دہشتگردی میں‌ملوث سات افراد گرفتار، دیسی ساخت بم بنانے کا سامان برآمد:‌ ایس ایس پی غذر فیصل سلطان

غذر (بیورو رپورٹ ) غذر میں دہشت گردی و تخریب کاری میں ملوث سات ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، داماس سے گرفتار ملزم کی نشاندہی پر دیسی ساخت کے بم بنانے کا سامان برآمد کر لیا گیا ہے۔ علاقے میں دہشت گردی کا منصوبہ بنانے والے گروپ کی کمر توڑ دی ہے جس میں پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں نے بھر پور کردار ادا کیا ہے۔

یہ انکشافات ایس ایس پی غذر سلطان فیصل نے گاہکوچ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسپکٹر جنرل پولیس گلگت بلتستان ثناء اﷲعباسی کی ہدایات پر غذر میں پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے علاقے میں تخریب کاری کی کوشش کو ناکام بنادیا ہے۔غذر کے داخلی وخارجی راستوں پر چیکنگ کا موثر نظام قائم کرکے اشتہاری مجرموں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کومبنگ اپریشن کیا گیا۔  اس دوران مولوی عبدالصبور ولد مقبول عالم ساکنہ داماس، احسان اﷲساکنہ یاسین ،عنایت الرحمان ولد نورعلی خان ساکنہ گاہکوچ پایئن کی گرفتاری عمل میں آئی۔

مولوی عبدالصبورنے اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ سابق گورنر پیرکرم علی شاہ کے قافلے پر دیسی ساخت کا بم سلپی غذر میں نصب کرکے دھماکہ کا پروگرام تھا جس کو سپیشل برانچ بم ڈسپوزل ٹیم اور پولیس نے ناکام بنا دی۔ پرنس کریم آغاخان کے دورہ غذر کے دوران دیسی بم بمقام ہاتون نصب کیا گیا تھا.

ایس ایس پی غذر فیصل سلطان نے مزید بتایا کہ ملزمان سے آئی ای ڈیز ڈیوائس ،ریموٹ کنٹرول ڈیوائس ،بلیک ایکسپلوسیوز،ڈیٹونیٹنگ کورڈ ،ڈیٹونیٹر اور وائٹ سیمنٹ برآمد ہوا ہے۔

اس طرح قاری احسان نے دوران حراست دو ساتھیوں کے ساتھ موضع ہاتون میں دو سکولوں کو جلانے اور دھمکی آمیز خطوط لکھنے اور عیشی گایکوچ میں سکولوں میں توڑ پھوٹ میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا ہے۔ ملزم نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے غذر جیل توڑ کر دہشت گرد منڈیلا کے بھائی عطاالرحمان اور اس کے ساتھی راجی رحمت کوفرار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ان تمام واقعات کا ماسٹر مائینڈ مولانا عبد الصبور اور عنایت الرحمان ہیں۔

ایس ایس پی غذر نے مزید کہاستمبر2018کو مدرسہ دارالعلوم گاہکوچ میں سالانہ نتائج کے دوران دھماکہ کرنے کا منصوبہ تھاجو دہشت گردوں کی گرفتاری سے ناکام ہوگیا۔

ضلع غذر میں 2016 میں سکولوں کو جلانے کے پٹرول دینے والا سہولت کا ر پمپ کا منیجر کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ایس ایس پی غذر فیصل سلطان نے کہا کہ غذر کے 16سے زائد نالہ جات کی سرحدیں کوہستان،دیامر، افغانستان اور دیگر علاقوں سے ملتے ہیں جہاں پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور پولیس کے علاوہ سیکورٹی اداروں کے جوان بھی ڈیوٹی انجام دے رہے غذر میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔ اب تک غذر سے سات ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جن کو گلگت منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان سے تفتش ہورہی ہے اور ان ملزمان سے مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ایس ایس پی غذر فیصل سلطان نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران غذر کے داخلی وخارجی راستوں پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں شیر قلعہ اور یاسین میں بھی سیکورٹی مزید سخت کی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملزم عنایت الرحمان غذر میں کمانڈر خلیل طرز کا ایک گروپ بنانا چاہتا تھا مگر وہ اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہوسکا ۔

انہوں نے کہا کہ ملزم کا عید کے چار دن بعد یہاں پر بھی سکولوں کو جلانے کا پروگرام تھا۔نھوں نے مزید کہا کہ چھشی میں نالے میں پولیس پر حملہ کرنے والے ملزم کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ غذر میں سرچ آپریشن کا سلسلہ جاری رہیگا انھوں نے عوام کی طرف سے بھر پور تعاون پر غذر کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ غذر پرامن علاقے تھا ہے اور ریئگا اور جو عناصر یہاں کا ماحول خراب کرنا چاہتے تھے وہ بہت جلد اپنے انجام کو پہنچ جائینگے انھوں نے کہا کہ انسپکٹر جنرل پولیس ثنااﷲعباسی نے غذر کے واقعات میں بھر پور رہنمائی فرمائی اور کئی بار غذر کا دورہ کیا میں آئی جی اور حساس اداروں کا شکریہ اداکرتا ہوں کہ ان کے بھر پور تعاون کی وجہ سے اج ہمیں اتنی بڑی کامیابی ملی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments