سرکار واقعی اندھی ہوتی ہے

تحریر: فہیم اختر 

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت بلتستان کا نواں کانووکیشن رواں ماہ یعنی جولائی کے تین تاریخ کو منعقد ہوا۔ نویں کانووکیشن یعنی تقریب تقسیم اسناد میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بطور چانسلر شرکت کی اور صدارتی کرسی پر براجمان رہے جبکہ وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن ، گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون اور وائس چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عطاءاللہ شاہ بھی سٹیج پر موجود تھے، اس تقریب میں کل 115نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباءو طالبات میں تمغے تقسیم کئے گئے جبکہ مجموعی طور پر تقریباً700طلباءو طالبات کو ڈگریاں عطا کی گئیں جن میں دو پی ایچ ڈی ڈاکٹرز بھی شامل تھے، اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو سونے اور دوسری پوزیشن پر آنے والوں کو سلور کا تمغہ عطا کیا گیا، اس ثانی الذکر کی فہرست کے درمیان میں ایک طالبعلم فہیم اختر بھی تھا جس نے شعبہ ابلاغیات (میڈیا اینڈ کمیونکیشن) میں دوسالہ ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی تھی۔

امتحانی نتیجہ سنانے کا دن اور کانووکیشن کی تقریب کا دن ایک طالبعلم کی زندگی میں ہمیشہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے،یونیورسٹی کے طلباءفراغت تعلیم اور ڈگری کے حصول کے وقت خود پر بیتے ہوئے ہر ایک لمحے کو یاد کرتے ہیں ، ہر منظر ایک عکس کی صورت آنکھوں کے سامنے آتاہے،وہ طلباءو طالبات یقینا خراج تحسین کے مستحق ہیں جو مشکل مالی حالات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھتے ہیں،یقینا ان طلباءو طالبات میں ایسے طلباءو طالبات کی اچھی خاصی تعداد بھی شامل ہوگی جن کا حال میرے لئے اجنبی نہیں ہے۔

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے نویں کانووکیشن کی تقریب بھی بڑی عجیب تھی، صدر مملکت صاحب اپنے نجی اور سیاحتی دورے پر گلگت بلتستان آنے کا فیصلہ کرچکے تھے، لگے ہاتھوں انہوں نے جامعہ قراقرم کو بھی یہ پیغام بھجوادیا کہ کوئی یادگار محفل منعقد ہوگی تو میرادورہ میرے لئے ہمیشہ یادرہے گا اور میری خواہش ہے کہ گلگت بلتستان کے اس نجی دورے سے آفیشل یادیں لیکر جاﺅں، جس پر جامعہ کی انتظامیہ نے فوری طور پر کانووکیشن منعقد کرانے کا اعلان کردیا اور انتہائی مختصر لمحے میں اعلان ہوگیا کہ اپنی اپنی رجسٹریشن کرائیں، بغیر رجسٹریشن والوں کو یونیورسٹی میں داخل ہونے بھی نہیں دیا جائیگا، رجسٹریشن کا اعلان سن کر طلباءمیں خوشی کی لہر دوڑ گئی سوائے میں اور میرے چند دوستوں کے، اس کانووکیشن میں 2013اور 2014میں بی ایس(چارسالہ) 2015اور 2016 میں ماسٹرز(دوسالہ) مکمل کرنے والوں کو ہی اہل قرار دیا گیا تھا،میں اور میرے چند دوستوں نے اپنی تھیسز جمع نہیں کرائی تھی جس کے کچھ نہیں بلکہ متعدد وجوہات تھے ،سب سے پہلی وجہ تو یہی تھی کہ ’ہم‘ نے ڈاکومنٹری بنانے کی بجائے تھیسس کا انتخاب کرلیا تھا، گوکہ ہمارا سیشن 2018 کے اوائل میں مکمل ہوچکا تھا لیکن درج بالا متعدد وجوہات کی بناءپر ہم اپنا تھیسیز جمع نہیں کراسکے تھے،ابھی رجسٹریشن کی آخری تاریخ کا اعلان نہیں ہوا تھا اور ہمیں 17جون کو طلب کیا گیا کہ اپنے تھیسیز کو پیش کریں۔ جس کے بعد ہم نے اپنی تمام مصروفیات کو عارضی طور پر ترک کرکے تھیسیز پر توجہ مرکوز کرنے کی ناکام کوشش شروع کی ، چونکہ تھیسس آخری مراحل میں تھا اس لئے ہمیں زیادہ مشکلات درپیش نہیں ہوئیں،تاہم 13جون کو ہمیں اطلاع مل گئی کہ کانووکیشن رجسٹریشن کی آخری تاریخ 14جون ہے، جو آدھی توجہ ہم نے تھیسز پر مرکوز کی تھی وہ ہم نے رجسٹریشن پر لگانی شروع کردی، قریبی بنک میں چالان جمع کرایا مگر رجسٹریشن ’نامکمل ڈگری ‘ کی بنیاد پر نہیں ہوسکی، یونیورسٹی امور کے قانونی ماہرین سے آراءطلب کی گئی کسی نے انٹرنل ایگزامنیشن کا دروازہ دکھایا ، کسی نے دوبارہ ڈیپارٹمنٹ بھجوادیا کسی نے عزیزوں کی مدد طلب کرنے کے اعلان کا مشورہ دیدیا، ان سب سے گزرنے کے باوجود بھی ناکام ٹھہر گئے۔

اگلے روز اپنے متاثرہ ساتھی نور احمد کے ہمراہ حتمی فیصلہ کیاکہ تمام مصروفیات مکمل ترک ہوںگی اور تھیسز پیش کرنے اور رجسٹریشن کرانے کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑجائیںگے، ہاتھ دھونے کے بعد اندازہ ہوا کہ پیچھے پڑنے کے لئے تو آگے کوئی بھی نہیں ہے خود ہی آگے چلنا ہے، جامعہ قراقرم کے مشہور میدان سبزہ زار میں ایک کپ چائے کی نشست پر طویل صلح مشورے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ آخری کوشش کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، یہی وہ مرحلہ تھا جس میں ہم نے روایتی صحافتی تمام حربے آزمانے کی بھی کوشش کی جسے کبھی استعمال میں نہیں لایا تھا تاہم سارے بے سود پڑ گئے،کیونکہ ٹھیک اسی روز اسلام آباد میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ کا غیر معمولی اجلاس تھا ، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطاءاللہ شاہ، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر محمد رمضان سمیت تمام زمہ داران اس اجلاس میں شریک تھے،عجیب سااتفاق تھا کہ انہی دنوں میں ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسن صاحبہ اپنے چھٹیوں پر تھی جس کی وجہ سے چیئرپرسن کے اختیارات بھی ڈین صاحب کے پاس تھے تاہم انچارج شعبہ ابلاغیات کی زمہ داریاں سرراشد حسین صاحب کے پاس تھیں ،سرراشد نے یہ اطلاع ضرور دی تھی کہ ہمارے تھیسز پیش کرنے کے دن کو آج کے روز ہی مختص کرنے کی درخواست بذریعہ ای میل ڈین صاحب کو بھجوادی ہے تاہم جواب موصول نہیں ہوا ہے ،اڑھائی بجے کا وقت تھا جب ہمیں اطلاع ملی کہ آج تین بجے تھیسز پیش کرنے کی منظوری مل گئی ہے، ہمارے سپروائزر سرشمس الرحمن صاحب نے یہ خبر پانچ فٹ کے فاصلے پر ہی ہمیں ٹیلی فونک سنادی اور ساتھ میں ہدایت دئ کہ آدھے گھنٹے میں اپنی تھیسز کو پرنٹ بھی کروالو اور پریزینٹیشن بھی تیار کرلوکیونکہ پریزینٹیشن میں ڈاکٹر آصف صاحب اور احمرسہیل بصرا صاحب بھی ہونگے ۔

یہی وہ مرحلہ تھا جس میں ہمارے ایک دوست آصف خان کی گراں قدر خدمات ہمیں مل گئی جو اپنے کاروباری معاملات سے فراغت پاکر یونیورسٹی نووارد ہوئے تھے،جنہوں نے رجسٹریشن کے دیگر لوازمات پورے کرنے کی ایسی زمہ داری اپنے سر پر لے لی جو صرف وہی ادا کرسکتے تھے، انتہائی عجلت میں تیار کردہ پریزینٹیشن کے دوران متعدد مواقعوں پر ڈاکٹر آصف صاحب اور احمر سہیل بصرا کھلکھلانے کی بجائے کھل کر ہنسے ، جبکہ ہمیں صرف مسکرانا تھا۔

صدر مملکت کی آمد سے لیکر سٹیج میں اپنا نام سننے تک اور سٹیج میں جاکر میڈل حاصل کرنے تک ہمیں اس بات کی تصدیق نہیں ہورہی تھی کہ اس کانووکیشن میں ہم بھی شریک ہیں، عزیز الرحمن ملنگی گوکہ کئی زاویوں سے ہمارا مقروض تھا لیکن کچھ وعدے تھے جو پورے نہیں ہوئے تھے، کانووکیشن کے روز ہمیں سکالرز کے لباس گاﺅن میں دیکھ کر عزیز الرحمن ملنگی نے بڑے احترام سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو بھی ڈگری مل رہی ہے؟میں نے عزیز الرحمن ملنگی سے سینہ ملتے ہوئے فخریہ انداز میں کہا کہ دوسال کی محنت آخر کار رنگ لے ہی آئی ہے اور آج ہمیں بھی ڈگری ملے گی،جس پر عزیز الرحمن ملنگی ، جو کہ شینا کے ان پڑھ مگر بلند پایہ شاعر ہیں، نے طنزاً بلکہ ادھورے وعدوں کی عدم تکمیل پر کہا کہ ’آج مجھے یقین ہوگیا کہ سرکار واقعی اندھی ہوتی ہے۔’

میں ایک روایتی تحریر کی جانب گامزن تھا لیکن بیچوں بیچ قلم لڑکھڑا گیا میں وہ داستان رقم کرنا چاہتا تھا کہ جو دوران طالبعلمی بیتی ہے، لیکن سفید پوشی ایک ایسی مرض ہے جو حقیقت کو سامنے آنے نہیں دیتی ہے۔میں سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا لیکن اس تک اہلیت پانے کے لئے کن مراحل سے گزرا اس پر قلم خود ڈگمگاگیاکیونکہ نامہ اعمال میں صرف کارستانیاں تھیں جس میں ترمیم نہیں ہوسکتی تھی اورصرف حذف کرنا ممکن تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments