وزیرِ تعلیم امان علی عامر کا اصل امتحان

تحریر: شیرنادر شاہی

سیاست میں کامیابی منزل نہیں، ایک نئے سفر کا آغاز ہوتی ہے۔ انتخابات کے دوران عوام امیدواروں سے وعدے سنتے ہیں، دعوے دیکھتے ہیں اور پھر اپنے ووٹ کے ذریعے کسی ایک شخص کو اپنی نمائندگی کا حق دیتے ہیں۔ لیکن اصل سوال انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد پیدا ہوتا ہے کہ منتخب نمائندہ ان توقعات پر کس حد تک پورا اترتا ہے؟

گلگت بلتستان کے حلقہ 21 غذر-3 سے نوجوان امیدوار امان علی عامر نے دس ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ ان کی کامیابی کو مختلف الخیال لوگ اپنے اپنے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک عوام روایتی سیاست اور پرانے نمائندوں سے تنگ آچکے تھے، اس لیے انہوں نے ایک نوجوان چہرے کو آزمانے کا فیصلہ کیا، جبکہ بعض حلقوں کی رائے ہے کہ انتخابی مہم میں مالی وسائل کی فراوانی بھی کامیابی کا ایک اہم عنصر رہی۔

یہ تمام آراء اپنی جگہ، لیکن اب ان بحثوں سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امان علی عامر کے لیے اصل امتحان شروع ہوچکا ہے۔

کامیابی کے بعد انہوں نے استحکامِ پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور وزارتِ تعلیم کا قلمدان سنبھالنے میں کامیاب ہوئے۔ ایک نوجوان منتخب نمائندے کے لیے یہ ایک بڑا موقع بھی ہے اور بڑی ذمہ داری بھی۔ اب عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے منصب اور اختیار کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔

خصوصاً یاسین کے عوام کو ان سے تعلیم کے شعبے میں واضح اور عملی اقدامات کی توقع ہے۔ یاسین کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی خالی آسامیوں کو پُر کرنا، اسکولوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا، طلبہ کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کرنا اور تعلیمی معیار بلند کرنا ایسے اقدامات ہیں جن کے اثرات براہِ راست عوام کی زندگی پر پڑ سکتے ہیں۔

یاسین میں موجود بوائز ڈگری کالج اور گرلز ڈگری کالج کو بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ صرف کالجوں کا موجود ہونا کافی نہیں، بلکہ وہاں معیاری تعلیم، مناسب فیکلٹی، ضروری سہولیات اور بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی بھی ضروری ہے۔

اسی طرح تھوئی، سلگان، سندی اور یاسین کے ہائی اسکولوں کو اپ گریڈ کرکے ہائر سیکنڈری کلاسز کا اجرا کیا جائے تو مقامی طلبہ و طالبات کو اپنے علاقوں میں بہتر تعلیمی مواقع میسر آسکتے ہیں۔ غریب طلبہ کے لیے مقامی سطح پر بسوں کی مفت یا رعایتی سہولت بھی ایک ایسا اقدام ہوسکتا ہے جو تعلیم کے حصول میں مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے خاندانوں کے لیے حقیقی ریلیف ثابت ہو۔

لیکن عوام کے مسائل صرف تعلیم تک محدود نہیں۔ صحت کا شعبہ بھی فوری توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ مقامی سطح کی سی کلاس ڈسپنسریوں میں ایم سی ایچ سینٹرز کو فعال بنانا، بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی اور طاؤس ہسپتال میں کیے گئے وعدوں کے مطابق الٹراساؤنڈ، ایکسرے اور دیگر ضروری طبی سہولیات کے ساتھ ٹیکنیشنز کی دستیابی یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یاسین کا ایک اور دیرینہ مسئلہ بجلی ہے۔ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے محض اعلانات کافی نہیں ہوں گے۔ پاور ہاؤسز، بجلی کے منصوبوں اور ترسیلی نظام میں عملی کام کا آغاز اسی وقت کرنا ہوگا تاکہ آنے والے برسوں میں عوام کو اس بنیادی سہولت کے بحران سے نجات مل سکے۔

درحقیقت عوام اپنے منتخب نمائندے سے ہمیشہ بڑے منصوبوں کی توقع نہیں رکھتے۔ بعض اوقات ایک چھوٹا سا مسئلہ حل کرنا بھی عوام کے لیے بہت بڑی سہولت بن جاتا ہے۔ ایک اسکول میں اساتذہ کی کمی دور کرنا، ایک اسپتال میں ضروری مشین نصب کرنا، بجلی کا مسئلہ حل کرنا، سڑک کی مرمت کروانا یا کسی غریب طالب علم کے لیے سفری سہولت فراہم کرنا عوام کے دل میں منتخب نمائندے کے لیے جگہ بنا سکتا ہے۔

امان علی عامر کے پاس ابھی پانچ سال کا وقت ہے۔ یہ پانچ سال ان کے سیاسی مستقبل کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی کا بھی فیصلہ کریں گے۔ اگر وہ اپنے اختیار کو عوامی مسائل کے حل کے لیے استعمال کرتے ہیں، وعدوں کو عملی شکل دیتے ہیں اور روایتی سیاست سے ہٹ کر کارکردگی کو اپنی پہچان بناتے ہیں تو ان کا دورِ نمائندگی ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔

لیکن اگر یہ پانچ سال بھی صرف روایتی سیاسی سرگرمیوں، وعدوں اور اعلانات میں گزر گئے تو وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ پانچ سال پلک جھپکتے گزر جائیں گے اور پھر عوام دوبارہ اسی سوال کے ساتھ کھڑے ہوں گے کہ جس تبدیلی کی امید پر ایک نوجوان نمائندے کو منتخب کیا گیا تھا، وہ تبدیلی آخر کہاں آئی؟

اب گیند امان علی عامر کے کورٹ میں ہے۔ عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے، اب باری ان کی کارکردگی کی ہے۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button