انتخابات 2026، دیامر میں دیگر اضلاع سے بھیجی گئی خواتین پولنگ اسٹاف کی شکایات
کالم: قطرہ قطرہ
دیامر گلگت بلتستان کا وہ ضلع ہے جہاں خواتین کی تعلیمی شرح پانچ فیصد سے بھی کم بتائی جاتی ہے۔ یہ صورتِ حال صرف تعلیمی پسماندگی تک محدود نہیں بلکہ خواتین کے سماجی اور سیاسی کردار پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ ماضی میں اس علاقے میں خواتین کے حقِ رائے دہی کا مسئلہ بھی انتہائی پیچیدہ رہا ہے۔ بعض علاقوں میں پولنگ عملے کی عدم دستیابی کے باعث امیدوار اور مقامی جرگے انتخابات کے دن ووٹرز لسٹوں کے مطابق ووٹوں کی غیر رسمی تقسیم پر اتفاق کر لیتے تھے، جس سے عملی طور پر انتخابی عمل متاثر یا غیر فعال ہو جاتا تھا۔
مزید یہ کہ کئی علاقوں میں یہ سوچ بھی موجود رہی ہے کہ خواتین کا ووٹ ڈالنے کے لیے گھر سے نکلنا مقامی روایات کے خلاف ہے یا اسے سماجی و مذہبی طور پر درست نہیں سمجھا جاتا۔ اسی مزاحمت اور دباؤ کے باعث خواتین کی انتخابی عمل میں شمولیت ہمیشہ ایک مشکل اور حساس معاملہ رہا ہے۔ 2015 کے بعد جب سول سوسائٹی نے اس صورتحال کی نشاندہی کی تو گلگت، استور اور دیگر اضلاع سے خواتین پولنگ اسٹاف کی دیامر کے مختلف حلقوں میں تعیناتی کا سلسلہ شروع کیا گیا تاکہ خواتین ووٹرز کے حقِ رائے دہی کو عملی طور پر یقینی بنایا جا سکے۔
تاہم یہ انتظام بھی ہر انتخابات میں مشکلات اور تنازعات سے خالی نہیں رہا۔ مختلف مواقع پر تعینات ہونے والی خواتین اہلکاروں نے اپنے تجربات کو دباؤ، عدم تحفظ اور انتظامی بے ترتیبی سے بھرپور قرار دیا ہے۔ بعض اہلکاروں کے مطابق انہیں ڈیوٹی سے انکار کی صورت میں معطلی کی دھمکیاں دی گئیں، جبکہ اضافی الاؤنس اور سہولیات کے وعدوں کے ساتھ انہیں دور دراز اور مشکل علاقوں میں تعینات کیا گیا۔ بعد ازاں متعدد مرتبہ یہ وعدے، خصوصاً ٹی اے ڈی اے اور دیگر مراعات، مکمل طور پر پورے نہیں کیے گئے۔
7 جون 2026 کے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے دوران بھی یہی صورتحال سامنے آئی، جب دیگر اضلاع سے 58 خواتین انتخابی اہلکاروں کو حلقہ جی بی اے 15 دیامر میں تعینات کیا گیا۔ ان میں سے صرف 30 اہلکاروں نے عملی طور پر خدمات انجام دیں۔ یہ وہ خواتین پولنگ اسٹاف تھیں جو گلگت شہر کے تین کالجز سے بھیجی گئیں تھیں، جبکہ باقی کو مختلف وجوہات کے باعث تعیناتی سے روک دیا گیا یا ان کی پوسٹنگ تبدیل کر دی گئی۔ اگر یہی تناسب دیامر کے دیگر حلقوں میں بھی رہا ہو تو مجموعی طور پر یہ تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک حلقے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع انتظامی ناکامی ہے۔
خواتین اہلکاروں کے مطابق سب سے مشکل تجربہ طویل وقت تک پولنگ اسٹیشنز میں محصور رہنا تھا۔ بعض مقامات پر انہیں رات گئے تک پولنگ اسٹیشنز میں ہی رہنا پڑا، جہاں بنیادی سہولیات اور محفوظ ماحول دونوں ناپید تھے۔ بعض مقامات پر کشیدگی کی وجہ سے وقت سے پہلے پولنگ بند کر دی گئی۔ کئی پولنگ اسٹیشنز میں واش روم جیسی بنیادی سہولت موجود نہیں تھی، جبکہ کئی جگہوں پر کھانے پینے اور مناسب بیٹھنے کے انتظامات بھی انتہائی ناقص تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ آمد و رفت کے محدود راستوں کے باعث بعض پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کے درمیان شدید رش اور بدنظمی پیدا ہوئی، حتیٰ کہ لوگ گتھم گتھا ہونے کی صورتحال تک پہنچ گئے۔
مزید یہ کہ ابتدائی مرحلے میں بعض اہلکاروں کو رات کے وقت خود آ کر بیلٹ پیپرز اور انتخابی مواد وصول کرنے کی ہدایت دی گئی، جس نے ان کے سیکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ کر دیا۔
اسی طرح ناقص ٹرانسپورٹ، غیر منظم انتظامات اور موبائل نیٹ ورک کی کمزوری نے ان کے لیے مشکلات کو مزید بڑھا دیا۔ کئی اہلکاروں کو طویل انتظار، دشوار گزار سفر اور رابطے کی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
سیکیورٹی کے حوالے سے بھی متعدد شکایات سامنے آئیں۔ بعض اہلکاروں کے مطابق انہیں دھمکیوں، دباؤ اور ہراسانی جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا، جس نے ان کے لیے کام کا ماحول غیر محفوظ بنا دیا۔ بعض مقامات پر سیکیورٹی اہلکاروں کی کمی یا بروقت رسپانس نہ دینے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔
رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ طویل ڈیوٹی اوقات اور غیر مناسب انتظامات نے خواتین اہلکاروں کی جسمانی اور ذہنی تھکن میں اضافہ کیا۔
مالی مراعات اور ٹی اے ڈی اے کی عدم ادائیگی بھی ایک بڑا مسئلہ رہی۔ اہلکاروں کے مطابق اعلان کردہ اضافی الاؤنسز اور مراعات تاحال مکمل طور پر ادا نہیں کی گئیں، جس سے ان کا ادارہ جاتی اعتماد بھی متاثر ہوا۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایک حلقے میں 58 میں سے صرف 30 خواتین اہلکاروں کی عملی تعیناتی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نظام میں شفافیت اور میرٹ کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔
یہ تمام تجربات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ خواتین انتخابی عملے کے تحفظ، وقار اور سہولت کے لیے ناکافی ہے۔ ان شکایات اور مسائل کے باوجود مؤثر شنوائی اور اصلاحی اقدامات کا نہ ہونا صورتحال کو مزید تشویشناک بناتا ہے۔
یہ پورا معاملہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کی مکمل، آزاد اور شفاف تحقیقات کی جائیں، تمام ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور آئندہ کے لیے واضح، سخت اور قابلِ عمل اقدامات کیے جائیں۔ ان میں بہتر سیکیورٹی انتظامات، شفاف تعیناتی کا نظام، بروقت مالی ادائیگیاں، معیاری رہائش و ٹرانسپورٹ اور خواتین عملے کے تحفظ و وقار کی یقینی ضمانت شامل ہونی چاہیے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ وہی خواتین ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر مشکل علاقوں میں جا کر وہاں کی مقامی خواتین کے ووٹ کے حق کو یقینی بنانے میں کردار ادا کیا۔ الیکشن ایکٹ کے تحت جہاں دس فیصد سے کم خواتین کے ووٹ کی شرح ہو وہاں الیکشن کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ اگر یہ خواتین وہاں نہ جاتیں تو وہاں الیکشن ہی ممکن نہ ہوتا۔ اس لیے الیکشن کمیشن، انتظامیہ، حکومت، تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے امیدوار ان بہادر خواتین سے معذرت کریں، بدانتظامی کے ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کریں، متاثرہ خواتین کو معاوضہ ادا کرکے تلخیوں کا ازالہ کریں اور انہیں ایوارڈز سے نواز کر ان کی خدمات کا اعتراف کریں تاکہ آئندہ خواتین مشکل مقامات پر خدمات سرانجام دینے میں جھجک محسوس نہ کریں۔
اگر اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا گیا تو نہ صرف خواتین اہلکاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ مستقبل میں ان کی انتخابی عمل میں شمولیت مزید متاثر ہوگی، جو جمہوری نظام کی شفافیت اور ساکھ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔





