جنیفر پر نہیں بلکہ تنقید طبقاتی نظام پر ہونی چاہئے۔
کالم :قطرہ قطرہ
پاکستان میں جب بھی کوئی نئی عوامی شخصیت سامنے آتی ہے، تو اس کے نظریات، کارکردگی یا عوامی خدمت پر بحث کم اور اس کے لہجے، لباس، زبان یا پس منظر پر گفتگو زیادہ ہونے لگتی ہے۔ خاص طور سے ایک خاتون کسی شعبے میں نمایاں کردار بن کر سامنے آتی ہے تو اس کی کارکردگی سے زیادہ اس کا حالیہ اور زبان و بیان زیادہ ہدف تنقید بنتا ہے۔ یہ صنفی امتیاز کی ایک شکل ہونے کے ساتھ منفی ذہنیت کی علامت بھی ہے ۔ حالیہ دنوں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی کم عمر ترین اور پڑھی لکھی نومنتخب رکن اسمبلی جنیفر بھی اسی روایت کا شکار ہیں۔ ان پر اعتراض کیا جا رہا ہے کہ وہ اسمبلی کے اندر انگریزی میں گفتگو کرتی ہیں، گویا اصل مسئلہ ان کی زبان ہے، نہ کہ وہ نظام جس نے انگریزی کو اقتدار، تعلیم، ملازمت اور سماجی برتری کی علامت بنا دیا ہے۔
یہ سوال صرف جنیفر کا نہیں، پاکستان کے لسانی، تعلیمی اور ریاستی ڈھانچے کا سوال ہے۔ اگر ریاست خود انگریزی میں سوچتی، لکھتی اور فیصلے کرتی ہے تو پھر کسی فرد کو انگریزی استعمال کرنے پر موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہیں، بلکہ ایک گہری اجتماعی منافقت ہے۔
پاکستان کا آئین اردو کو قومی زبان قرار دیتا ہے، مگر قومی زبان ہونا اور ریاستی زبان ہونا دو مختلف حقیقتیں ہیں۔ سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اردو مکمل طور پر دفتری، عدالتی اور انتظامی زبان نہیں بن سکی۔ آج بھی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے، سرکاری قوانین، پالیسی دستاویزات، وزارتوں کی فائلیں، سول سروس کے امتحانات، بیوروکریسی کی خط و کتابت اور جامعات کی بڑی علمی سرگرمیاں انگریزی میں انجام پاتی ہیں۔ اس عملی حقیقت کو نظرانداز کرکے کسی فرد کی زبان پر اعتراض کرنا مسئلے کی جڑ سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی بیشتر آئینی، قانونی اور سرکاری تقاریر انگریزی میں تھیں۔ دستور ساز اسمبلی میں ان کے تاریخی خطابات بھی اسی زبان میں ہوئے، کیونکہ اس وقت ریاستی اور قانونی نظام کی زبان انگریزی تھی۔ لہٰذا انگریزی میں گفتگو کو حب الوطنی یا قومی شناخت کے خلاف قرار دینا نہ تاریخ سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی عقل و انصاف سے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں انگریزی ایک زبان سے بڑھ کر سماجی حیثیت، طاقت اور مواقع کی علامت بن چکی ہے۔ بہتر تعلیم، اچھی ملازمت، اعلیٰ سرکاری عہدہ یا عالمی سطح پر نمائندگی، ہر جگہ انگریزی کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ دوسری طرف اردو اور مقامی زبانیں جذباتی نعروں میں تو قابلِ احترام قرار دی جاتی ہیں، لیکن ریاستی پالیسیوں میں انہیں وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کی وہ حق دار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو اب خواص کی نہیں بلکہ عوام کی زبان بن کر رہ گئی ہے جب کہ درجنوں مقامی زبانیں معدومیت کا شکار ہیں ۔ یہ تضاد کسی ایک فرد نے پیدا نہیں کیا؛ یہ ہماری اجتماعی پالیسیوں اور ترجیحات کا نتیجہ ہے۔ ہمارا سارا تعلیمی نظام انگریزی کو فروغ دے رہا ہے ۔ آنے والے وقتوں میں ہر نوجوان انگریزی سمجھے گا اور بولے گا کیونکہ اب پڑھے لکھے لوگ گھروں میں بچوں کے ساتھ انگریزی میں ہی بات کرتے ہیں، ماضی میں اردو بولنے والے لوگ عام لوگوں کے مقابلے میں خود کو مہذب سمجھتے تھے ، اب سب اردو بولنے لگے تو خواص انگریزی کی طرف گئے ہیں۔ یہ روایت بہت پرانی ہے ، یہاں جب چھوٹی ریاستیں قائم تھیں تو حکمران طبقے کی زبان یا کم از کم الفاظ عام لوگوں سے مختلف ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ عام لوگوں نے بھی وہ زبان سیکھ لی تو خواص نے مزید نئی زبانیں سیکھ لیں۔ زبان کی بنیاد پر خود کو باقی لوگوں سے الگ کرنے کی روایت نے یہ ذہنیت بھی تشکیل دی کہ شاید زبان طاقت کا زریعہ ہے۔ ظاہری بات ہے طاقتور طبقے کی زبان بھی طاقتور لگنے لگی۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
زبانوں کی بات کرتے ہوئے پھر ایک اور منظرنامہ بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں غیر معمولی لسانی تنوع پایا جاتا ہے۔ ملک میں ساٹھ سے زائد مقامی زبانیں بولی جاتی ہیں، جبکہ صرف گلگت بلتستان میں شینا، بلتی، بروشسکی، وخی، کھوار، گوجری اور ڈوماکی سمیت متعدد زبانیں صدیوں سے زندہ ثقافتی روایت کی امین ہیں۔ ان میں سے بیشتر زبانوں کے بولنے والے ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو یہاں ایک مشترکہ رابطے کی زبان کے طور پر استعمال ہوتی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو خود کبھی مکمل ریاستی اور دفتری زبان نہیں بن سکی، اس پر مستزاد یہ کہ ملک کی ایک قابل ذکر ابادی اب بھی اچھی طرح اردو بول اور سمجھ نہیں سکتی۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ گلگت بلتستان کے بہت سے علاقوں میں آج بھی بڑی تعداد میں لوگ ایسے ہیں جو اردو سے زیادہ اپنی مادری زبان میں اظہار اور ابلاغ پر قادر ہیں۔ اگر جنیفر اپنی مادری زبان بروشسکی میں خطاب کریں تو خود گلگت بلتستان کی ایک بڑی آبادی ان کی بات نہیں سمجھ سکے گی۔ اسی طرح اگر وہ شینا یا بلتی میں گفتگو کریں تو دوسرے لسانی گروہوں کے لیے ترجمہ ناگزیر ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی زبان پر پابندی لگا دی جائے، بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ترجمے اور کثیر لسانی ابلاغ کو فروغ دیا جائے۔
دنیا اسی اصول پر چل رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور متعدد بین الاقوامی فورمز پر مختلف زبانوں میں تقاریر کی جاتی ہیں اور بیک وقت ترجمے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے تو اس عمل کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ آج چند لمحوں میں تقریر کا ترجمہ متعدد زبانوں میں ممکن ہے۔ ایسے دور میں زبان کو تنازع بنانا علمی اور فکری پسماندگی کی علامت ہے، نہ کہ قومی شعور کی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ انگریزی آج سائنس، تحقیق، سفارت کاری، تجارت اور بین الاقوامی رابطے کی اہم ترین زبان ہے۔ اگر گلگت بلتستان کے کسی دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون اعتماد کے ساتھ اس زبان میں اپنی بات دنیا تک پہنچا سکتی ہے تو اسے تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ اس کی گفتگو صرف پاکستان تک محدود نہیں رہتی بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ یہ کسی فرد کی نہیں بلکہ علاقے کی نمائندگی کا ایک مثبت پہلو بھی ہے۔
البتہ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ عوامی نمائندوں کو عوام سے ان کی زبان میں رابطہ استوار کرنا چاہیے۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ مؤثر ابلاغ کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ اس لیے جنیفر سمیت ہر عوامی نمائندے کو چاہیے کہ وہ اردو اور مقامی زبانوں میں بھی اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کرے تاکہ عوام سے اس کا تعلق مزید مضبوط ہو۔ لیکن اس جائز توقع کو کسی زبان کے خلاف نفرت یا تمسخر میں تبدیل کرنا نہ دانش مندی ہے اور نہ جمہوری رویہ۔
اصل سوال یہ نہیں کہ جنیفر انگریزی کیوں بولتی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر اردو ریاست کی زبان ہے تو پھر ریاست خود اس پر مکمل اعتماد کیوں نہیں کرتی؟ اگر مقامی زبانیں ہماری ثقافتی شناخت ہیں تو انہیں تعلیم، تحقیق، میڈیا اور سرکاری اداروں میں مناسب مقام کیوں حاصل نہیں؟ جب تک ان سوالات کے جواب نہیں ڈھونڈے جاتے، تب تک ہر چند ماہ بعد کسی نہ کسی فرد کی زبان کو موضوع بنا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹائی جاتی رہے گی۔
زبان کبھی مسئلہ نہیں ہوتی، مسئلہ وہ نظام ہوتا ہے جو زبان کو اختیار، طاقت اور طبقاتی برتری کا معیار بنا دیتا ہے۔ ایک باشعور معاشرہ زبانوں سے خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ ان کے تنوع کو اپنی فکری اور ثقافتی دولت سمجھتا ہے۔ ہمیں بھی اسی سمت بڑھنا ہوگا، جہاں ہر شہری کو اپنی پسند کی زبان میں اظہار کا حق حاصل ہو، مقامی زبانوں کو ان کا جائز مقام ملے، اردو حقیقی معنوں میں ریاستی زبان بنے اور انگریزی کو علم اور عالمی رابطے کے ایک وسیلے کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کے طور پر۔
اس لیے بحث کا مرکز جنیفر نہیں ہونی چاہیے۔ جنیفر پر تنقید کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے ۔ جنیفر نوجوان ہیں وقت کے ساتھ ان کی سیاست اور ابلاغ میں تنوع اور مضبوطی آئے گی۔ اصل سوال ہمارا وہ لسانی اور طبقاتی نظام ہے جس نے زبانوں کو شناخت کے بجائے تفریق کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ جس دن ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں گے، شاید اسی دن زبان اختلاف کا سبب نہیں بلکہ مکالمے کا پل بن جائے گی





