گلگت بلتستان میں‌قدرتی آفات کی وجہ سے فصلوں‌اور درختوں کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کی کوئی پالیسی نہیں ہے، وزیر اعلی

اسلام آباد: وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان پسماندہ اور دشوار گزار خطہ ہے، قدرتی آفات کے دوران گلگت بلتستان میں ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں کی انجام دہی میں مشکلات درپیش آتے ہیں، وفاقی حکومت کسی بھی ممکنہ قدرتی آفات کے دوران گلگت بلتستان میں بحالی اور تعمیر نو کے کاموں پر دیگر صوبوں کے مقابلے میں ترجیحی بنیادوں پر کام کرے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے گذشتہ روز یہاں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ کمیشن کی اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی قدرتی آفات کی تباہ کاریوں کے بعد جاں بحق اور زخمی افراد کے ساتھ املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کیلئے حکومت معاوضہ ادا کرتی ہے لیکن فصلوں، درختوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کیلئے کسی بھی قسم کی مالی معاونت کا معاوضہ کی ادائیگی کیلئے کوئی پالیسی نہیں ہے۔وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم پاکستان سے درخواست کی کہ وہ اس ضمن میں خصوصی پالیسی بنائے تاکہ قیمتی، فصلوں اور جنگلات کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جا سکے۔وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم پاکستان سے خصوصی طور پر اپیل کی کہ وہ قدرتی آفات کی صورت میں گلگت بلتستان کو ترجیحی بنیادوں پر مالی، انتظامی اور تیکنیکی معاونت فراہم کریں کیونکہ گلگت بلتستان پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث امدادی کارائیوں کے دوران ریسکیو اور ریلف کے کاموں کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔اس پر وزیر اعظم نے اس ضمن میں ہر ممکن تعاون اور ترجیحی بنیادوں پر معاونت کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے علاوہ صوبائی وزرا ے علیٰ، وزیر اعظم آزاد کشمیر، وفاقی وزراء اور سول سوسائٹی کے ممبران شریک ہوئے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments