کسی کے باپ کی مجال ہے تو گورنر برجیس طاہر کو گلگت بلتستان آنے سے روکے، حفیظ الرحمن نے دھمکی دے دی

کسی کے باپ کی مجال ہے تو گورنر برجیس طاہر کو گلگت بلتستان آنے سے روکے، حفیظ الرحمن نے دھمکی دے دی

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Hafeez

گلگت( کامریڈ ارسلان) پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے سربراہ حافظ حفیظ الرحمان نے’’ میٹ دی پریس ‘‘ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کی باپ کی مجال ہے تو گورنر گلگت بلتستان برجیس طاہر کو گلگت بلتستان آنے سے روکے.  جنہوں نے اپنے وزیر قانون کو چیف کورٹ کا جج بنایا اور جنہوں نے اپنے پارٹی کے ذمہ داروں کو سپریم اپلیٹ کورٹ کے ججز تعینات کروائے وہ لو گ آج ہمیں درس دے رہے ہیں کہ برجیس طاہر کو گورنر کیوں بنایا ۔ اگر کوئی برجیس طاہر کو گلگت بلتستان آمدپر روکنے کی با ت کرتے وہ لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ۔ جو لوگ یونین کونسل کی سیٹ نہیں جیت سکتے وہ آج برجیس طاہر کے گورنر بنے پر اعتراز کرتے ہے۔

حفیظ الرحمن نے کہا ہم نے تو مہدی شاہ کی نگرانی میں الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ اگر وفاقی حکومت فوج کی نگرانی میں انتخابات کروائے تو ہم اس کیلئے بھی تیار ہیں۔

انہوں نے 2009کی الیکشن کے بارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2009ء کی الیکشن میں مذہبی رنگ دے کر الیکشن جیتا تھا۔سابقہ پیپلز پارٹی کے دور سے مسلم لیگ ن کے 2سالون میں زیادہ بجٹ ملا ۔پیپلز پارٹی کی پانچ سالوں تک گلگت بلتستان میں حکومت رہی5سالوں کے دوران انہوں نے صوبائی سیکریٹریٹ تک نہیں بنایا میں پیپلز پارٹی کو چلنج کرتا ہوں 500لوگوں کو جمع کرکے دکھائے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا مہدی شاہ بتائیں اٹھارویں آئینی ترمیم میں کہاں لکھا ہوا ہے کہ 3وزرا نگران سیٹ اپ میں ہونگے اگر مہدی شاہ یہ ثابت کریں تو میں سیاست چھوڑ دونگا۔

انہوں نے مزید کہا الیکشن کروانا نگران حکومت اور الیکشن کمشنر کا کام ہے گورنر کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ،ہم نے دھاندلی کرنی ہوتی تو نادرا سے ووٹر لسٹے نہیں بنواتے اور ہم نے نادر ا سے ووٹر لسٹے بنواکر یہ ثابت کیا ہے کہ الیکشن صاف و شفاف ہونگے ۔3ضمنی الیکشنز مہدی شاہ کے زیر نگرانی میں ہوئے ہمیں اس پر کوئی اعتراز نہیں تھا تو آج پیپلز پارٹی والوں کو کیوں اعتراز ہونا چاہیے ۔حفیظ الرحمن نے قیدی فرار واقعہ کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوکہا اس میں کسی ایک کو مرید الزام ٹھرانا مناسب نہیں اسے میں پورے سسٹم کا فیلیئر ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہے اس واقعہ کی ایک انڈیپنڈنٹ تحقیقاتی ٹیم سے تحقیقات کروائی جائے اور آئندہ بھی ایسے واقعات کوروکنے کیلئے سخت سے سخت اقدامات کئے جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔