اپنا دودھ پلا کر مائیں خود کو اور اپنے بچوں کو مختلف بیماریوں اور خطرات سے بچا سکتی ہیں، مقررین

اپنا دودھ پلا کر مائیں خود کو اور اپنے بچوں کو مختلف بیماریوں اور خطرات سے بچا سکتی ہیں، مقررین

26 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (نذیرحسین شاہ نذیر) ماوں اور بچوں کی صحت بہتر بنائے بغیر صحتمند معاشرے کی تعمیر کا خواب پورا نہیں ہوسکتا ہے۔ ماں کا دودھ بچوں کیلئے بہترین غذا ہے۔ بازار سے دستیاب دودھ کبھی بھی ماں کے دودھ کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ قرآن پاک میں بھی ماں کے دودھ کی اہمیت واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔ ماوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر ممکن کوشش کر کے اپنا ہی دودھ پلائیں، تاکہ ان کے بچوں کی صحت بہتر رہے، ان میں بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو، اور ان کی ذہنی نشوونما کے لئے درکارغذائیت ہمیشہ میسر رہے۔ بچوں کو اپنا ہی دودھ پلانے سے ماوں کی اپنی صحت بھی اچھی رہتی ہے اور ان میں بعض خطرناک بیماریاں، مثلاً ذیابیطس، کینسر کے بعض اقسام اور دمہ، پیدا ہونے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

پیرکے روزآغاخان ہیلتھ سروس چترال کے زیرتعاون بریسٹ فیڈنگ ویک کے سلسلے میں ایک خصوصی تقریب اور واک کا اہتمام کیاگیا، جس میں مختلف مکتبہ فکرکے لوگ کثیرتعدادمیں شرکت کی ۔پروگرام کے مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالاکرم جبکہ صدرمحفل سابق تحصیل ناظم چترال وچیئرمین سی سی ڈی این سرتاج احمدخان تھے ۔

اس موقع پرڈی ڈی ایچ او چترال ڈاکٹرفیاض رومی ، AQCESSپراجیکٹ پرپروگرام منیجراحمدضاء،کاسس پراجیکٹ کے منیجرمعراج الدین،سجادزرین ،پروگرام افیسرآغاخان ہیلتھ سروس چترال نصرت جہان،AQCESSپراجیکٹ کے ڈسٹرکٹ کواڈینیٹرچترال انوربیگ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ضلع چترال کے مختلف دورآفتہ علاقوں میں آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کے زیرِ اہتمام ماں کے دودھ کی اہمیت اجاگر کرنے لئے آگاہی ریلی اور پروگرامات کئے جارہے ہیں جن میں خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد نے شرکت کررہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان عرصہ دراز سے گلگت بلتستان اور چترال سمیت پاکستان بھر کے دور دراز علاقوں میں صحت کی خدمات اور سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شروع سے ہی آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان نے ماوں اور بچوں کی صحت بہتر بنانے کے لئے خصوصی اقدامات اُٹھائے ہیں، جن سے حالات پہلے کی نسبت بہت بہتر ہوے ہیں۔

ا س موقع پر مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالاکرم ،صدرمحفل چیئرمین سی سی ڈی این اوردیگرمقریرین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اب بھی ماوں اور بچوں کی صحت کے لئے دیرپا اور مستحکم نظام قائم کرنے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ماوں اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد مختلف وجوہات کی بنا پر چترال میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ان اموات کی ایک بہت بڑی وجہ مناسب، اور متوازن خوراک کا عدم استعمال ہے ، جس کی وجہ سے ماوں کی صحت بہتر نہیں رہتی، اور اس کے اثرات بچوں میں بھی نمودار ہوتے ہیں۔

مقررین نے مزید کہا کہ ماوں اور بچوں کی صحت کے حوالے سے شعور کی بیداری اور سہولیات اور خدمات کی بروقت فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ماں کا دودھ نوزائیدہ بچوں کی صحت مند نشوو نما کے لیے بہترین اور مکمل غذا ہے۔ اس میں وہ تمام غذائی اجزاء مناسب مقدار اور تناسب سے موجود ہیں جو بچے کی جسمانی اور دماغی نشو و نما کے لئے درکار ہیں۔ ماں کا دودھ بچے کو مختلف بیماریوں اور الرجی سے محفوظ رکھتا ہے اور اس میں قوت مدافعت پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ماں کا دودھ پینے والے بچے دوسرا دودھ پینے والے بچوں کی نسبت زیادہ ذہین ہوتے ہیں، پیٹ اور سانس کی بیماریوں میں کم مبتلاہوتے ہیں اور ان بیماریوں کی وجہ سے شرح اموات بھی ان بچوں میں نسبتاً کم ہوتی ہے۔ ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں ماں اور بچے کا لگاو اور پیار زیادہ ہوتا ہے۔ بچے پر سکون رہتے ہیں۔ انہیں جذباتی تحفظ ملتا ہے اور وہ کم روتے ہیں۔ جدید تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں موٹاپا اور دائمی بیماری جیسے ذیابیطس، بلڈ پریشر کی شرح کم پائی جاتی ہے۔ ماہرین صحت عالمی سطح پر یہ ہدایات دیتے ہیں کہ بچوں کو پہلے 6 ماں کے دوران صرف اور صرف ماں کا دودھ ہی پلانا چاہیے اور اس کے علاوہ کوئی بھی مائع یا ٹھوس غذا قطعاً نہ دی جائے حتٰی کہ پانی بھی نہیں دینا چاہیے۔ ماں کے دودھ میں 88% پانی موجود ہوتا ہے جو اس کی پانی کی ضرورت کو پورا کردیتا ہے۔ لہذا چھ ماہ کی عمر تک تمام بچوں کو ماں کے دودھ کے ساتھ دو سال کے عرصے تک ماں کا دودھ جاری رکھنا چاہیے۔

یاد رہے کہ آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان گزشتہ چھ دہائیوں سے گلگت بلتستان اور چترال سمیت پاکستان بھر کے مختلف علاقوں میں گرانقدر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ اسوقت گلگت بلتستان اور چترال میں ساٹھ سے زائد صحت کے بڑے، درمیانے اور چھوٹے مراکز آغا خان ہیلتھ سروس کے زیرِ اہتمام چل رہے ہیں، جن سے ہر سال لاکھوں افراد مستفید ہوتے ہیں۔ صحت کے بعض بڑے مراکز حکومت گلگت بلتستان، حکومت خیبر پختونخواہ اور آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کے اشتراک سے پبلک پرائیویٹ پارٹرنر شپ کے اُصول کے تحت چلائے جارہے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔