ ہنزہ‘‘، ’’شمالی علاقہ جات میں اسماعیلی دعوت‘‘، ’’لمحاتِ نور‘‘، ’’اسلام میں تصورِ امامت‘‘ اور ’’فارسی گویانِ ہنزہ‘‘ جیسے علمی کام ان کی فکری دلچسپیوں اور تحقیقی ذوق کی یادگار ہیں۔ انہوں نے دیوانِ ناصر خسرو سے متعدد متون کے تراجم بھی کیے اور ان کے بعض علمی کام ITREB پاکستان کے ذریعے شائع ہوئے۔ یوں ان کی شخصیت میں عالم، خطیب، قاری، مصنف، شاعر اور تاریخ شناس کے کئی رنگ ایک ساتھ جمع تھے۔

ان کی شخصیت کا ایک اور قابلِ قدر پہلو گلگت بلتستان میں امن، رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے ان کی کوششیں تھیں۔ انہوں نے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء اور رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، مکالمے کو فروغ دیا اور باہمی احترام کی فضا قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ وہ اختلاف کو انسانی معاشرے کی فطری حقیقت سمجھتے تھے، مگر اسے نفرت اور تصادم میں تبدیل کرنے کے قائل نہ تھے۔ ان کا راستہ مکالمہ تھا، ان کا وسیلہ احترام تھا اور ان کا مقصد امن تھا۔ وہ دلوں کو جوڑنے والے انسان تھے؛ اسی لیے ان کی شخصیت صرف ایک جماعت کے دائرے تک محدود نہ رہی بلکہ وسیع تر سماجی حلقوں میں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھی گئی۔

ان کی علمی اور خطیبانہ خدمات پاکستان تک محدود نہ رہیں۔ انہیں کینیڈا، تاجکستان، افغانستان، ایران اور متحدہ عرب امارات میں اسماعیلی جماعت سے خطاب کرنے اور مختلف مذہبی و فکری موضوعات پر لیکچرز دینے کے مواقع حاصل ہوئے۔ جہاں گئے، اپنے ساتھ علم، فکر، مذہبی شعور اور انسان دوستی کا پیغام لے کر گئے۔ ان کا سفر دراصل ایک ایسی علمی روایت کا سفر تھا جس میں مذہب کو زندگی سے، تعلیم کو ترقی سے اور روحانیت کو انسانی خدمت سے جدا نہیں سمجھا جاتا تھا۔

مرکزی جماعت خانہ گلگت میں چودہ برس تک بطور مکھی خدمات انجام دینا بھی ان کی طویل جماعتی زندگی کا ایک اہم باب ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف جماعتی مراتب سے نوازا گیا اور ان کا سفر مکھی، حضور مکھی، عالی جاہ، رائے ، اعتمادی اور بالآخر وزیر تک پہنچا۔ انہیں متعدد مواقع پر حضرت امام شاہ کریم الحسینی کی گلگت بلتستان آمد کے موقع پر استقبال اور خدمت کی سعادت حاصل ہوئی اور امامِ وقت کی موجودگی میں مختلف مواقع پر تلاوتِ قرآن پیش کرنے کا شرف بھی نصیب ہوا۔ یہ لمحات یقیناً ان کی زندگی کے نہایت بابرکت اور یادگار لمحات میں شمار ہوتے ہوں گے۔

2004ء میں رسمی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہونے کے بعد بھی ان کی خدمت کا سفر ختم نہیں ہوا۔ ان کے لیے ریٹائرمنٹ کا مطلب خاموشی یا گوشہ نشینی نہیں تھا۔ وہ آخری وقت تک ITREB، جماعت، اپنے شاگردوں اور علم و تربیت سے وابستہ رہے۔ وہ مشورہ دیتے رہے، پڑھاتے رہے، رہنمائی کرتے رہے اور علم کی شمع روشن رکھتے رہے۔ ان کی زندگی نے یہ حقیقت ثابت کر دی کہ ملازمت سے ریٹائرمنٹ لی جا سکتی ہے، علم اور خدمت سے نہیں۔

میرے لیے وزیر فدا علی ایثار صاحب سے تعلق محض استاد اور شاگرد کا تعلق نہیں تھا۔ قریب ایک ربع صدی( پچیس سال)  تک مجھے ان کی شفقت بھری صحبت، علمی رہنمائی اور محبت سے فیض یاب ہونے کا شرف حاصل رہا۔ یہ تعلق میرے لیے محض ایک استاد سے استفادے کا تعلق نہیں بلکہ ایک ایسی علمی و انسانی نسبت تھی جس نے میری فکری اور شخصی تشکیل پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ان کی مجلس میں بیٹھنا گویا ایک غیر رسمی درس گاہ میں بیٹھنے کے مترادف تھا؛ جہاں کبھی قرآن  پاک کی آیات کے معانی کے دریچے کھلتے، کبھی تاریخ کے اوراق زندہ ہوجاتے، کبھی علم و فکر کے پیچیدہ سوالات پر گفتگو ہوتی اور کبھی زندگی کے معمولی سے واقعے میں بھی کوئی اخلاقی یا انسانی سبق پوشیدہ مل جاتا۔

ان کے علمی دسترخوان سے لقمہ نصیب ہونا بھی میرے لیے محض ایک ضیافت نہیں بلکہ محبت، اپنائیت اور تربیت کی ایک ایسی یاد ہے جو ہمیشہ دل میں محفوظ رہے گی۔ بعض شخصیات کی عظمت ان کے منصب سے نہیں، ان کے برتاؤ سے ظاہر ہوتی ہے؛ وزیر صاحب ان لوگوں میں سے تھے جن کے ہاں علم کے ساتھ دل کی وسعت، مقام کے ساتھ تواضع اور بزرگی کے ساتھ شفقت بھی موجود تھی۔ زندگی میں بعض ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی موجودگی خود ایک نعمت محسوس ہوتی ہے؛ وزیر صاحب میرے لیے انہی عظیم اور قابلِ احترام شخصیات میں سے تھے۔

آج ان کی آواز خاموش ہے، مگر ان کی تربیت بول رہی ہے۔ ان کا قلم رک گیا ہے، مگر ان کی کتابیں گفتگو کر رہی ہیں۔ ان کی محفلیں بکھر گئی ہیں، مگر ان کے شاگرد ان کی علمی میراث کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیچھے صرف کتابیں نہیں چھوڑیں، انسان چھوڑے ہیں؛ صرف یادیں نہیں چھوڑیں، نسلیں تیار کی ہیں۔

ایسے موقع پر علامہ اقبالؔ کا یہ شعر بے اختیار یاد آتا ہے:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

وزیر فدا علی ایثار صاحب یقیناً اسی قبیل کے دیدہ وروں میں سے تھے۔ ان کی شخصیت کی عظمت کسی ایک منصب، ایک ادارے یا ایک دورانیے سے متعین نہیں ہوتی؛ ان کی اصل عظمت اس اثر میں ہے جو انہوں نے لوگوں کے دل و دماغ پر چھوڑا، ان نسلوں میں ہے جنہیں انہوں نے تعلیم دی، ان واعظین میں ہے جنہیں انہوں نے تیار کیا، ان نوجوانوں میں ہے جن کے اندر خود اعتمادی پیدا کی، ان طلبہ میں ہے جنہیں قرآن سے محبت اور علم کی جستجو سکھائی، اور ان بے شمار انسانوں میں ہے جن کے لیے وہ علم، شفقت اور رہنمائی کا ایک معتبر حوالہ بنے۔

آج ہم انہیں نم آنکھوں اور بوجھل دل کے ساتھ الوداع کہتے ہیں۔ ایک ایسا استاد رخصت ہوا جس کی شفقت مدتوں یاد رہے گی؛ ایک ایسا مربی جدا ہوا جس کی تربیت نسلوں میں سانس لیتی رہے گی؛ ایک ایسا قاری خاموش ہوا جس کی تلاوت کی گونج دلوں میں باقی رہے گی؛ ایک ایسا خطیب رخصت ہوا جس کی شعلہ بیانی مدتوں اہلِ علم کو یاد رہے گی؛ ایک ایسا مصنف جدا ہوا جس کا قلم تاریخ اور علم کے صفحات پر اپنے نقوش چھوڑ گیا؛ اور ایک ایسا خادمِ جماعت ہم سے بچھڑ گیا جس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دوسروں کی علمی، دینی اور انسانی تعمیر کے لیے وقف کر دیا۔

وزیر صاحب! آپ آج ہمارے درمیان نہیں، مگر آپ کی آواز باقی ہے، آپ کی فکر باقی ہے، آپ کا علم باقی ہے، آپ کی کتابیں باقی ہیں اور سب سے بڑھ کر آپ کے ہزاروں شاگرد باقی ہیں۔

آپ نے جو چراغ جلائے، وہ بجھنے والے نہیں۔ آپ نے جو ذہن روشن کیے، وہ آنے والی نسلوں کو روشنی دیتے رہیں گے۔ آپ نے جو علم بانٹا، وہ آپ کے لیے صدقۂ جاریہ بن کر جاری رہے گا۔

واقعی آج صرف ایک عالم، ایک قاری، ایک خطیب یا ایک استاد رخصت نہیں ہوا؛ آج گلگت بلتستان کی علمی، دینی، ادبی اور تہذیبی تاریخ کا ایک روشن باب بند ہوا ہے۔ آج خطابت کی ایک گرجتی ہوئی آواز خاموش ہوئی ہے، آج قرآن فہمی اور علم دوستی کا ایک چراغ بجھا ہے، اور آج علم، حکمت، تربیت، شعلہ بیانی اور خدمت کا ایک پورا عہد رخصت ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم وزیر فدا علی ایثار صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی، قرآنی، دینی، ادبی، تاریخی، تربیتی، سماجی، جماعتی اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے انجام دی گئی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ ان کی تمام مساعی کو ان کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے، ان کے اہلِ خانہ، احباب، رفقائے کار، شاگردوں اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ہمیں ان کی علمی و تربیتی میراث کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button