ڈی ایف او چترال کے خلاف یو سی ارند وکے نوجوانوں کا تیسرے روز بھی بھوک ہڑتال جاری

دروش ( نمائندہ ) حالیہ محکمہ فارسٹ میں سفارشی بنیادوں پر امیدواروں کی بھرتی کا انکشاف کرتے ہوئے یو سی ارندو کے نوجوان محمد اسلام وغیرہ نے کہا کہ گذشتہ مہینوں محکمہ فارسٹ نے فارسٹ گارڈ اور کلرک کے خالی اسامیوں کو پر کرنے کیلئے اخبارات میں اشتہارات دیے گئے جس میں واضح طور پر لکھے گیے ہیں Say No Corruption۔ مگر بد قسمتی سے ہم یو سی ارندو کے نوجواناں فارسٹ گارڈ کی آسامی کیلئے ہم نے درخواست جمع کیے۔ ہم نے تمام ٹیسٹ کے مراحل سے پاس ہو کر انٹرویو کے مراحل میں پہنچے۔ مگر محکمہ فارسٹ کے ڈی ایف او نے اپنے من پسند افرادوں کو انٹرویو کیلئے لیٹر کیے گئے۔ جب ہمیں معلوم ہوا کے ہمیں انٹر ویو کے لیٹر نہیں بھیجی گئی جس کی وجہ ہمیں شدید زہنی کوفت پہنچا۔ ہم نے مشترکہ طور 10 افراد سے سینئر سول جج / علاقہ قاضی صاحب چترال میں مذکورہ پوسٹوں میں غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کیلئے چلینج گیے۔ عدالت حضور میں کیس جاری رہا اور ہم نے جس طرح اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس میں امیدوار جن کے چھاتی مطلوبہ مقدار کیلئے پورا نہیں اترے ہیں۔ عدالت نے مذکورہ افراد کو بذریعہ پولیس اپنے سامنے دوبارہ پیمائش کی اور جن امیداروں کو میرٹ پر بھرتی کرنے کیلئے فائنل کیا تھا مگر وہ لوگ چھاتی سائز میں پورا نہیں ہوئے۔ ہم حکام بالا کو اگاہ کرتے ہیں کہ مذکورہ ڈی ایف او صادق اور آمین نہیں رہا ہے کیونکہ انہوں نے ہمارے حق کو ضائع کررہا ہے۔ مذکورہ ڈی ایف او نے جنگلاتی علاقے کے نوجوانوں کو محکمہ فارسٹ میں فارسٹ گارڈ بھر تی کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو بھی لیٹر بھیجا تھا۔ مگر بد قسمتی سے ہم یو سی ارندو کے نوجوانوں میں سے ایک کو بھی فارسٹ گارڈ کی پوسٹ پر بھرتی نہیں کیا ہے جو کہ ہم نے تمام مراحل کو پاس کر کے انٹرویو کے مراحل کو پہنچا تھا۔ ہم جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب اسلامی جمہوریہ پاکستان سے خصوصی اپیل کرنے ہیں کہ ڈی ایف او کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے منسٹر فارسٹ اشتیاق آڑمر صاحب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں فارسٹ کی گارڈ پوسٹوں میں تعینات کیا جائے کیونکہ ہم جنگلاتی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارا حق بھی بنتا ہے۔ ہم چترال کے دوسرے علاقوں کے نوجوانوں سے بہتر جنگلاتی علاقوں میں ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments