پولٹری لانے والی گاڑیوں سے 2000 روپے ٹیکس وصول کرنا زیادتی ہے، تجار یونین چترال

چترال (نذیرحسین شاہ نذیر) تجاریونین چترال کے صدر شبیر احمد اور آل پولٹری سپلائرز ایسوسی ایشن کے صدر فاروق زرین نے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی طرف سے پولٹری پر ٹیکس عائد کرنے کے خلاف ہڑتال کو جاری رکھنے کے فیصلے پر کاربند رہتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چترال اور صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بکرآباد کے مقام پر غیر قانونی ٹیکس کی وصولی کی تحقیقات کی جائے اور ضلعے کو پولٹری لانے والی ہر گاڑی سے 2ہزار روپے سراسر ذیادتی ہے جس کا وہ متحمل نہیں ہوسکتے۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں دیگر رہنماؤں طاہر، ظاہر شاہ، غلام حسین اور دوسروں کی معیت میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک کے کسی حصے میں بھی ٹی ایم اے یا ضلعی حکومت کی طرف سے مرغیوں کی ٹرانسپورٹیشن پر کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا لیکن چترال ٹی ایم اے نے 2011ء کے ایک فیصلے کا حوالہ دے کر پولٹری کی فی ڈاٹسن پر 2ہزار روپے بٹورنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جسے کسی صورت ہم قبول نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب سے وہ مرغی خرید کر ڈاٹسن گاڑیوں میں لوڈ کرکے چترال پہنچنے تک ان سے ایک پائی بھی نہیں لی جاتی لیکن چترال ٹاؤن میں داخل ہوتے وقت ان سے ٹیکس دینے پر مجبور کیا جاتا ہے اور وہ اس ظالمانہ فیصلے کو واپس لینے تک ہڑتال ختم نہیں کریں گے ۔ اس موقع پر تجاریونین کے صدر شبیر احمد نے کہاکہ چترال شہر میں ڈیڑھ سو سے ذیادہ پولٹری ڈیلرز گزشتہ ایک ہفتے سے بے روزگارہیں کیونکہ پولٹری سپلائروں کی ہڑتال کی وجہ سے ان کے پاس مال کی فراہمی نہیں ہورہی ہے۔ تجار یونین کے صدر نے کہاکہ پولٹری سپلائروں کی ہڑتال طول پکڑنے اور بازارمیں مرغی شارٹ ہونے پر مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کوبھی کھانے کی فراہمی میں مشکلات پیش آئیں گے جوکہ ان بڑی تعداد میں چترال آرہے ہیں۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments