گلگت بلتستان میں 1500گاڑیوں کوچالان کی مد میں 20لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے

گلگت (پ ر) انسپکٹر جنرل پولیس گلگت بلتستان ثناء اللہ عباسی کے زیر صدارت پولیس ہیڈ کوارٹرز میں ٹریفک ایشوز اور اُن کے حل کے حوالے سے میٹنگ ہوئی۔ جس میں گلگت ٹریفک کے ذمہ داروں نے ٹریفک برانچ کی موجودہ صورتحال ، ٹریفک کے اثرات ، ٹریفک اہلکاروں کی تعداد ، ڈپلائمنٹ ، بجٹ ، فنڈز اور بڑھتی ہوئی ٹریفک کے مسائل پر بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کی سطح پر گزشتہ گیارہ مہینوں کے دوران 1500گاڑیاں چالان کر کے جرمانہ کی مد میں تقریباً 20لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے ہیں۔

آئی جی پی نے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ پولیس ٹریننگ کالج میں ٹریفک مینول ٹریننگ یکم جنوری 2019سے شروع کرائی جائے ۔ جس میں ریکروٹس کو ٹریفک قوانین خصوصی طور پر سکھائے جائیں۔ لائسنس ٹیسٹنگ سٹاف کی ٹریننگ کرائی جائے ۔ پولیس محکمے کے تمام ڈرائیورز کو پہاڑی ، میدانی اور ہائی ویز پر گاڑی چلانے کی مرحلہ وار تربیت دی جائے۔ اس سلسلے میں FCNAکے متعلقہ شعبے سے بھی مدد لی جائے۔ جی بی پولیس کے اُن تمام آفیسروں کی لسٹ مرتب کی جائے جنہوں نے موٹروے پولیس یا دیگر اداروں میں خدمات سرانجام دی ہیں اور جنہیں ٹریفک کے شعبے میں مہارت حاصل ہے ٹریفک مینول ٹریننگ کے دوران لیکچرز دینگے۔

آئی جی پی ثناء اللہ عباسی نے کہا کہ فوری طور پر کسی ایک ضلع میں ڈرائیونگ سکول کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کو سفارشات بھیجی جائیں کہ دیگر صوبوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی ٹریفک پولیس کو جرمانہ کرنے کے اختیارات دیئے جائیں۔ اور جرمانے کی رقم میں سے 25فیصد رقم ٹریفک پولیس کو دی جائے جو ٹریفک کی بہتری کے لئے خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں ٹریفک انجینئرنگ کے لئے بھی متعلقہ محکمے سے رجوع کیا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی ٹریفک کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔

میٹنگ میں سی پی او کے اے آئی جیز اور گلگت ٹریفک کے آفیسران سمیت کمانڈنٹ پی ٹی سی نے شرکت کی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments