مصنوعی ذہانت کے دور میں ہمارے اسکول کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

نجف علی شرقی

کبھی گلگت بلتستان کے کسی دور دراز اسکول کی صبح کا منظر ذہن میں لائیے۔ پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹا سا اسکول ہے۔ سردیوں کی صبح ہے۔ کچھ بچے کئی کلومیٹر پیدل چل کر اسکول پہنچے ہیں۔ کسی کے ہاتھ میں کتاب ہے، کسی کے پاس پرانی کاپی ہے، اور کسی نے شاید ناشتے کے بغیر ہی گھر سے سفر شروع کیا ہے۔ استاد بھی محدود وسائل کے ساتھ کلاس میں داخل ہوتا ہے۔ استاد تختۂ سیاہ پر ایک سوال لکھتا ہے۔ بچے خاموشی سے اپنی کاپیوں میں جواب لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ کچھ بچے فوراً ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ کچھ بچے دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں۔ کچھ بچے صرف اس لیے جواب لکھ رہے ہیں کہ استاد نے کہا ہے۔ اور شاید ایک بچہ ایسا بھی ہے جو خاموش بیٹھا ہے، لیکن اس کے ذہن میں ایک سوال چل رہا ہے: "سر! یہ چیز ہماری زندگی میں کہاں کام آئے گی؟” میرے خیال میں یہی وہ مقام ہے جہاں سے تعلیم کا اصل سفر شروع ہوتا ہے۔
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے اس دور میں ہمیں سب سے پہلے یہ سوال خود سے پوچھنا ہوگا: ہم اپنے بچوں کو اسکول کیوں بھیج رہے ہیں؟ کیا اس لیے کہ وہ امتحان پاس کریں؟ اچھے نمبر حاصل کریں؟ اچھی ملازمت حاصل کریں؟ یا اس لیے کہ وہ سوچنے، سوال کرنے، مسائل حل کرنے، دوسروں کے ساتھ کام کرنے اور مسلسل سیکھتے رہنے کے قابل انسان بن سکیں؟
یہ سوال اس لیے اہم ہوگیا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت نے صرف معلومات تک رسائی آسان نہیں کی، بلکہ اس نے تعلیم کے کئی پرانے تصورات کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔ آج ایک طالب علم چند سیکنڈ میں کسی سوال کا جواب حاصل کرسکتا ہے۔ وہ مضمون لکھوا سکتا ہے۔ مشکل سبق کو آسان زبان میں سمجھ سکتا ہے۔ ریاضی کے سوال کا حل دیکھ سکتا ہے۔ ترجمہ کروا سکتا ہے اور کسی بھی موضوع کا خلاصہ حاصل کرسکتا ہے۔ تو پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ بچے کو معلومات کہاں سے ملیں گی؟ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ جب معلومات ہر جگہ موجود ہیں تو اسکول بچے کو آخر کیا سکھائے؟
تعلیم کے مقصد کو سمجھنے کے لیے ایک دلچسپ تصور ہمارے سامنے آتا ہے۔ ایک ہی کلاس میں موجود بچے سیکھنے کے حوالے سے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ آئیے گلگت بلتستان کے کسی عام سرکاری اسکول کی ایک کلاس کا تصور کرتے ہیں۔ استاد جماعت ہشتم میں داخل ہوتا ہے اور کہتا ہے: آج ہم پانی کے چکر کے بارے میں پڑھیں گے۔
اب اسی کلاس میں ایک بچہ خاموشی سے بیٹھا ہے۔ وہ استاد کی بات سن رہا ہے، لیکن اس کی کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ اسے صرف اتنا معلوم ہے کہ سبق مکمل کرنا ہے، سوالات حل کرنے ہیں اور اگلے ہفتے ٹیسٹ دینا ہے۔ یہ بچہ مسافر (Passenger) ہے۔ وہ اسکول میں موجود ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کا ذہن بھی سیکھنے کے سفر میں شامل ہو۔ وہ جسمانی طور پر کلاس میں ہے، مگر ذہنی طور پر شاید کہیں اور ہے۔
اب دوسرا بچہ ہے۔ اس نے کتاب کے تمام سوالات یاد کیے ہوئے ہیں۔ اسے معلوم ہے کہ امتحان میں کیا لکھنا ہے۔ وہ وقت پر ہوم ورک مکمل کرتا ہے، اچھے نمبر لیتا ہے اور استاد کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ یہ بچہ کامیابی حاصل کرنے والا (Achiever) ہے۔ بظاہر یہ ایک مثالی طالب علم ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر استاد اسے ایسا سوال دے دے جس کا جواب کتاب میں موجود نہ ہو تو کیا ہوگا؟ اگر استاد کہے: اپنی مثال بناؤ۔ اس مسئلے کا کوئی نیا حل سوچو۔ اس بات سے تم اتفاق کیوں کرتے ہو؟ اگر یہ صورت حال بدل جائے تو کیا ہوگا؟ تو ممکن ہے یہ بچہ رک جائے۔ کیونکہ اس نے سیکھا ہے کہ صحیح جواب کیا ہے، لیکن شاید ابھی یہ نہیں سیکھا کہ صحیح سوال کیسے پوچھنا ہے۔
اب تیسرا بچہ ہے۔ وہ ہوم ورک نہیں کرتا۔ سبق میں دلچسپی نہیں لیتا۔ کبھی کلاس میں شور کرتا ہے۔ کبھی دوسروں کو بھی مصروف کردیتا ہے۔ استاد اسے "کمزور”، "شرارتی” یا "غیر سنجیدہ” سمجھ سکتا ہے۔ یہ بچہ مزاحمت کرنے والا (Resistor) ہے۔
لیکن ذرا غور کریں۔ کیا واقعی اس بچے میں توانائی، تخلیقی صلاحیت یا تجسس نہیں؟ ضروری نہیں۔ ہوسکتا ہے اس میں بہت زیادہ توانائی ہو، بہت سے سوالات ہوں، بہت سی صلاحیتیں ہوں، لیکن اس کی توانائی ابھی سیکھنے کی سمت میں نہیں لائی گئی۔
اور پھر اسی کلاس میں چوتھا بچہ بھی ہوسکتا ہے۔ وہ اچانک ہاتھ اٹھاتا ہے اور پوچھتا ہے: سر! اگر سورج پانی کو بخارات میں تبدیل کرتا ہے تو سردیوں میں برف کیسے بنتی ہے؟ پھر پوچھتا ہے: سر! ہمارے علاقے میں سردیوں میں اتنی برف پڑتی ہے، لیکن گرمیوں میں پانی کہاں سے آتا ہے؟ پھر شاید وہ اپنے گاؤں کے چشمے کی مثال دیتا ہے۔ یہ بچہ محقق اور جستجو کرنے والا (Explorer) ہے۔ وہ صرف سبق مکمل نہیں کرنا چاہتا۔ وہ سمجھنا چاہتا ہے۔ وہ سوال کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کو سبق کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہے۔ یہی وہ بچہ ہے جس کے لیے اسکول ایک زندہ تعلیمی تجربہ (Learning Experience) بن جاتا ہے۔
یہاں ہمیں اپنے اسکولوں کے بارے میں ایک مشکل سوال پوچھنا چاہیے: کیا ہماری تدریس بچوں کو محقق (Explorer) بنا رہی ہے یا صرف کامیابی حاصل کرنے والا (Achiever)؟
ہم اکثر کہتے ہیں: "بچے کو اچھے نمبر لینے چاہئیں۔ بورڈ میں اچھا نتیجہ آنا چاہیے۔ ہوم ورک مکمل ہونا چاہیے۔ نصاب وقت پر ختم ہونا چاہیے۔ یہ سب چیزیں اہم ہیں۔ لیکن اگر ہماری پوری تعلیمی کامیابی صرف ان چیزوں تک محدود ہوجائے تو ایک خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ بچہ امتحان کے سوال کا جواب دینا سیکھ لیتا ہے، مگر زندگی کے سوالات سے نمٹنا نہیں سیکھتا۔
مثلاً اگر بچے سے پوچھیں: "پانی کا نقطۂ ابال کیا ہے؟ وہ شاید جواب دے دے۔ لیکن اگر پوچھیں: آپ کے علاقے میں پانی کے ضیاع کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟ تو کیا وہ مسئلہ حل کرسکے گا؟ اگر ہم پوچھیں: "ماحولیاتی آلودگی کی تعریف کیا ہے؟ تو بچہ تعریف لکھ سکتا ہے۔ لیکن اگر اس سے کہیں: اپنے گاؤں یا محلے میں آلودگی کی ایک حقیقی مثال تلاش کریں اور اس کا حل تجویز کریں۔ تو کیا وہ مشاہدہ، تحقیق، دلیل اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت استعمال کرے گا؟
یہ فرق صرف امتحان اور تعلیم کا فرق نہیں۔ یہ معلومات رکھنے اور سمجھ رکھنے کا فرق ہے۔
ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ گلگت بلتستان کے تمام اسکول ایک جیسے نہیں۔ کہیں اسکول شہر کے قریب ہے، کہیں ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہے، کہیں طلبہ کی تعداد بہت کم ہے، کہیں ایک ہی کلاس میں مختلف سطح کے بچے بیٹھے ہیں۔ کسی بچے کی مادری زبان شینا ہے، کسی کی بلتی، کسی کی بروشسکی، کسی کی کھوار، جبکہ کتاب اردو یا انگریزی میں ہے۔ ایسی صورت حال میں صرف کتاب پڑھا دینا کافی نہیں۔
مثلاً ایک استاد جماعت پنجم میں "پانی” کا سبق پڑھا رہا ہے۔ وہ کتاب کی تعریف پڑھ سکتا ہے: پانی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ بچے اسے یاد کرلیں گے۔ لیکن یہی سبق کہیں زیادہ دلچسپ ہوسکتا ہے اگر استاد پوچھے: "آپ کے گاؤں میں پانی کہاں سے آتا ہے؟ گھر تک پانی کیسے پہنچتا ہے؟ اگر چشمہ خشک ہوجائے تو کیا ہوگا؟” "ہمارے پہاڑوں کی برف پگھلنے سے پانی پر کیا اثر پڑتا ہے؟ گھر میں پانی کہاں ضائع ہوتا ہے؟ اب کتاب کا سبق صرف کتاب میں نہیں رہا۔ وہ بچے کے گھر، گاؤں، پہاڑ، چشمے اور روزمرہ زندگی سے جڑ گیا۔ یہی تجرباتی تعلیم (Experiential Learning) ہے۔
تعلیم کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم بچوں کو بتاتے ہیں: "یہ سبق پڑھو۔” لیکن کم ہی بتاتے ہیں: سبق پڑھتے وقت سوچنا کیسے ہے؟ ہم کہتے ہیں: "یہ سوال حل کرو۔” لیکن کم ہی کہتے ہیں: اگر تمہیں جواب معلوم نہ ہو تو مسئلہ حل کرنے کے لیے پہلا قدم کیا ہوگا؟ ہم کہتے ہیں: امتحان کی تیاری کرو۔ لیکن یہ کم سکھاتے ہیں کہ "اپنی کمزوری کیسے پہچانی جائے؟
یہی سیکھنا سیکھنا (Learning to Learn) ہے۔
ایک اچھا طالب علم وہ نہیں جو ہر سوال کا جواب جانتا ہو۔ اچھا طالب علم وہ ہے جو جواب نہ جاننے کی صورت میں یہ جانتا ہو کہ: اب مجھے کیا کرنا ہے؟ وہ سوال پوچھ سکتا ہے۔ وہ معلومات تلاش کرسکتا ہے۔ وہ مختلف ذرائع کا موازنہ کرسکتا ہے۔ وہ اپنی غلطی تلاش کرسکتا ہے۔ وہ دوبارہ کوشش کرسکتا ہے۔ اور سب سے اہم بات، وہ اپنی سوچ پر بھی غور کرسکتا ہے۔
ہمارے بہت سے بچے سوال پوچھنے سے ڈرتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں ان کا جواب غلط نہ نکل آئے۔ اگر کلاس میں کوئی بچہ غلط جواب دے اور پوری کلاس ہنس پڑے تو اگلی بار وہ شاید ہاتھ نہ اٹھائے۔ یہاں استاد کا ایک چھوٹا سا جملہ بہت بڑا فرق پیدا کرسکتا ہے: غلط جواب دینا مسئلہ نہیں، بغیر سوچے خاموش رہنا زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچے محقق بنیں تو ہمیں انہیں چھوٹے چھوٹے تجربات کرنے، غلطیاں کرنے اور دوبارہ کوشش کرنے کے مواقع دینے ہوں گے۔ ہر سرگرمی کو نمبروں سے نہیں ناپنا چاہیے۔ کچھ سرگرمیاں صرف اس لیے ہونی چاہئیں کہ بچہ سوچے۔ مثلاً استاد کہے: "آج اس سوال کا صرف ایک جواب نہیں دینا۔ کم از کم تین ممکنہ جواب سوچنے ہیں۔” اب بچہ صرف یاد نہیں کرے گا۔ وہ سوچے گا۔ اور سوچنے کی یہی عادت مستقبل میں اسے مصنوعی ذہانت کے دور میں زیادہ مضبوط بنائے گی۔
پھر مصنوعی ذہانت کہاں آتی ہے؟ یہاں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ہمارے لیے ایک بہت بڑا موقع بھی ہے اور ایک بہت بڑا چیلنج بھی۔
مثلاً گلگت بلتستان کے کسی اسکول میں ایک جماعت میں پینتیس بچے ہیں۔ ان میں سے کچھ بہت تیز ہیں، کچھ درمیانی سطح پر ہیں اور کچھ بنیادی تصور بھی پوری طرح نہیں سمجھ پاتے۔ استاد ایک ہی سبق سب کو ایک ہی انداز میں پڑھاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت استاد کی مدد کرسکتی ہے کہ وہ ایک ہی تصور کو مختلف سطحوں پر تیار کرے۔
مثلاً استاد کہہ سکتا ہے: "اس تصور کو جماعت پنجم کے بچے کے لیے آسان اردو میں سمجھاؤ۔” یا: اسی تصور کے لیے جماعت ہشتم کے طلبہ کے لیے مشکل سوالات بناؤ۔ یا: کمزور طلبہ کے لیے پانچ آسان سرگرمیاں بناؤ۔ یا اس سبق کو مقامی زندگی کی مثالوں سے سمجھانے کے تین طریقے بتاؤ۔ یہ استاد کے لیے ایک معاون بن سکتی ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی اصول یاد رکھنا ہوگا: مصنوعی ذہانت استاد کی جگہ نہیں لے سکتی؛ لیکن مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والا بہتر تیار استاد، اس استاد سے آگے نکل سکتا ہے جو اسے سمجھنے اور استعمال کرنے سے انکار کردے۔
لیکن مصنوعی ذہانت کے ساتھ ایک خطرہ بھی ہے۔ یہ بچے کے لیے ہر سوال کا جواب فوراً دے سکتی ہے۔ یہ بظاہر سہولت ہے، لیکن اگر بچہ ہر سوال پر فوراً جواب لے لے تو ایک خطرہ پیدا ہوسکتا ہے: بچہ سوچنے کی محنت چھوڑ سکتا ہے۔
مثلاً استاد نے کہا: کل پاکستان کے شمالی علاقوں کے سیاحتی امکانات پر مضمون لکھ کر لانا۔ بچہ مصنوعی ذہانت سے کہتا ہے: "میرے لیے مضمون لکھ دو۔” چند سیکنڈ بعد مکمل مضمون تیار۔ بچہ اسے کاپی کرتا ہے اور اگلے دن جمع کرا دیتا ہے۔ کام مکمل ہوگیا۔ لیکن کیا سیکھنا بھی مکمل ہوگیا؟ شاید نہیں۔ اسی لیے ہمیں بچوں کو مصنوعی ذہانت سے یہ نہیں کہنا چاہیے: میرے لیے کام کردو۔ بلکہ یہ سکھانا چاہیے: میرے ساتھ سیکھو۔
مثلاً بچہ مصنوعی ذہانت سے کہہ سکتا ہے: "مجھے مکمل جواب مت دو، صرف اشارہ دو۔” "میری غلطی تلاش کرنے میں مدد کرو۔” "مجھے پانچ سوالات دو تاکہ میں خود سوچ سکوں۔” "اس تصور کو آسان اردو میں سمجھاؤ، لیکن آخر میں مجھ سے تین سوال بھی پوچھو۔” "میرا جواب دیکھو اور صرف یہ بتاؤ کہ میری دلیل کہاں کمزور ہے۔” یہ استعمال بچے کو سوچنے سے آزاد نہیں کرتا بلکہ سوچنے میں مدد دیتا ہے۔
میرے خیال میں مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا کردار کم نہیں ہوگا بلکہ استاد کا کردار مزید اہم ہوگا۔ پہلے استاد کا ایک بڑا کام معلومات پہنچانا تھا۔ اب معلومات ہر طرف موجود ہیں۔ اس لیے استاد کا اصل کام زیادہ سے زیادہ یہ بنتا جارہا ہے: بچے کو صحیح سوال تک پہنچانا، اسے سوچنے کا طریقہ سکھانا، اس کی غلط فہمی کو پہچاننا، اسے حوصلہ دینا، اس کے تجسس کو زندہ رکھنا، اسے درست اور غلط معلومات میں فرق کرنا سکھانا، اور سب سے بڑھ کر اسے ایک بہتر انسان بننے میں مدد دینا۔
ایک مصنوعی ذہانت بچے کو جواب دے سکتی ہے، لیکن ایک اچھا استاد بچے کی آنکھوں میں دیکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ: "یہ بچہ آج خاموش کیوں ہے؟” "یہ تصور اسے سمجھ کیوں نہیں آرہا؟” "اس کے گھر کے حالات اس کی تعلیم پر کیسے اثر انداز ہورہے ہیں؟” "یہ بچہ ذہین ہے لیکن اعتماد کی کمی کا شکار کیوں ہے؟” یہ انسانی تعلق مصنوعی ذہانت آسانی سے تبدیل نہیں کرسکتی۔ اس تبدیلی کا تعلق صرف استاد سے نہیں۔ ہیڈ ماسٹر اور اسکول لیڈر کو بھی اپنے اسکول کے بارے میں ایک بنیادی سوال پوچھنا ہوگا: ہمارے اسکول میں بچوں کو صرف پڑھایا جارہا ہے یا انہیں سیکھنے کے قابل بھی بنایا جارہا ہے؟ مثلاً اسٹاف میٹنگ میں صرف یہ پوچھنے کے بجائے کہ کتنا نصاب مکمل ہوا؟ یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے: اس مہینے بچوں نے کون سے نئے سوالات پوچھے؟ کتنے بچوں نے خود کوئی مسئلہ تلاش کیا؟ ہماری کلاسوں میں طلبہ کو اپنی رائے دینے کے کتنے مواقع ملے؟کمزور بچوں کے لیے ہم نے کیا مختلف کیا؟ کیا ہمارے بچے کتاب سے باہر کسی حقیقی مسئلے پر سوچ رہے ہیں؟ کیا ہماری کلاس میں غلط جواب دینے کی گنجائش ہے؟
یہ سوالات اسکول کی ثقافت بدل سکتے ہیں۔
اگر ہم واقعی مصنوعی ذہانت کے دور کے لیے گلگت بلتستان کے بچوں کو تیار کرنا چاہتے ہیں تو صرف کمپیوٹر لیبارٹریاں، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے اوزار کافی نہیں ہوں گے۔ ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ ہمیں کس قسم کا گریجویٹ پیدا کرنا ہے؟ ایسا گریجویٹ جو صرف سوال کا جواب یاد رکھتا ہو؟ یا ایسا گریجویٹ جو مسئلہ دیکھ کر کہہ سکے: میں اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔
ایسا طالب علم جو ہر بات پر کہے: "سر، اس کا جواب کیا ہے؟ یا ایسا طالب علم جو پوچھے: سر، ہم اسے خود کیسے معلوم کرسکتے ہیں؟
میرے خیال میں ہمارے تعلیمی نظام کو اب صرف علم حاصل کرنے (Knowledge Acquisition) سے آگے بڑھ کر علم کو استعمال کرنے (Knowledge Application)، تنقیدی سوچ (Critical Thinking)، مسئلہ حل کرنے (Problem Solving)، تعاون (Collaboration)، تخلیقی صلاحیت (Creativity) اور مسلسل سیکھنے (Lifelong Learning) پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔
جو لوگ مختلف تعلیمی پروگراموں میں تعلیمی ساتھی (Education Fellows)، تربیتی معاونین یا تعلیمی معاون کے طور پر کام کررہے ہیں، ان کے لیے بھی یہ ایک بہت بڑا موقع ہے۔ مصنوعی ذہانت سے صرف سبق کے منصوبے (Lesson Plans) یا ورک شیٹس بنوانا اس ٹیکنالوجی کا بہت محدود استعمال ہے۔ اسے استاد کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً: "میں نے آج کلاس میں یہ مسئلہ دیکھا، اس کی ممکنہ وجوہات کیا ہوسکتی ہیں؟” "ایک ہی سبق کو مختلف سطح کے بچوں کے لیے کیسے پڑھایا جاسکتا ہے؟ "مجھے اس موضوع پر بچوں کی غلط فہمیوں کی فہرست دو۔” "اس سرگرمی کو کم وسائل والے اسکول میں کیسے کیا جاسکتا ہے؟” "میرے سبق کے لیے ایسے سوالات بناؤ جو بچوں کو صرف یاد کرنے کے بجائے سوچنے پر مجبور کریں۔” لیکن ہر جواب کو آنکھیں بند کرکے قبول نہیں کرنا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت بھی غلط ہوسکتی ہے۔ اس لیے استاد کی پیشہ ورانہ بصیرت (Professional Judgment) ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھے گی۔
یہ تبدیلی صرف اسکول کی نہیں، گھر کی بھی ہے۔ ہم اکثر بچوں سے پوچھتے ہیں: "آج اسکول میں کیا پڑھا؟” کبھی یہ بھی پوچھیں: "آج اسکول میں تم نے کیا نیا سوال سوچا؟” "آج تمہیں کون سی بات عجیب لگی؟” "آج تم سے کیا غلطی ہوئی؟” "تم نے اس غلطی سے کیا سیکھا؟” "اگر تم استاد ہوتے تو یہ سبق کیسے پڑھاتے؟” یہ چھوٹے سوال بچے کے اندر سوچنے کی عادت پیدا کرتے ہیں۔ اور شاید یہی مستقبل کی سب سے قیمتی تعلیم ہوگی۔
آخر میں ایک تصویر ذہن میں رکھیے۔ ایک طرف وہ بچہ ہے جو ہر سوال پر پوچھتا ہے: "اس کا صحیح جواب کیا ہے؟” دوسری طرف وہ بچہ ہے جو پوچھتا ہے: "میں یہ کیسے معلوم کرسکتا ہوں؟” پہلا بچہ جواب کا محتاج ہے۔ دوسرا بچہ سیکھنے کا راستہ جانتا ہے۔ پہلا بچہ مصنوعی ذہانت سے کہے گا: "میرا ہوم ورک کردو۔” دوسرا بچہ کہے گا: "مجھے سوچنے میں مدد کرو۔” شاید یہی مصنوعی ذہانت کے دور میں تعلیم کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ ہمیں ایسے بچے نہیں چاہئیں جو صرف معلومات جمع کریں۔ ہمیں ایسے بچے چاہئیں جو معلومات کو پرکھ سکیں۔ ہمیں ایسے بچے نہیں چاہئیں جو صرف ہدایات پر عمل کریں۔ ہمیں ایسے بچے چاہئیں جو مناسب سوال اٹھا سکیں۔ ہمیں ایسے بچے نہیں چاہئیں جو غلطی سے ڈریں۔ ہمیں ایسے بچے چاہئیں جو غلطی سے سیکھ سکیں۔ ہمیں ایسے بچے نہیں چاہئیں جو ہر مسئلے پر کسی اور کے جواب کے منتظر رہیں۔ ہمیں ایسے بچے چاہئیں جو کہیں: "مسئلہ مشکل ہے، لیکن میں اسے سمجھنے کی کوشش کروں گا۔”
اور شاید یہی سفر ہے: مسافر (Passenger) سے کامیابی حاصل کرنے والے (Achiever) تک، مزاحمت کرنے والے (Resistor) سے محقق (Explorer) تک۔
مصنوعی ذہانت ہمارے اسکولوں کو یہ موقع دے رہی ہے کہ ہم ایک بار پھر تعلیم کے بنیادی مقصد پر غور کریں۔ سوال یہ نہیں کہ: "ہم اپنے اسکول میں مصنوعی ذہانت کب لائیں گے؟” اس سے پہلے سوال یہ ہے:
"ہم اپنے اسکول سے کس قسم کا انسان باہر بھیجنا چاہتے ہیں؟” اگر اس سوال کا جواب واضح ہوگیا تو مصنوعی ذہانت بھی ہمارے لیے ایک طاقتور تعلیمی ذریعہ بن سکتی ہے۔ اور اگر مقصد ہی واضح نہ ہو تو ممکن ہے ہمارے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی موجود ہو، لیکن ہم پھر بھی پرانے طریقے سے صرف وہی کر رہے ہوں جو ہم ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں: بچے کو جواب بتانا، جبکہ اسے سوال کرنا سکھانے کی ضرورت تھی۔ شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے اسکول بچے سے صرف یہ نہ کہیں صحیح جواب کیا ہے؟ بلکہ یہ بھی پوچھیں: تمہارا سوال کیا ہے؟ کیونکہ ایک اچھے اسکول کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہاں بچے کتنے سوالوں کے جواب جانتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہاں سے نکلنے والے بچے کتنے اچھے سوال پوچھنا سیکھ گئے ہیں۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button