گلگت میں آغا خان ایجوکیشن سروس کی میرٹ سائٹیشن تقریب، نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ میں اسناد تقسیم

گلگت: آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان (AKES,P) گلگت بلتستان کے زیرِ اہتمام آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول گلگت میں میرٹ سائٹیشن تقریب منعقد ہوئی، جس میں آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ (AKU-EB) کے سالانہ امتحانات 2026 میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو اعزازات سے نوازا گیا۔

اعلیٰ ثانوی جماعت (HSSC-II) کے امتحانات میں آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول گلگت کی طالبات علیزہ احسان اور عائشہ احمد شہزاد نے صوبائی سطح پر بالترتیب پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول گاہکوچ کی طالبہ ثنا خان صوبے بھر میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

 

تقریب کے دوران ثانوی (SSC) اور اعلیٰ ثانوی (HSSC) امتحانات کے سائنس، پری انجینئرنگ اور پری میڈیکل گروپس میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ میں اسنادِ اعزاز تقسیم کی گئیں۔

آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول گاہکوچ کے 12، گلگت کے 11، ہنزہ کے تین اور شیر قلعہ کے ایک طالب علم سمیت ڈی جے ہائی اسکول نومل، رحیم آباد اور درکھوت کے طلبہ نے بھی صوبائی سطح پر امتیازی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امتیاز مومن تھے، جبکہ صدارت اسماعیلیہ ریجنل کونسل گوپس یاسین کے صدر سرتاج ولی نے کی۔

تقریب کے آغاز پر آغا خان ایجوکیشن سروس گلگت بلتستان و چترال کے جنرل منیجر بریگیڈیئر (ر) خوش محمد خان نے شرکا کا خیرمقدم کیا اور کامیاب طلبہ، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا مقصد محض معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ طلبہ میں تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، تحقیق، اخلاقی اقدار اور ذمہ دارانہ کردار کو فروغ دینا بھی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ادارہ معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، اسکولوں اور لیبارٹریوں کی بہتری، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، لائبریریوں، ابتدائی بچپن کی تعلیم، کیریئر کونسلنگ اور مستحق طلبہ کے لیے مالی معاونت سمیت مختلف اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے ان طلبہ کی بھی حوصلہ افزائی کی جو اس مرتبہ ایوارڈ حاصل نہیں کر سکے، اور کہا کہ کھیل، موسیقی اور فنونِ لطیفہ سمیت مختلف شعبوں میں صلاحیتوں کو نکھارنے کے بھی یکساں مواقع موجود ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز مذہبی و تعلیمی شخصیت ڈاکٹر شرافت سعدی نے اسلام کی علمی روایت اور فاطمی دور کے علمی مراکز کا ذکر کیا۔ انہوں نے الخوارزمی، ابنِ سینا، ابن الہیثم اور البیرونی جیسے مسلم مفکرین کی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ علم انسانی ترقی کی بنیاد ہے۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں، تاہم اس عمل میں اخلاقی اصولوں اور ذمہ داری کو مقدم رکھیں۔

آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امتیاز مومن نے اپنے خطاب میں بتایا کہ رواں سال آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے امتحانات میں ادارے کے طلبہ نے ملک بھر میں 61 اعلیٰ پوزیشنیں حاصل کیں اور 314 مضامین میں امتیازات حاصل کیے، جن میں سے 166 امتیازات گلگت بلتستان کے طلبہ کے حصے میں آئے۔ ان کے مطابق، تقریباً 80 فیصد طلبہ ہائی اچیور قرار پائے۔

انہوں نے ان کامیابیوں کو طلبہ کی محنت کے ساتھ اساتذہ، اسکول قیادت، اکیڈمک کوآرڈینیٹرز، ریجنل اسکول ڈیولپمنٹ یونٹس (RSDUs)، والدین اور معاون ٹیموں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ قرار دیا اور بریگیڈیئر (ر) خوش محمد خان اور ان کی ٹیم کی خدمات کو سراہا۔

امتیاز مومن نے بتایا کہ ملک بھر میں آغا خان ایجوکیشن سروس کے 157 اسکولوں میں 65 ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ نو سال قبل یہ تعداد تقریباً 35 ہزار تھی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اسکولوں کو 22 ملٹی کیمپس کلسٹرز میں منظم کرنے، داخلوں میں اضافہ کرنے اور اسکولوں میں آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے تحت تعلیمی تسلسل کو مضبوط بنانے کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے۔

طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے مطالعے کو زندگی کا مستقل حصہ بنانے، اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور انہیں نکھارنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ذمہ داری، دیانت اور دانش مندی کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، تعلیم کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم اور عملی زندگی میں کامیابی کے لیے تیار کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے علم اور صلاحیتوں کو دوسروں کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کے قابل بنانا بھی ہے۔

تقریب میں سرکاری و نجی شعبوں کے اعلیٰ حکام، امامی اداروں کے عہدیداران، ہیڈ آف ایجوکیشن آئین شاہ، طلبہ، والدین، اساتذہ اور تعلیمی رہنماؤں نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو مبارک باد دی گئی اور خطے میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button