صحافی حقیقت پر مبنی رپورٹنگ کریں‌، چاہے دنیا پھٹ جائے، وزیر اعلی کا گلگت پریس کلب میں‌خطاب

 گلگت: وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے گلگت پریس کلب کے نومنتخب کابینہ کی تقریب حلف وفاداری کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی افادیت سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کرسکتا ہے گلگت بلتستان میں پریس فاونڈیشن کے قیام پر کام آخری مراحلے میں ہے اور صحافیوں کی ہلتھ انشورنس کے لئے بجٹ بھی مختص کردیا ہے اور تمام پریس کلبوں کے لئے گرانٹ بھی فراہم کریں گے جس کی انٹرنل اور ایکسٹرل آڈیٹ بھی ہوگی

 وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام اضلاع میں پریس کلبوں کے لئے عمارت تعمیر کرنے کے لئے بھی کام ہورہا ہےوزیراعلیٰ نے تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران کے لئے پنشن دینے کے لئے ان کی تنخواہ سے کٹوتی ہوگی اس حوالے سے بل اسمبلی میں ٹیبل کیاگیا ہے جس کی منظوری کے بعد اسمبلی ممبران کو پنشن ملے گا اگر ممبران اسمبلی اگر ریٹائرمنٹ کے بعدالیکشن ہار جاتے ہیں تو انہیں پنشن ملے گا اگر جیت گیا تو ان کی تنخواہ سے کٹوتی ہوکر جمع ہوگا

وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا پر پابندی لکاکر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے اور نہ آج تک دنیا میں آمریت کے ملک میں ترقی کی کوئی مثال دی جاتی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صحافی حقیقت پر مبنی رپورٹ شائع کردیں چاہے دنیاپھٹ جائے ایکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈگری لینے والا بہترین صحافی نہیں ہوتا بلکہ فیلڈ میں کام کرنے والا بہترین صحافی کہلاتا ہے ایکسفورڈیونیورسٹی سے پڑھے لکھے ہمارے ملک کے حکمران کی حالت آج سب کے سامنے ہے مجھ جیسے سیاسی کارکن کو بھی ٹی وی دیکھتے ہوئے شرم آتی ہے انہوںنے کہا کہ جب میں گلگت بلتستان کے مسائل لیکر موجودہ وزیراعظم کے پا س جاتا ہوںتو وہ میرے سامنے ہمارے لیڈر کو گالیاں دیتا ہے تو کہتا ہوں آپ کی یہ باتیں ہم روزٹی وی میں سنتے ہیں آپ ہمار ے مسائل پر توجہ دیں

وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مقامی اخبارات کے اشتہارات دینے کے حوالے سے جو پالیسی مرتب کی گئی ہے اس میں صحافیوں کی تنخواہ سے مشروط کی گئی ہے اگر کسی صحافیوں کو کوئی میڈیا ہاو ¿س تنخواہ نہیں دیتا ہے تو تحریری طور پر حکومت کو آگاہ کریں ہم دیکھتے ہیں محکمہ اطلاعات کیسے ایکشن نہیں لتا ہے وزیراعلیٰ نے تقریب کے موقع پر سرکاری ملازمین کی صحافت سے متعلق اٹھائے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ سرکاری ملازم صحافی نہیں بن سکتا ہے اگر کوئی سرکاری ملازم کارڈ ہولڈر صحافی پایاگیا تو اس کے خلاف سخت ایکشن ہوگاوزیراعلیٰ نے تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے مقامی اخبارات کے ساتھ نیشنل اخبارات کو اشتہارات پیپرا قانون کے تحت دئے جارہے جن دوستوں کو اعتراض ہے وہ پیپراقانون پڑھے تاکہ غلط فہمی دور ہوسکے وزیراعلیٰ نے کہا کہ چارسال کے دوران اخبارات کودس کروڈ روہے کے اشتہارات دئے گئے ہیں سابقہ بقایہ جات کی ادائیگی بھی یقینی بنائی ہے

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مقامی اخبارات کے ساتھ نیشنل میڈیا کو بھی گلگت بلتستان کے خبریں چلاتی ہیں جس پروفاقی حکومت متوجہ ہوتی ہے مقامی اخبارات کی ملکی ایوانوں تک رسائی نہیں ہوتی ہے جوکہ المیہ ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جتنے بھی ریفامز ہوئے ہیں اس پر آج تک کوئی کالم یا تجزیہ پڑھنے کو نہیں ملتا ہے اسمبلی اجلاس میں اگر ممبران کی آپس میں تلخی ہوتی ہے تووہ سرخی لگ جاتی ہے اگر عوامی فلاح وبہبود کے لئے کوئی بل منظور ہوتا ہے تو وہ صفحہ نمبر 25میں لگتی ہےوزیراعلیٰ نے کہا کہ گورننس آرڈر 2009کے تحت گلگت بلتستان کا کنسلٹیٹڈ اکاو نٹ بنانے کا اختیار حاصل تھا مگرسابق حکمرانوں کویہ توفیق نہیں ہوئی جس کے باعث صوبے کی انکم بھی وفاق کے پاس جمع ہوجاتی تھی

 وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے حکومت سمبھالنے کے بعد تین ماہ کے اندر کنسلٹیڈاکاو نٹ بنایا جس کے بعد اپنے صوبے کی انکم صوبے کے اکاونٹ میں جمع ہوجاتی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلے صوبے کی انکم 16کل سولہ کروڈ تھی آج صوبے کی انکم ایک ارب 35کروڈ روپے سالانہ انکم جمع ہوتی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابق ادوار میں ترقیاتی بجٹ لیپس ہوا تو وفاق کے اکاو ¿نٹ میں جاتا تھا آج الحمداللہ تین سال کے دوران بجٹ بھی لیپس نہیں ہوا وزیراعلیٰ نے کہا ستر سال میں انتی بڑی مقدار میں سرکاری ملازمین کی ترقیابی نہیں ہوئی تھی آج ہم نے انتی بڑی مقدار میں ملازمین کوترقیاں دی ہیں اس سے بڑھے ریفامز کیا ہوسکتے ہیں مگر بدقسمتی سے آج تک ان ریفامز پر کسی نے تحریر نہیں کیا جو کہ المیہ ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صحافی کی ذمہ داری ہے کہ فیکٹ اور حقائق عوام تک پہنچائے ۔تقریب کے موقع پر وزیراعلیٰ نے گلگت پریس کلب کے لئے پانچ لاکھ روپے کا اعلان بھی کیا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments