چترال کے علاقے وادی کیلاش میں سودیشیوں کا عالمی دن منایا گیا

چترال کے علاقے وادی کیلاش میں سودیشیوں کا عالمی دن منایا گیا

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( محکم الدین ) آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے تعاون سے کالاش ویلی بریر کے کمیونٹی بیسڈسکول گرامبت گول میں (World Indigenous People Day) “عالمی دیسی لوگوں کا دن “منایا گیا ۔ جس میں بڑی تعداد میں کالاش قبیلے کی خواتین ،مردوں اور سکول کے بچوں نے شرکت کی ۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام تھا ۔ جس میں انتہائی قدیم تہذیب و ثقافت کے حامل کالاش قبیلے کو اپنی تاریخی اور دیسی زندگی کا دن منانے کا موقع ملا ۔ تقریب کا افتتاح کلاش کمیونٹی کی خواتین نے کیک کاٹ کر کیا ۔ اور یہ کیک تقریب میں موجود برادری کی تمام خواتین اور بچوں میں تقسیم کی گئی ۔ اور سکول کے بچوں نے کالاشہ موند( کالاشہ زبان) میں ملی نغمے اور دُعائیہ کلمات پیش کئے ۔ اے کے آر ایس پی کی جانب سے عارف حسین جان اور منظور احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ اُن کے ادارے کی طرف سے کالاش کمیونٹی کو تنظیم سازی ، خواتین کے حقوق ، صحت و صفائی کے حوالے سے تربیت فراہم کئے گئے ہیں ۔ ان کے علاوہ مقامی بی ایچ یو میں کمرہ ، بشالینی کی تعمیر اور سامان کی فراہمی کے علاوہ ادویات مہیا کئے ہیں ۔ جبکہ سکولوں کی آرائش و زیبائش ، سپورٹس کے سامان کی فراہمی کے علاوہ مختلف مقامات پر حفاظتی پُشتے تعمیر کئے جا چکے ہیں ۔ انہوں نے کمیونٹی پر زور دیا ۔ کہ مستقبل میں وہ تنظیمات کو مزید مضبوط بنائیں۔ اور فعال تنظیم ہی علاقے کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کر سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ بریر وادی میں اٹھارہ افراد کو 45ہزار روپے مالیت کے مختلف سکل کے سامان خریدکر دیے گئے ہیں ۔ 153افراد کو مختلف ٹریننگ فراہم کی گئی ہے ۔ اور یوسی ایون میں پینتالیس مختلف پراجیکٹس مکمل ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کمیونٹی بیسڈ سکول گرامبت گول پر 13لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں ۔ جبکہ آیندہ ایک سال کے دوران مزید ترقیاتی کام کئے جائیں گے ۔ تاہم تمام تنظیمات کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ لوکل سپورٹ آرگنائزیشن AVDPکے ساتھ خود کو رجسٹرڈ کریں ۔ اس کے بغیر کسی بھی قسم کا ترقیاتی کام نہ ہو سکے گا ۔ اس موقع پر سکول کی بچیوں نے مطالبہ کیا ۔ کہ سکول کو مزید چلانا کمیونٹی کے بس سے باہر ہو چکی ہے ۔ اسی طلبہ کیلئے چار اساتذہ موجود ہیں ۔ لیکن صرف دو کو بہت معمولی تنخوا ہ دی جاتی ہے ۔ جبکہ دو اساتذہ بغیر تنخواہ ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے سکول کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ تقریب کے اختتام پر کالاش کمیونٹی نے خوشی کا اظہار کرنے کیلئے روایتی رقص پیش کیا ۔ جس میں 80سالہ خاتون سچین گل اور سکول کی بچیوں نے خصوصی حصہ لیا ۔ اور مخصوص لوگ گیت گا کر رقص کرکے تقریب کو رونق دی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔